جنت کی مانند ایران کا منفدر ’رینبو آئی لینڈ‘ جس سے دنیا بھر کے سیاح لاعلم ہیں

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق سنہری نہریں، سرخ ساحل سمندر اور سحر انگیز نمک کی کانوں کے ساتھ ایران کا جزیرہ ہرمز جنت کے نظارے پیش کرتا ہے۔ اسے ’ماہرین ارضیات کا ڈزنی لینڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ایران کے جنوب میں واقع ہرمز جزیرے کے ساحل پر ہم ایک سرخ پہاڑ کے دامن میں کھڑے تھے جب میرے ٹوور گائیڈ فرزاد نے کہا کہ ’آپ کو اس مٹی کا ذائقہ چکھنا چاہیے۔‘

اس بلند پہاڑ کا سرخ سایہ ساحل اور پانی کی لہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ میں نے گھبراہٹ میں اس مشورے پر عمل کرنے کا سوچا لیکن میں اب تک اس پُراسرار اور معدنیات سے بھرے منظر کو سمجھ نہیں پایا تھا۔

ایران کے ساحل سے آٹھ کلومیٹر دور خلیج فارس کے نیلے پانی کے بیچ و بیچ جزیرہ ہرمز اوپر سے آنسو جیسا دکھتا ہے۔ یہاں نمک کے ٹیلے ہیں جن میں مختلف پتھر، مٹی اور لوہے سے بھرپور آتش فشاں کی چٹانیں ہیں جو سرخ، زرد اور نارنجی رنگوں میں چمکتے ہیں۔ کیونکہ یہاں 70 سے زیادہ معدنیات پائی جاتی ہیں تو 42 مربع کلومیٹر پر محیط اس پُرکشش جزیرے میں ہر انچ اس کے بناوٹ کی کہانی بیان کرتا ہے۔

ڈاکٹر کیتھرن گوڈاینف نے ماضی میں ایران میں کام کیا ہے اور وہ اب برٹش جیولوجی سروے کی پرنسپل جیولوجسٹ (ماہرِ ارضیات) ہیں۔ ان کے مطابق لاکھوں سال قبل کم گہرے سمندروں نے خلیج فارس میں نمک کی موٹی تہیں بنا دی تھیں۔ یہ تہیں معدنیات سے بھرے آتش فشاں کے پتھروں سے ٹکرائیں اور ان کے میلاپ سے رنگ برنگا زمینی رقبہ قائم ہوا۔

ڈاکر گوڈاینف کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ 50 کروڑ برسوں کے دوران نمک کی تہیں آتش فشاں کی مٹی میں دب گئیں۔ چونکہ نمک پانی کی سطح پر تیر سکتا ہے اس لیے وقت کے ساتھ چٹانوں میں موجود دراڑوں سے باہر نکلتا رہا اور اس نے سطح پر پہنچ کر نمک کے ٹیلے بنا لیے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ زمین کے نیچے نمک کی موٹی تہہ خلیج فارس کے اکثر حصے میں موجود ہے۔

اس جغرافیہ سے یہاں سونے کے رنگ کی نہریں، سرخ ساحل سمندر اور سحر انگیز نمک کی کانیں وجود میں آئی ہیں۔ ہرمز کو درحقیقت رینبو آئی لینڈ (قوس قزح کا جزیرہ) اسی لیے کہا جاتا ہے یہاں غیر معمولی رنگوں کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے اور تو اور یہ دنیا کا واحد پہاڑ ہے جسے کھایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹوور گائیڈ نے مجھے یہ چکھنے کا مشورہ دے رہا تھا۔

اس پہاڑ کی سرخ مٹی جسے ’گیلک‘ کہتے ہیں، ہیماٹائٹ کی وجہ سے ایسی دکھتی ہے۔ خیال ہے کہ یہ جزیرے کے آتش فشاں پتھروں میں پائے جانے والے آئرن آکسائیڈ کی وجہ سے ہے۔ یہ ناصرف صنعتی مقاصد کے لیے قیمتی معدنیات ہے بلکہ مقامی کھانوں میں بھی اس کا کردار اہم ہے۔

اسے کھانوں میں مرچ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سالن میں زمین کا ذائقہ دیتا ہے اور مقامی ڈبل روٹی تومشی کے ساتھ انتہائی لذیذ ہوتا ہے۔ تومشی کا معنی ’کسی چیز کی زیادہ مقدار‘ ہے۔ فرزاد کی اہلیہ مریم نے بتایا کہ ’سرخ مٹی کو چٹنی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔‘

’اس چٹنی کو سرخ کہتے ہیں اور اسے ڈبل روٹی پکنے کے دوران اس پر پھیلا دیا جاتا ہے۔ کھانے میں استعمال کے علاوہ مقامی فنکار اس سرخ مٹی کو (تصویر بنانے میں) استعمال کرتے ہیں، ان کے کپڑے رنگے جاتے ہیں اور اس کی مدد سے سیرامکس اور کاسمیٹکس کا سامان تیار کیا جاتا ہے۔‘ اس سرخ پہاڑ کے علاوہ بھی جزیره ہرمز میں دیکھنے کے لیے بہت سے چیزیں ہیں۔ اس جزیرے کے مغرب میں نمک کا ایک شاندار پہاڑ بھی موجود ہے جسے ’نمک کی دیوی‘ کہا جاتا ہے۔

ایک کلومیٹر پر پھیلے اس پہاڑ کی تیز دھار دیواریں اور غار نمک کے چمکتے کرسٹل سے بھرے ہوئے ہیں، جو سنگ مرمر کے بنے محل کے بڑے کالموں کی طرح نظر آتے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ نمک منفی رجحان اور سوچ کو جذب اور ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ میرے ٹوور گائیڈ نے یہاں چلنے کے لیے مجھے میرے جوتے اتارنے کا مشورہ دیا تاکہ میرے پاؤں نمک کو چھو سکیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’یہاں کے نمک میں مثبت طاقت پائی جاتی ہے۔ اس وادی میں وقت گزارنے کے بعد آپ بہت حوصلہ افزا محسوس کرتے ہیں اور اسی وجہ سے اس وادی کو طاقت (توانائی) کی وادی بھی کہا جاتا ہے۔‘

اسی طرح اس جزیرے کے جنوب مغرب میں ’رینبو آئی لینڈ‘ ہے جہاں کثیر رنگ کی مٹی ہے اور یہاں سرخ، پیلے اور نیلے رنگ کے پہاڑ ہیں۔ میں نے چلتے ہوئے نوٹس کیا کہ یہاں مختلف رنگوں پر مشتمل جیومیٹری کی اشکال کے پتھروں پر جب سورج کی روشنی پڑتی ہے تو وہ چمک اٹھتے ہیں۔ ادھر پاس ہی میں موجود ’مجسموں کی وادی‘ میں موجود پتھر ہزاروں برس سے چلنے والی ہواؤں کی وجہ سے بہترین شکل میں بدل چکے ہیں۔ میں پرندوں، ڈریگن اور افسانوی مخلوقات کو دیکھ سکتا تھا۔ یہ زمین کی اپنی آرٹ گیلری کی تعریف کرنے کے مترادف تھا۔

اس جزیرے کے غیر حقیقی رنگوں کے باوجود بہت سے سیاح اس کے بارے میں نہیں جانتے۔ ایران کی ’پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن‘ کے مطابق سنہ 2019 میں یہاں صرف 18 ہزار سیاح آئے۔ ایک مقامی شخص ارشاد شان نے مجھے بتایا کہ ’تاریخ اور قدرتی طور پر سیاحوں کی دلچسپی کے تمام پہلوؤں کے باوجود اس قدرتی منظر نامے کو مکمل طور پر اس طرح سے دریافت نہیں جا سکا۔‘

انھوں نے مجھے مزید بتایا کہ ’اگر ہرمز کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر زیادہ توجہ دی جائے تو یہ مقام سیاحوں کے لیے بڑی دلچسپی کا مرکز بن سکتا ہے۔‘ مقامی لوگ سیاحوں کو گھر کا بنا کھانا اور گھومنے پھرنے کے لیے اپنے موٹر سائکل اور رکشوں کی پیشکش کرتے ہیں۔

شان نے مجھے بتایا کہ ’ہم ہرمز کے لیے ایسا کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ یہ بہت نایاب اور ہماری شناخت کا حصہ ہے۔ ہم اس ماحولیاتی ورثے کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانے میں اپنا فوری کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔‘

جب میں نے اپنا مچھلی، سرخ پیاز، لیموں اور مالٹے کا بنا ہوا خوشبو سے بھرپور اور مصالحے دار سالن کھا لیا تو میں سوچ رہا تھا کہ ہرمز بلاشبہ ’ماہرین ارضیات کا ڈزنی لینڈ‘ ہے اور یہ اس کی کھانے کے قابل مٹی ہے جو یہاں رہنے والوں کی رگوں میں دوڑتی ہے اور اسے بہت خاص بناتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں