نقطہ نظر/ کرن عزیز کشمیری Kiranazizkashmiri@gmail.com

امریکہ کی خارجہ پالیسی

انسانی حقوق کو امریک کی خارجہ پالیسی میں اہم مقام حاصل ہے اس حوالے سے امریکی کردار کا جائزہ لیا جائے تو سیاہ فام شہریوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے ردعمل کے طور پر امریکہ کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا ہے امریکہ چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے اس سلسلے میں گذشتہ روز چین اور امریکا کے صدور کے درمیان بات چیت بھی ہوئی ہے قومی مفادات کی روشنی میں مذاکرات کے دوران تائیوان کے مسئلہ پر بھی بات ہوئی امریکا کو اس بات کا خدشہ ہے کہ چین اپنی طاقت بڑھا رہا ہے حقیقت یہ ہے کہ چین کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا امریکی صدر نے اپنا صدارتی منصب سنبھالتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ امریکہ کسی عالمی تنا زعہ میں مداخلت نہیں کرے گا تاہم انسانی حقوق کے حوالے سے دوہرا معیار امریکی خارجہ پالیسی کی نفی کرتا ہے چین اور امریکا کے درمیان تلخی ختم ہو تو خطے میں خوشحالی آسکتی ہے

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نہ صرف امریکہ کی طرف سے بلکہ دنیا میں کہیں بھی کی گئی ہوں مغرب میں نظر انداز کیا گیا ہے پاکستان امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے اس ضمن میں امریکہ پاکستان کی کوششوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مزید کوششوں اور قربانیوں کا خواہاں ہے واضح رہے کہ سی پیک کے حوالے سے پاکستان چاہتا ہے کہ امریکہ سی پیک کے اکنامک زون میں سرمایہ کاری کرے گا کہ چین کے ساتھ امریکی تعلقات بہتر ہوسکیں افغانستان کے حوالے سے امریکہ اپنے کردار پر نظر ثانی کرے تاکہ افغانستان میں اس وقت جو صورتحال ہے تبدیل ہو سکے بھوک افلاس اور محرومی کے جو بادل منڈلا رہے ہیں خوشحالی آئے امریکہ کا اتحادی بھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے افغانستان کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے اور طالبان کے خلاف پروپیگنڈا میں مصروف ہے

افغانستان کے حوالے سے مسائل پر بات ہو تو امریکہ انسانی حقوق پر زور دیتا ہے تائم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی گئی امریکی حلیفوں کی جانب سے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر باتیں کی جاتی ہے خاص طور پر طالبان اور چین کو ہدف بنایا جاتا ہے اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ گزشتہ دنوں امریکہ کو شرمندگی کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب چین کے خلاف اقوام متحدہ میں بات کی گئی امریکہ کی نظر میں انسانی حقوق کی پامالی صرف افغانستان تک محدود ہے جبکہ کشمیر اور فلسطین امریکی مفادات کے سامنے مسئلہ ہی نہیں لیکن اب یہ بات غلط ثابت ہو چکی ہے امریکی خارجہ پالیسی ذاتی مفادات تک محدود ہے خطے کے امن و استحکام سے پالیسی کا کوئی واسطہ نہیں ہے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اہم امر ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا

اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں چین کے خلاف امریکی پروپیگنڈا کو نظر انداز کرتے ہوئے خوشگوار مثال قائم کی گئی امریکی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق کی پاسداری کہاں ہے بھارت کے خلاف کوئی نوٹس کیوں نہیں لیا گیا غور طلب امر یہ ہے کہ اگر انسانی حقوق کا امریکی خارجہ پالیسی میں اہم حیثیت رکھتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر بات کیوں نہیں کی جا رہی افغانستان میں خوشحالی کے لیے اقدامات میں تاخیر نہیں کی جانی چاہئے طویل عرصے سے امریکہ چین سے اختلاف رکھتا ہے چین پاکستان ایران ترکی اور روس ایسے ممالک ہیں جنھیں سفارتکاری پر غلبہ حاصل ہے بھارت کی افغانستان میں موجودگی ختم ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت تلاش میں ہے کسی نئے راستے کے تاکہ اپنے ناکام منصوبوں پر دوبارہ کام شروع کیا جا سکے

سازش اور دہشت گردی کے ذریعے افراتفری پھیلانا بھارت کی پالسی بن چکا ہے امریکہ بھارت کا دوست ہے اور بھارت اپنے اہداف کے تعاقب میں ہے امریکی حکمت عملی ہے کہ خطے میں اجارہ داری قائم ہو راستہ چاہیے کوئی بھی ہوا من کی صرف بات کی جاتی ہے امن کے لئے کام نہیں کیا جارہا امریکہ نے افغانستان کے لیے پاکستان کا راستہ استعمال کیا اس جنگ میں دھکیلا جس کے بدلے پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور دہشتگردی میں پاکستان کا رخ کرلیا

امریکہ کے ڈرون حملوں کی وجہ سے قبائلی علاقے متاثر ہوئے امریکی خارجہ پالیسی انسا نی حقوق کی دھجیاں اڑانے کی اجازت نہیں دیتی تاہم حقائق کچھ اور ہیں اور افسوسناک بھی کے قبائلی علاقوں میں ہزاروں بے گناہوں کی شہادتوں کی وجہ سے شدید نفرت پائی جاتی ہے یہ وہ قبائلی علاقے ہیں جہاں امریکا نے ڈرون حملے کیے اس ضمن میں اگر امن کے لیے کام کیا جاتا تو آج نتائج مختلف ہوتے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں