مقبوضہ وادی میں موت کا رقص،لبریشن سیل میں کارکن کی تعیناتی پرڈھول کی تھاپ پر رقص،نوٹوں کی بارش

مظفرآباد (رپورٹ:ذولفقار علی/شجاعت میر) خوشیاں منائی جارہی ہیں۔ ڈھول بجائے جا رہے ہیں۔ پیسے نچھاور کیے جارہے ہیں. قہقے لگائے جارہے ہیں۔ ڈھول کی تھاپ پر رقصں کیا جارہا ہے۔ اس ویڈیو میں آزاد کشمیر کے وزیر بلدیات خواجہ فاروق بھی قہقے لگاتے اور پیسے نچھاور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اس موقع پر وہ اپنی تعریف میں گانا بھی گواتے ہیں ،اس گانے کے بول کچھ یوں ہیں ” جیندا رہوے خواجہ فاروق جس نال بہاراں نے” اس کا مطلب یہ ہے جیتا رہے خواجہ فاروق، جس کی وجہ سے بہاریں ہیں۔ یہ کسی کی شادی کی تقریب نہیں اور نہ ہی کسی کی فتح کا جشن بلکہ یہ وادی کشمیر میں جاری موت کے رقص پر ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا جارہا ہے.

اس ڈھول، باجے، رقص اور پیسوں کی برسات اس لئے ہورہی ہے کہ وزیر بلدیات خواجہ فاروق احمد نے اپنے ایک کارکن کو عارضی طور پر جموں کشمیر لبریشن سیل میں تعینات کرایا جس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ وادی کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں بہنے والے عام کشمیریوں کے خون کی طرف دنیا کی توجہ دلائے۔ گژشتہ ہفتے وادی کشمیر میں بھارتی فوج سے اپنے پیاروں کی میتوں کو واپس لینے کے لیے ان کے خاندان والوں اور بچوں کی چیخیں پوری دنیا تک پہنچی لیکن وہ چیخیں مظفر آباد میں حکمرانوں تک نہ پہنچ سکیں۔ مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان سرحد ہے اور اس سرحد پر ہندوستان اور پاکستان کی افواج تعنات ہیں۔

ان چیخوں ،آہوں اور سسکیوں کے بیچ یہ جشن ایک ایسے کارکن کی تعیناتی پر منایا جارہا ہےجس کی صرف یہ قابلیت ہے کہ وہ پی ٹی آئی کا ایک کارکن ہے۔حکومت میں آنے سے قبل خواجہ فاروق کا یہ دعوی تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت سمیت دیگر تماموں حکومتوں نے لیبریشن سیل کو سیاسی مقاصد اور کارکنوں کو ایڈجسٹ کرنے کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے گزشتہ چند سالوں میں جموں و کشمیر لیبریشن سیل کا بجٹ کہاں خرچ ہوا اس کی تفصیلات وادی نیوز کی اس تحقیقاتی رپورٹ میں ہیں۔

حکمرانوں نے جموں و کشمیر لیبریشن سیل کو کیسے استعمال کیا؟
وادی کشمیر میں انڈین فوج کی بندوقوں کے سائے میں بسنے والے لوگوں کا آئے روز خون بہتا ہے۔لیکن سیز فائر لائن کی اس آزادکشمیر میِ حکمران ان ہی لوگوں کی بے بسی یا ان کی لاشوں کو استعمال کرکے اپنی پرتعش ذندگی گزارنے اور اپنے کارکنوں کو فائدہ پہنچانے کا جواز پیش کرتے ہیں.

جموں و کشمیر کی آزادی کے نام پر بنایا جانے والا ادارہ جموں وکشمیر لبریشن سیل کے چئیرمین عہدہ کے لحاظ سے آزادکشمیر کے وزیراعظم ہوتے ہیں۔ آزادکشمیر حکومت نے 1987 میں جموں وکشمیر لبریشن سیل کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا بظاہر اس ادارہ کے قیام کا مقصد مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔وادی کشمیر میں سنہ 1988 میں مسلح تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی یہ ادارہ اہمیت اختیار کر گیا لیکن یہ ادارہ ہمیشہ سے ہی متنازعہ رہا۔حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر اس کے پیسہ کا غلط استعمال کیا، ہر حکمران نے مسئلہ کشمیر پر کام کرنے کے بجائے اس ادارہ میں اپنے ایسے دوستوں، رشتہ داروں اور کارکنوں کو بھرتی کیا جو مسئلہ کشمیر کی باریکیوں کے بارے میں نہ علم رکھتے تھے اور نہ مہارت ۔

کشمیر لبریشن سیل میں تقریباً 130 مستقل ملازم ہیں جن میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کو ماضی کی حکومتوں نے سیاسی اور تعلقات کی بنیاد پر بھرتی کیا۔ سبکدوش ہونے والی مسلم لیگ ن کی حکومت نے جماعتی وابستگی رکھنے والے ایسے 70 افراد کو عارضی طور پر تعینات کیا جنکی صرف یہ خاصیت تھی کہ انکا تعلق حکمران جماعت سے تھا ان میں بیشتر کی تعلیمی قابلیت دسویں یا بارہویں جماعت تھی اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آزادکشمیر کے حکمرانوں کے نزدیک مسلہ کشمیر کی اہمیت کیا ہے۔

یہی وجوہات ہیں کہ اپنے قیام کے بعد جموں و کشمیر لبریشن سیل کشمیر پر کوئی معنی خیز کام نہیں کر سکا اور ہمیشہ تنقید کی زد میں رہا۔ اس ادارہ کا اس وقت بھی کوئی سنجیدہ کردار نظر نہیں آیا جب برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد پوری وادی کشمیر کو بھارتی فوج نے اپنے محاصرے میں لیا،انٹرنیٹ بند کر دیا اوردنیا کی آنکھوں سے اوجھل بھارتی فوج وادی میں چھوٹے چھوٹے قتل عام کرتی رہی اور بچوں، عورتوں اور مردوں کو آنکھوں کی بینائی سے محروم کیا.
یہ ادارہ
5اگست 2019 کے بعد بھی کوئی کردار ادا کرنے میں مکمل رہا. اس کی یہی وجہ تھی کہ اس کے پاس کوئی استطاعت نہیں تھی۔

سال سال2020-21 میں جموں کشمیر لبریشن سیل نے 12کروڑ 76لاکھ 46 ہزار روپے خرچ کیے جن میں سے تنخواہوں’ الاونسز اور انتظامی اخراجات پر 90 فیصد رقم خرچ کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں