قلم کی قسم/راجہ شہزادخان

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیساتھ ایک یاد گار نشست

یہ کالم آج سے تقریبا تین سال قبل لکھا تھا جب اٹیمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات ہوئی تھی گزشتہ دنوں نیوز ویب سائٹ سٹیٹ ویوزکی سافٹ لانچنگ کیلئے محسن پاکستان ڈاکٹرعبدالقدیرخان سے ملاقات کاشرف حاصل ہوا۔اس موقع پر سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹرسید خالدگردیزی اورراجہ منصوربھی موجود تھے۔ ملاقات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ادارے کیلئے جہاں نیک خواہشات کا اظہارکیاوہاں ٹیم کو ہدایات دیتے ہوئے سٹیٹ ویوزکو جانبدار اور غیرجانبداری سے کام لینے پر زور دیا۔

اس سے پہلے پریس کانفرنس یا کسی تقریب میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوچکی تھی تاہم پہلی باران کیساتھ قدرے تنہائی میں مل بیٹھنااوران کو سننے کاموقع ملا۔ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کیلئے آدھے گھنٹے کاوقت مختص تھاجس میں سٹیٹ ویوز کی سافٹ لانچنگ سے متعلق رسمی کارروائی ہوناتھی لیکن لگ بھگ تین گھنٹے ان کیساتھ پلک جھپکتے گزرگئے۔دوران گفتگو جن جن باتوں کا ڈاکٹر صاحب نے ذکرکیا ان میں سے اکثر باتیں صیغہ راز ہی رہیں گی تاہم اہم نوٹ یہ کہ ڈاکٹر صاحب سے جب میں نے پوچھا کہ کشمیرکوبھارت کے چنگل سے چھڑانے کیلئے کیاپاکستان کوایٹمی طاقت کامظاہرہ کردیناچاہئے؟اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے غور سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اٹیم بم کااستعمال ممکن ہے لیکن کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان اٹیم بم کااستعمال کرتا ہے توکیا بھارت نہیں کرے گا؟بھارت بھی ایٹمی ملک ہے ہمارے چارصوبے اور بھارت کے 26 صوبے ہیں۔

پاکستان اگرلڑائی کرتا ہے تو بھارت ایک منٹ بھی لڑنے میں دیر نہیں لگائے گا ۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت ہر لحاظ سے بڑا ملک ہے اور دوسری بات اب جنگیں مسئلے کا حل نہیں رہیں۔ مسئلہ کشمیر کا حل جنگ کے بغیر بھی ممکن ہے۔ پرویز مشرف کے چار نکاتی فارمولے کے تحت مسئلہ کشمیر حل ہوتا ہوانظر آرہاتھا لیکن مشرف اورعدلیہ کی لڑائی کے باعث پاک بھارت معاہدہ نہ ہوسکاجس پر بھارت راضی تھا۔اب کشمیریوں کیلئے بہترہے کہ وہ فی الحال زیادہ سے زیادہ اندرونی خودمختاری بارے سوچیں یااندرونی خود مختاری لیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے دوران گفتگو بتایاکہ ذوالفقارعلی بھٹو کے کہنے پر پاکستان آیااور جب پاکستان پہنچا تو ایف ایٹ میں ایک گھر میں رہائش دی گئی جہاں ہر طرف جنگل ہی جنگل تھا۔ بہت مشکل سے ہمیں کھانے پینے کی اشیاملتی تھیں۔

پہلی تنخواہ چھ ماہ بعد تین ہزارروپے ماہواردی گئی۔ہمیں تنخواہ اورمراعات سے زیادہ اس بات کاجنون تھا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بناناہے اٹامک کمیشن غیر فعال تھا ۔اٹیمی پروگرام پر کام شروع کیا تو کام کو سمجھنے والامیرے سوا کوئی بھی موجود نہ تھا ہم نے سائنسدانوں کی ٹیم بنائی اوردن رات محنت کی اوردنیانے دیکھاکہ ہم نے ایک پسماندہ ملک کو ایٹمی طاقت بنادیا۔ جب 2001میں ریٹائر ہوا تو مجھے4461روپے پینشن دی گئی جو اب بڑھتے بڑھتے 86000 تک پہنچ چکی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس وقت کی سیاسی اورعسکری قیادت نے جیسا کہا میں نے کیا۔بعدازاں مجھے ایک بند کمرے میں کیمرے کے سامنے ذدوکوب کر کے بیٹھادیا گیا اورایک کاغذ کا ٹکرا تھماتے ھوئے کہاگیا کہ آپ یہ پڑھ لیں باقی ہم سنبھال لیں گے۔میں نے ان کی بات پر عمل کرتے ہوئے وہی کیا جس کا مجھے کہا گیا اس کے بعد مجھے اپنے گھر ڈراپ کیا گیا تو میرے گھرکی ٹیلی فون تار، ٹیلی ویژن سب کچھ بند کردیاگیامیرا کسی سے کوئی رابطہ نہ تھابعد میں معلوم ہواکہ مجھے قربان کردیاگیاہے۔لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ مصحف علی میرکوبھی اڑایا گیا کیونکہ وہ نہیں چاھتے تھے کہ پاکستان اپنے ائیربیس دوسروں ممالک کو دے۔یوں لگتاہے کہ پرویز مشرف نے اپنے اقتدارکودوام بخشنے کیلئے سپرپاورزکوخوش کیا ڈاکٹر صاحب سے جب یہ پوچھا کہ پاکستان کی ترقی کیسے ممکن ھے اور کیاکوئی ایسی سیاسی جماعت ہے جو پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ کر سکے

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ اس وقت جو سیاسی جماعتیں پاکستان میں موجود ہیں سب کرپٹ اور چور ہیں مجھے ان میں سے کوئی ایک جماعت پاکستان کے ساتھ مخلص نظرنہیں آتی۔ ڈاکٹر صاحب نے دوران انٹرویو بتایا کہ میں اپنی مرضی سے کہیں نہیں جا سکتا اسلام آباد سے باہر جانا چاہوں تو باقاعدہ اجازت لینی پڑتی ہے میرے لئے کئی سے تحفہ یا پھول یا کوئی کتاب آتی ہے تو باقاعدہ اسکی چیکنگ کی جاتی ہے ہم نے ایٹم بم اس لئے بنایا تھاتاکہ دفاع پرخرچ ہونیوالے بجٹ میں کمی آئے اورجواخراجات دفاع پرہورہے ہیں وہ صحت اورتعلیم کے شعبوں پر خرچ ہوں لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ ڈاکٹر صاحب کی باتیں سن کردل پرچکی چل رہی تھی۔ ماناکہ ڈاکٹرصاحب کو سیکورٹی ایشوز کا سامنا ہے اوردنیاکے بڑے سائنسدان کوسیکورٹی فراہم کرناملک کی ذمہ داری ہے لیکن قید اورحفاظت میں فرق روار کھا جاناچاہیئے تھا۔

معمولات زندگی میں ان کی خواہشات اوراحساسات کااحترام ہوناچاہئے تھا۔ جس شخص کی خدمات کا اعتراف دشمن ملک بھی کررہا ہو اسے محض 86000 پینشن دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی جارہی ہو۔ ڈاکٹر صاحب کی رہائش کے چند فرلانگ کے فاصلے پر ججز کالونی میں رہائش پذیر ایک ایک ریٹارئر جج ماہانہ آٹھ سے دس لاکھ پینشن اور دیگر مراعات لے رہاہے جن کی خدمات صرف یہی ہیں کہ سینکڑوں فائلیں ہیں جنہیں وہ دیکھ بھی نہ سکے اور ان فائلوں پر اب گردکی تہیں جمی ہوئی ہیں۔انصاف کے متلاشی در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ایک ریٹائرڈ جنرل لاکھوں روپے پنشن اور دیگر مراعات لے کر زندگی انجوائے کرتا ہے۔ بیوروکریٹس اور سیاسی پنڈت جن کی گردنوں تک کرپشن دھنس چکی ہو وہ اپنے گھر میں مزے کررہے ہوں اورچلتے پھرتے ہوں۔

جس شخص نے پاکستان کو دنیا کاساتواں اوراسلامی دنیاکا پہلاایٹمی ملک بنایاوہ کسمپرسی کی زندگی گزاررہاہے ہو اورگھٹ گھٹ کرزندگی بسر کررہا ہو۔ سیکورٹی اوردیگر معاملات اپنی جگہ لیکن ان سطور میں یہ کہنامقصودہے کہ ڈاکٹرصاحب کوحکومتی سطح پرخصوصی عزت واحترام ملنی چاہیے تھی۔ انہیں خوش وخرم اپنی زندگی گزارنے کاموقع ملناچاہیئے تھا۔انہیں محسوس ہوناچاہئے کہ وہ اس ملک کے ایٹمی سائنسدان ہیں وہ کوئی مجرم یاگلوبٹ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں