باسط علی/حق گوئی و بے باکی

وقاص کو انصاف دو

محمد رفیق کیانی ضلع باغ کےدور افتادہ گاوں لوہار بیلہ ناڑ شیر علی خان سے تعلق رکھنے والا ایک سادہ لوح اور سفید پوش شہری ہے۔ موصوف پیشے کے لحاظ سے ایک مزدور ہیں۔ سال2015کے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں موصوف کاچھوٹا سا مکان اور تمام زمین سیلاب کی نذر ہوگئ تھی۔ حکومت کی طرف سے 30 ہزار روپے کی انتہائی قلیل رقم بطور معاوضہ دی گئ تھی جو نئی زمین خرید کر دوبارہ مکان تعمیر کرنے کے لۓ ناکافی تھی۔رفیق کیانی کا ایک جواں سال بیٹا تھا جس کی عمر لگ بھگ 18 سال تھی۔ باپ کی غربت اور بیچارگی کو دیکھتے ہوئے اس نے بھی پڑھائی چھوڑ کر باپ کے ساتھ محنت مزدوری کرنا شروع کردی۔ گھر کا آشیانہ چھن جانے کے بعد اس پسماندہ خاندان نے پاکستان کے شہرراولپنڈی کا رخ کیا۔ جہاں یہ پانچ افراد پہ مشتمل خاندان جن میں معذور ماں باپ دو جواں سالہ بیٹیاں اور ایک نوجوان بیٹاشامل تھے کراۓ کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر ہوئے۔

دونوں باپ بیٹا محنت مزدوری کرنے لگے۔ وقاص نامی اس اٹھارہ بیس سالہ نوجوان نے انتھک محنت لگن اور کوشش سے چند روپے کما کر معذور والدین کا علاج کروایا اپنی بہن کی شادی کروائی اور خود بھی شادی کی۔ وقاص کی شادی کو دو سال بیت چکے تھے۔ اس کی آنگن میں ایک نھنی گڑیا بھی آرام سکون اور خوشیاں لے کے وارد ہوئی۔ زندگی کافی حد تک معمول پہ آگئ تھی بوڑھے معذور والدین کو بڑھاپے میں نوجوان اولاد کا سہارا مل گیا تھا۔

پھر وہ منہوس دن آیا جس دن اس آنگن کے مکینوں کی خوشیوں کو کسی کی نظر کھا گی۔ وقاص دن بھر مزدوری کر کے گھر آیا۔ ماں ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ تھی بلڈ پریشر بڑھنے کی وجہ سےباپ ماں کو ہسپتال لے کے گیا تھا۔نھنی گڑیا دن بھر کی بھوکھی تھی بیوی نے گڑیا کے لۓ دودھ لینے بھیجا۔ وقاص نے دوھ د لینے کے بعد ماں کی خبر گیری کرنے ہسپتال جانے کا ارادہ کیا۔ دودھ والے کی دوکان سے دوھ د خرید کر ابھی باہر ہی نکلا تھا کہ (بقول دودھ ی) دو مسلح ڈاکو دوکان میں داخل ہوۓ اور دوکان دار کو دبوچ لیا۔

دوکان دار نے مدد کے لۓ آواز لگائی وقاص دوکاندار کی مدد کے لۓ واپس پلٹا کہ مسلح ڈاکو کے ساتھ مڈ بھیڑ ہوئی آن کی آن ڈاکو کے پستول سے نکلنے والی وقاص کے سینے سے آرپار ہوگئ۔
بھوکھی گڑیا دودھ اور بیمار ماں اپنے جگر گوشہ کی منتظر ہی رہی مگر اس خستہ حال خاندان کا واحد کفیل واپس نہ آیا۔ لو گ آۓ چار دن سوگ بنایا کسی نہ اپنے تائیں خاندان کی کفالت اورچند دن کے راشن کے لۓ کچھ روپوں کی مدد بھی کی۔

پولیس نے مقدمہ بھی درج کیا۔ مگر تاحال نہ ہی قاتلوں کو سزا ملی اور نہ وقاص کے بوڑھے والدین کو کسی حکومتی ادارے کی طرف سے کسی طرح وظیفہ یا گذر بسر کے لۓ کوئی مدد ملی۔
پہلے تو معذور بوڑھا باپ اور معذور ماں محنت مزدوری کر کے زندگی کا پہیہ چلا رہے تھے مگر بیماری اور جسمانی معذوری کے ساتھ ساتھ جوان اولاد کی جدائی کے غم نے یہ سکت بھی چھین لی۔

وقاص کی وفات کو تین سال ہونے کو ہیں۔ بوڑھے والدین ابھی بھی انصاف سے محروم ہیں۔ ارباب اختیار اور بندگان خدا سے گذارش ہے کہ وقاص کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور سوگوارن کو جلد انصاف فراہم کیا جاۓ۔ علاوہ ازیں حکومتی ادارے اور مخیر حضرات بڑھ چڑھ کر اس خاندان کی کفالت کے لۓ کار خیر میں حصہ ڈالیں۔ تاکہ اس پسماندہ خاندان کی تکلیف بانٹی جاسکے۔ الله ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں