ٹی 20ورلڈ کپ؛ شاہین بے وفا کیویز پرجھپٹنے کوتیار

دبئی(ویب ڈیسک)بھارتی غرور پاش پاش کرنے کے بعد شاہین اب بے وفا کیویز پر جھپٹنے کو تیار ہیں لہذا حساب چکتا کرنے کا وقت آ گیا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اتوارکو پاکستان نے بھارت کو دس وکٹ کی عبرتناک شکست سے تاریخ رقم کر دی، پہلی بار میگا ایونٹ میں روایتی حریف کو ہرانے والی ٹیم کے نشانے پر اب منگل کو کیویز ہوں گے۔

گزشتہ ماہ وہ بے بنیاد سیکیورٹی خدشات پر پاکستان سے واپس چلے گئے تھے، ان کے بعد انگلینڈ نے بھی ٹور سے معذرت کر لی تھی،

گرین شرٹس اپنے میدان ویران ہونے اور ورلڈکپ کی تیاریاں متاثر کرنے پر نیوزی لینڈ سے سخت ناراض ہیں، اب انھیں حساب برابر کرنے کا اچھا موقع مل گیا ہے۔

شارجہ کی پچ پر آئی پی ایل کے دوران زیادہ رنز نہیں بن سکے تھے، چھوٹے گرانڈ پر روایتی طور پر بڑے اسکور بنتے رہے ہیں،

البتہ ورلڈکپ میں سری لنکا نے بنگلہ دیش کے خلاف 172 کا ہدف 7 بالز قبل حاصل کر لیا تھا،میچ میں 11 چھکے لگے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی سی سی کے کیوریٹرز پچ کو پرانے رنگ میں واپس لے آئے ہیں۔

تاریخ میں پہلی بار گرین شرٹس کو ورلڈکپ میں روایتی حریف پر فتح ملی ہے،اس سے کھلاڑیوں کا جوش آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا، وہ ایک اور فتح سے سیمی فائنل میں رسائی کا امکان روشن کرنے کیلیے پرعزم ہیں۔

گزشتہ میچ میں شاہین شاہ آفریدی کے زبردست ابتدائی اسپیل نے بھارتی بیٹنگ کی کمر توڑ دی تھی، اب ایک بار پھر ٹیم کو ان سے ویسی ہی بولنگ کی امیدیں ہیں،حسن علی تھوڑے مہنگے ثابت ہوئے لیکن ان سمیت پیسر حارث رف نے بہتر بولنگ کی تھی، اسپنرز عماد وسیم، شاداب خان اور محمد حفیظ نے بھی اپنا کردار بخوبی نبھایا۔

پاکستانی بولنگ اٹیک کیویز پر بھی قابو پانے کیلیے بے چین ہے، بیٹنگ میں ریکارڈ ساز اوپننگ شراکت بنانے والے بابر اعظم اور محمد رضوان ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ٹیم کیلیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، البتہ باقی بیٹنگ لائن کو ضرورت پڑنے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

گزشتہ روز گرین شرٹس نے آرام کیا، بھارت سے میچ میں فتح کے بعد کپتان بابر اعظم نے کھلاڑیوں کو سراہا ساتھ ہی سہل پسندی سے دور رہنے کا بھی مشورہ دے دیا، انھوں نے کہا کہ کسی ایک کی پرفارمنس سے نہیں بلکہ بطور ٹیم ہم جیتے ہیں، ابھی توآغاز ہے

کامیابی سے لطف اندوز ضرور ہوں مگر اس کو ذہن پر سوار نہ کریں،یہ میچ گذر گیا آگے ہمیں ابھی مزید بہت میچز کھیلنے ہیں،ہمارا ایک ہی مقصد ورلڈکپ جیتنا ہے، کسی بھی وقت ہم ریلکیس نہیں ہوں گے، سب کو اپنا سو فیصد پرفارم کرنا ہوگا۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم حالیہ فارم کی وجہ سے پریشان ہے، وارم اپ میچز میں اسے آسٹریلیا اور انگلینڈ دونوں سے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، کپتان کین ولیمسن کی فارم بھی ٹیم مینجمنٹ کے لیے باعث تشویش ہے،

انھوں نے کینگروز سے میچ میں بیٹنگ بھی نہیں کی تھی،نیوزی لینڈ کے پاس بہترین بولنگ اٹیک موجود مگر ان کے بیٹرز کو ذمہ داری کا مظاپرہ کرنا ہوگا،مارٹن گپٹل بیٹنگ لائن میں ٹیم کے لیے اہم ستون ثابت ہو سکتے ہیں، آئی سی سی ایونٹس میں عموما کیویز کی کارکردگی اچھی رہتی ہے، اس بار بھی انھیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں