نقطہ نظر/باسط علی عباسی

ٹریفک حادثات اورحکومتی ذمہ داریاں

آزاد کشمیر سرسبز وادیوں،گھنے جنگلات،اونچے پہاڑوں،ڈھلوان راستوں کا مسکن ہے۔ آزاد کشمیر وہ علاقہ ہے جو اسی فیصد پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے۔ جہاں پر سفری سہولیات بمشکل طے کی جاتی۔ یہاں کی سڑکیں تنگ اور خوف ناک ہیں۔ لوگ سفر کے دوران کے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے نظر آتے۔ اس قدر مشکلات کے باوجود ہمارے ٹرانسپورٹر حضرات کسی خوف و خطر کو خاطر میں لائے بغیر گنجائش سے زائد سواریاں گاڑیوں میں سوار کرتے۔ گزشتہ ستر سالوں میں ہزاروں ایسے حدثات ہوچکے ہیں جن میں اوور لوڈنگ کے باعث گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور بڑی تعداد میں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔

25 تاریخ کو آزاد کشمیر کے اندر دو ٹریفک حادثات رونما ہوئے۔ پہلاکھائی گلہ کے مقام پر جہاں ایک سکول وین ٹرک سے ٹکرانے کے بعد کھائی میں جاگری جس میں چار بچے شہید جبکہ 15 سے زائد بچے شدید زخمی ہیں دوسرا واقعہ نیلم کے مقام پر پیش آیا جہاں ایک ٹیوٹا کھائی میں جاگرا۔

اکثر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے سکولوں میں شفٹوں والی گاڑیاں اوور لوڈ ہوتی۔ ایک ٹیوٹے میں اٹھارہ سواریوں کی گنجائش ہوتی مگر ڈرائیورز پینتیس سے چالیس اسٹوڈنٹس کو سوار کرتے۔ اسٹوڈنٹس کو گاڑیوں کی چھتوں پر بھی بٹھایا جاتا۔ اسی طرح ایک کیری ڈبے میں 8 سواریوں کی گنجائش ہوتی مگر پندرہ سے بیس اسٹوڈنٹس کو گھسایا جاتا۔ ایسا صرف اس لیا کیا جاتا تاکہ آمدن زیادہ ہو۔

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ہمارے والدین بھی کبھی اس طرف توجہ نہیں دیتے ہم بچوں کا کرایہ تو پورا ادا کرتے مگر ہمارے بچے کس حالت میں سکولوں اور کالجوں کا رخ کرتے۔ اس کالم کے توسط سے راقم الحروف حکومت آزاد کشمیر سے التماس کرتا ہوں کہ سب سے پہلے تو سڑکات کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کے اندر اصطلاحات لائی جائیں۔ بلخصوص سکولوں و کالجوں میں شفٹیں رن کرنے والی گاڑیوں کے متعلق ضلعی و تحصیل انتظامیہ کی مدد سے طریقہ کار وضع کیا۔

تمام گاڑیوں والوں کو پابند کیا جائے کہ گنجائش سے زیادہ اسٹوڈنٹس کو نہ بٹھایا جائے۔ علاوہ ازیں والدین کو بھی باور کروانے کے لیے یونین کونسل کی سطح پر سیمنارز کروائے جائیں بصورت دیگر کھائی گلہ حادثے جیسے ہزاروں حادثات ہوتے رہیں گے۔ آئے روز ہماری مائیں جواں سال بیٹوں اور بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے دفن کرتی رہیں گی۔ دست دعا ہوں کہ اللہ تعالی وین حادثہ میں شہید ہونے والے بچوں کی کامل مغفرت فرمائے اور والدین کو صبر جمیل عطا کرے۔آمین!

اپنا تبصرہ بھیجیں