ابر نامہ : ابو بکر راٹھور

“کرکٹ ۔۔ اپوزیشن ۔۔ موسم”

“کرکٹ”
ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 ء کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم مقابلے سے باہر ہو گئی ۔ دکھ اور افسوس دو الگ الگ جذبات ہیں اور غصہ ان دونوں سے الگ ۔ اس مرتبہ پاکستانی ٹیم کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے پر دکھ تو ضرور ہوا لیکن افسوس یا غصے کے جذبات نہ ابھرے ۔ اس مرتبہ محبت اور اپنائیت کا احساس زیادہ رہا ۔

پہلے میچ سے لے کر آخری کھیلے جانے والے میچ تک پاکستانی ٹیم نے مکمل نظم و ضبظ اور اتفاق و یک جہتی کا مظاہرہ کیا ۔ ہر کھلاڑی نے اپنا کردار نبھایا ۔ پہلے میچ میں روایتی حریف بھارت کو شکست سے دو چار کرنے پر قوم اور ٹیم ، دونوں کا مورال بلند ہوا ۔ یہ اور بات ہے کہ روایتی ٹیم سے میچ سے قبل ہمارے روایتی نقاد اس میچ کو یک طرفہ (بھارت کی کامیابی) قرار دے رہے تھے ۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں واحد شخص سپر اسٹار شعیب اختر تھے کہ جو بار بار یہ کہ رہے تھے کہ اس مرتبہ بھارتی ٹیم پر دباؤ زیادہ ہے اور پاکستانی ٹیم کو کمزور سمجھنا غلطی ہے ۔ یہ بات انھوں نے بھارتی ٹی وی چینلز پر بھی برملا کہی ۔

پہلے میچ میں پاکستانی باؤلرز اور ابتدائی بلے بازوں کی کارکردگی غیر یقینی حد تک متاثر کن رہی ۔ ابتدائی بلے بازوں کے علاوہ باقی کھلاڑیوں نے آنے والے مقابلوں میں اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا ۔ محمد آصف نے ناقدین کو اپنے بلے سے جواب دیا ۔ محمد حفیظ اور شعیب ملک کا انتخاب درست رہا ۔
یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ طویل عرصے بعد پاکستانی ٹیم واقعی ایک ٹیم بن کر کھیلی ۔ اس کی ایک بڑی وجہ کپتان بابر اعظم کا رویہ بھی ہے ۔ جیت ہار کھیل کا حصہ ہے اور لازمی نہیں کہ ہر دن آپ کی فتح کا دن ہو ۔ یہ کھیل ہے اور کھیل میں کچھ بھی ممکن ہے ۔ تسلی اس بات کی ہے کہ ہم کھیل کر ہارے ہیں ۔

“اپوزیشن”
اپوزیشن ان دنوں حکومت سے بھی زیادہ مشکل میں ہے ۔ اپوزیشن کے لیے حکمران جماعت ہمیشہ تختہ مشق ہوتی ہے اور کوئی بھی اپوزیشن ہو وہ دل کی تسلی کے لیے حکومت مخالف بیانات کا سلسلہ جاری رکھتی ہے ۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا ۔

پہلی مرتبہ مشترکہ اجلاس کے ملتوی ہونے کو حکمران جماعت کی شکست اور وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد قرار دیا گیا ۔ وفاقی دارالحکومت کے باخبر حلقوں میں نئے وزیراعظم کا نام بھی سنائی دینے لگا لیکن وقت اور حالات کے بدلنے میں دیر نہیں لگتی اور یہاں بھی بالکل ایسا ہی ہوا ۔ سترہ نومبر کے مشترکہ اجلاس میں حکمران جماعت کے اراکین اور اتحادیوں کے اعتماد نے اپوزیشن کو پھر سے مایوس کر دیا ۔ سننے میں آ رہا تھا کہ حکمران جماعت کے کئی اراکین اور اتحادی جماعتوں کے ممبران حکومت مخالف ووٹ دیں گے لیکن ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔

یہ درست کہ حکومتی کارکردگی ایسی نہیں کہ صبح شام اس کے قصیدے لکھے جائیں۔ حکومتی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور عوام جھیل بھی رہے ہیں ۔ سب سے زیادہ متاثر بھی عوام ہیں ۔ اپوزیشن کو وسط مدتی انتخابات کے خواب چھوڑ کر حقائق کی دنیا میں لوٹنا چاہیے ۔ حکومت کے لیے قریبا ڈیڑھ پونے دو سال کا عرصہ رہ گیا ہے کہ وہ اگلے الیکشن کے لیے عوام کی حمایت حاصل کریں تو اپوزیشن کے پاس بھی یہی وقت ہے ۔ حکومتی جماعت کارکردگی کی بنیاد ہر اگلا الیکشن جیت سکتی ہے نہ کہ صرف جھوٹ بول کر ۔

اس تمام صورت حال میں پاکستان پیپلز پارٹی کا رد عمل مسلم لیگ نواز کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ اور قابل داد ہے ۔ مسلم لیگ نواز کے پاس صرف ایک حربہ ہے “ویڈیو لیکس” ۔ انھیں اس بچگانہ طرز سیاست سے باہر آنا ہو گا ۔

عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور عوام کا ہمدرد وہی ہے جو ان کے لیے آسانی پیدا کرے ۔ عوام کی دلچسپی ویڈیوز میں نہیں بلکہ دال آٹے کے بھاؤ میں ہے ۔ ان بیکار کوششوں کے نتیجے میںں مسلم لیگ نواز کی توانائی کسی اور طرف خرچ ہو گی اور فائدہ کچھ نہیں ہو گا ۔

“موسم”
وفاقی دارالحکومت اور ملکی سیاست کا درجہ حرارت روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کے مابین تعلقات نقطہ کھولاؤ تک پہنچ گئے ہیں اور اس کے برعکس شہر اقتدار کا موسم سرد ۔
دسمبر کی آمد آمد یے اور موسمی شعراء اور عاشق بھی گھات لگائے بیٹھے ہیں اور جلد ہی دسمبر کی اداسی اور خزاں کا ماتم لیے جلد ہی سوشل میڈیا پر نظر آئیں گے ۔ ایسے ایسے دیوانے اور فن کار سامنے آتے ہیں کہ جو اداسی کے معنوں سے بھی انجان ہوں گے ۔
شعر و ادب کے نام پر بڑے بڑے شعراء کے نام کے ساتھ وہ ناروا سلوک اختیار کیا جائے گا کہ اگر ان شعراء کو علم ہو جائے تو وہ اپنی کل بیاض دریا برد کر دیں اور بطور شاعر اپنی شناخت سے انکار کر دیں ۔
سردی ہو یا گرمی ہر لمحہ اور ہر موسم اپنا رنگ لیے ہوئے آتا ہے ۔ اب یہ ہم تک ہے کہ ہم زندگی کے لمحات کس طور بسر کرتے ہیں ۔ ہم زندگی جیتے ہیں یا گزارتے ہیں یہ ہم تک ہے ۔
دسمبر آپ کی دہلیز پر ہے ، اسے خوش آمدید کہیں ۔ اس کے رنگ دیکھیں ۔ شام کا وقت کتاب اور کافی کے مگ کے ساتھ گزاریں ۔ اداسی کو خدا حافظ کہیں اور زندگی کا مزا لیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں