نقطہ نظر/ ذوالفقار علی

کیا آزاد کشمیر کی حکومتوں نے مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا؟

ایک طاقتور دشمںن کے خلاف مظلوم قوموں کا ایک ہی ہتھیار ہوتا ہے اور وہ ہے دشمن کے گناہوں کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرکے دنیا سے حمایت حاصل کرنا۔دنیا کی جتنی بھی مظلوم قومیں رہی ہیں انہوں نے اسی ہتھیار کو استعمال کیا۔آج لوگ موسو لینی اور ہٹلر کو بھول چکے ہوتے اگر مظلوم قوموں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو دستاویزی شکل دے کر دنیا میں نہ پھیلایا ہوتا، لیکن کشمیری ایسی بد قسمت قوم ہے کہ جو اپنے ہی رہزنوں کے ہاتھوں یر غمال بن کر رہ گیے ہیں۔ ریاست کے دونوں اطراف کے کشمیریوں پر دہاٰئیوں سے ڈھائے جانے والے مظالم کو دستاویزی شکل نہیں دی گئی اور نہ ہی فول پروف ڈیٹا بیس بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا آج بھی کشمیر میں بھارتی مظالم سے بے خبر ہے۔

سنہ 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی فوج نے کشمیر کے چھوٹے سےحصے کوبھارتی آرمی کے حملوں سے محفوظ رکھا۔اس علاقہ کو اب آزاد کشمیر کہا جاتا ہےیہاں ایک حکومت قائم کی گئی۔ اس حکومت کے قیام کا ایک ہی مقصد تھا کہ یہ کشمیر کے باقی حصے کی آزادی کے لیے جدوجہد کرے۔ یہ حکومت ایک ایسے وقت میں قائم ہوئی تھی جب جموں میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی تھی۔یہ نسل کشی بھارت کی مدد سے ہوئی اور بھارت نے ہی اس نسل کشی کو چھپایا۔بھارت سے اس کے برعکس توقع رکھنا غلطی ہوگی۔لیکن کیا آزاد کشمیر کی حکومتوں نے بھی اس نسل کشی کو چھپایا؟

ایک طرف اس وقت کی آزاد کشمیر کی حکومت نے جموں کے مسلمانوں کو بچانے کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کیا اور دوسری طرف ان پر ہونے والے مظالم کو دستاویزی شکل بھی نہیں دی۔اس نسل کشی کی وجہ سے دسیوں ہزار خاندان پاکستان اور آزاد کشمیر میں پناہ کی خاطر آئے لیکن اس وقت کی پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں نے کسی ایک پناہ گزین کا بیان تک ریکارڈ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جموں کی نسل کشی سےدنیا اج بھی بے خبر ہے۔جموِں کے مسلمانوں پر ہونےوالے مظالم کو دستاویزی شکل نہ دینا ایک ایسی مجرمانہ غفلت تھی جس کا براہ راست فائدہ بھارت کو پہنچا۔یہ مجرمانہ غفلت آج تک ہوتی رہی ہے اور اسی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے کشمیری آج بھی مررہے ہیں۔یہ کہانی یہاں ہی ختم نہیں ہوتی،جب جموں میں قتل عام ہورہا تھا تو عین اسی وقت بھارتی فوج نے سری نگر ائیر پورٹ پر اترنے کے چند گھنٹوں بعد ہی ایک نواحی گاؤں گوگو کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ لیکن اس کے بارے میں آزاد کشمیر یا پاکستان میں کہیں کسی کتاب میں کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی کوئی دستاویز موجود ہے۔

یہ ایک چیز کی طرف اشارہ کرتاہے کہ آزاد کشمیر کے حکمران، وادی کشمیر اور جموں میں ہونے والے واقعات سے لاتعلق رہے۔ اسی دوران وادی سے بھی بہت سے مسلمان پناہ کی خاطر آزاد کشمیر آئے لیکن آج تک دنیا اس سے بے خبر ہے کہ وہ کیوں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔سنہ 1965، 71 اور 90 میں مقبوضہ کشمیر سےہجرت کرکے آزاد کشمیر آنے والے مسلمانوں کی کہانی بھی کوئی مختلف نہیں ہے۔آزاد کشمیر اور پاکستان میں لاکھوں کشمیری پنا گزیں ہیں لیکن دنیا کو تو اس بارے میں علم نہیں البتہ ان کو ان 124000 کشمیری پنڈتوں کے بارے میں معلوم ہے جن کو سنہ 90 میں کشمیر میں مسلمان مخالف انڈیا کے گورنرجگموہن نے کشمیر کے سرمائی دارلحکومت سری نگر سے گرمائی دارلحکومت جموں میں منتقل کیا تاکہ وہ مسلمان مخالف فوجی کارروائی بغیر کسی رکاوٹ کےکرسکے۔

اس کے بعد وادی میں قتل عام شروع ہواجو اب تک جاری ہے۔اس دوران دسیوں ہزار کشمیری مارے گئے، زخمی ہوئے، معذور ہوئے یا پھر ان کی بینائی چھینی گئی۔ آزاد کشمیر کے حکمرانوں نے نہ صرف وادی اور جموں میں ہونے والے مظالم کو نظر انداز کیا بلکہ انہوں نے آزاد کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے بارے میں بھی چپ سادھ لی۔ وادی کشمیر میں سنہ 1988 میں مسلح تحریک کے ساتھ ہی بھارتی افواج نے آزاد کشمیر کی سول آبادی پر گولہ باری شروع کی۔

یہ سلسلہ وقفے وقفے کے ساتھ جاری ہے۔ بھارتی فوج نے عام شہریوں پر مارٹر ‘ آرٹلری’ مشین گن’ کلسٹر بم’ سنائپر رائفلز اور راکٹس کا استعمال کیا۔ اس میں ہزاروں لوگ مارے گیے’ زخمی ہوئے یا معذور ہوئے. اس میں سینکڑوں گھر اور سرکاری املاک تباہ ہوئیں. بچے یتیم ہوئے، عورتیں بیوہ ہوئیں۔ بہت سے بچے بنکروں میں پیدا ہوئے، جوان ہوئے اور ان پڑھ رہ گیے۔سول آبادی کو ان ہتھیاروں سے جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا جو جنگی جرائم کی تعریف میں آتا ہے۔یہاں تک کہ بھمبھر میں انڈین آرمی نے سیئز فائر لائن عبور کرکے منڈالہ کے مقام پر بچوں ‘ عورتوں اور مردوں کو قتل کیا اور واپس چلے گیے۔ آزاد کشمیر کی حکومتوں نے نہ صرف سیئز فائر لائن پر بسنے والے 6 لاکھ لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑا بلکہ انڈیا کے جنگی جرائم کو بھی دستاویزی شکل نہ دے کر دنیا سے اوجھل رکھا۔

مرنے والوں یا زخمی ہونے والوں کا فول پروف ڈیٹا بیس مرتب کرنے اور بھارتی جرائم کو دستاویزی شکل دینا تو دور کی بات آزاد کشمیر کے حکام کے پاس 1990 سے سنہ 1997 تک بھارتی فوج کے ہاتھوں مرنے والوں یا زخمی ہونے والوں کا ریکارڈ ہی نہیں ہے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکام نے انڈیا کو اس کے جرائم سے بری کردیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان مرنےوالوں کے خاندان کو اور زخمی ہونےوالوں کو معاوضہ ادا کرتی رہی ہے۔ بعض زرائع یہ کہتے ہیں کہ یہ ریکارڈ اس لیے غائب کیا گیا کیونکہ آزادکشمیر کے حکام کی جانب سے معاوضہ جات کی ادائیگی میں بدعنوانی کی گئی تھی۔سنہ 2016 سے 2021 تک مسلم لیگ ن کی حکومت کو کئی بار یہ کہا گیا کہ ان لوگوں کی تفصیل اکھٹی کی جائے لیکن حکومت نے اس کو نظر انداز کیا۔ سنہ 1990 سے 1997 تک بھارتی فوج نے آزاد کشمیر میں ہزاروں شہریوں کو جاں بحق، ذخمی یا معذود کیا۔

مثال کے طور پر 31 مئی 1995 میں بھارتی فوج نے وادی نیلم میں ایک مسافر بس پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 24 افراد جانبحق اور چار زخمی ہوئے تھے. سنہ 1990 سے اب تک یہ سیئز فائر لائن پر سب سے ِبڑا واقع تھا جس میں ایک ہی دن میں اتنے زیادہ لوگ ایک طرف مارے گیے تھے. اسی سال 17 مئی سے 27 مئی تک پانچ افراد جانبحق ہوئے تھے جبکہ 12 جون سے 22 جون تک چار افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہوئے تھے۔یہ چند واقعات صرف مثال کے لئے پیش کئے گئے ۔ سنہ 1990 سے 1997 تک جو لوگ مارے گئے یازخمی ہوئے وہ آزاد کشمیر کے حکمرانوں کے لیے کوئی وجود ہی نہیں رکھتے تھے.

آزاد کشمیر کے حکمران ان ہی لاشوں کو استعمال کرکے اپنی پُر تعیش زندگی گزارنے، قیمتی گاڑیاں خریدنے اور بیرون ملک سیر سپاٹوں کے لیے جواز کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ایسی صورت حال میں جب یہی حکمران دنیا کو کہتے ہیں کہ وہ انڈیا کے جرائم کا نوٹس لیں تو وہ انکے اس بیان کو روایتی بیان سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں یا پھر ان کے بیانات پر سوال اٹھاتے ہیں. مثال کے طور پر آزاد کشمیر کے سابق صدر سردارمسعود خان نے بجا طور پر یہ کہا کہ انڈیا وادی کشمیر میں نسل کشی کر رہا ہے لیکن برطانوی پارلیمان کے ایک رکن نے سابق صدر سے اس بارےثبوت مانگے تو وہ غائب ہوگئے۔

اس سے سابق صدر کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا البتہ وادی کشمیر میں محصور ایک کروڑ کشمیریوں کو ضرور نقصان پہنچا۔ اسی طرح سے سنہ 90 سے اب تک آزاد کشمیر کے حکمران بیرون ممالک کا دورہ کرتے رہے یا باہر سے وفود آزاد کشمیر کا دورہ کرتے رہے۔لیکن آزاد کشمیر کے حکمرانوں کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا ہے. اس سے کشمیر کو فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان پہنچا اور کشمیریوں کے لئے ظلم کی رات اور لمبی ہوگئ۔ اس صورت حال میں دہائیوں سے مجرمانہ عفلت برتنے والے آزاد کشمیر کے حکمرانوں نے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے سنہ 1987 میں کشمیر کے نام پر ایک ادارہ بنایا جس کا نام جموں کشمیر لبریشن سیل رکھا گیا۔

اس ادارے کا کام کشمیر کی آزادی کے لیے کام کرنا تھا۔ لیکن آزاد کشمیر کے حکمرانوں نے اس میں اپنے ورکرز، دوست اور عزیز بھرتی کیے جن کی تنخواہوں اور مراعات پر 90 فیصد رقم خرچ کی جاتی ہے۔ 10 فیصد رقم کشمیر کے نام پر جان بوجھ کر ایسی سرگرمیوں پر خرچ کی جاتی رہی جسکا چند افراد کو تو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن کشمیر کو نہیں۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا کبھی اس کا احتساب ہوگا کہ کیوں وادی کشمیر کی چھوٹی سی آبادی کو بچانے کے لئے مخلصانہ کوشش نہیں کی گئیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں