نقطہ نظر /سید مظہر گیلانی

محسن کش احسان فراموش

اس دشت پہ احساں نہ کر اے ابر رواں اور
جب آگ ہو نم خوردہ تو اٹھتا ہے دھواں اور
انسان بنیادی طورپر کمزوریوں کا مجموعہ ہے لیکن اس میں اسکی سب سے بڑی کمزوری بلکہ جرم اسکی محسن کشی اور احسان فراموشی ہے اور یہ حقیقت گزشتہ یا لمحہ موجود کی نہیں بلکہ تاریخ عالم بتاتی ہے کہ محسن کشی ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے۔ یہ انسان کی ازلی اور حتمی فطرت ہے کہ وہ کبھی محسن کے روحانی تو کبھی جسمانی قتل کا سبب بنتا آیا ہے اس طرز عمل پر کبھی بھی قابو نہیں پایا جا سکا نہ ہی پایا جا سکتا ہے- بادشاہوں کی تاریخ دیکھئے ہمیشہ ان کے زیربار اور کمتر اہل دربار اعلیٰ عہدوں پر نوازے جانے کے بعد ان سے بغاوت کرتے رہے ہیں اور پھر انکی موت کا وسیلہ بنتے رہے ہیں۔

اس طرح جن کے کندھوں پر پاوں رکھ کر بادشاہوں نے تخت و تاج حاصل کیے لیکن بعد میں جلال شاہی نے ایسے زینوں کی گرن زنی کو اپنا فرض عین سمجھا-اسی طرح عام زندگی میں جس حقیر پر آپ ترس کھا کر مسلسل اس پر احسان کریں گے .اسے فائدہ پہنچائیں گے وہی ضرورت مند اور احسان مند شخص اسی تناسب سے اپنا کام اور فائدہ نکل جانے کے بعد آپ کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتا رہے گا اور آخر کار جب محسن کا احسان اس پر آکر مکمل ہو جائےگا. اس کا کالا منصوبہ بھی اپنی انتہا پر پہنچ کر مکمل ہو جائیگا۔

حضرت عیسیٰ کے بارے میں مشہور ہے وہ جس مُردے کو زندہ کیا کرتے تھے . وہی آپ کی جان کا دشمن بن جایا کرتا تھا۔ بحرحال اس سلسلے میں بہت زیادہ سوچ بچار اور تدبر کرنے کے بعد کم از کم ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دراصل محسن کی مسلسل نیکی اور احسانات ہی محسن کش کے ذہن میں اس کا ایک کمزور تصور ابھارتے ہیں .جس کی بنا پر محسن کش احسان مند کی نیکی کو اس کی حتمی کمزوری پر محمول کرتا ہے. جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جوں جوں محسن کا اپنے محسن کش کے ساتھ نیکی کا عمل بڑھتا جاتا ہے یا مکمل ہوتا جاتا ہے.

جوں جوں محسن کش اسے کمزور سے کمزور تر سمجھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اچانک اس پر سواری کرنے کی اس پر وار کرنے کی بلکہ بعض اوقات تو اس پر حکم چلانے کی پوزیشن میں آجاتا ہے جبکہ ہوتا یوں ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ ایک طرف احسان مند کو نیکی کی توفیق عنایت فرماتا جاتا ہے. تاکہ اس کے سلسلے میں جزا کا عمل شروع کر سکےتو دوسری طرف محسن کش کو خودبخود مزید محسن کشی اور احسان فراموشی کا موقع ملتا جاتا ہے اور وہ اپنی تمام تر بدنیتی کے ہتھیاروں سے لیس ہوکر محسن پر حملہ آور ہو جانے کی کوشش کرتا ہے۔

یوں ان دونوں انتہائی صفات کا آپس میں ٹکراﺅ ہو جاتا ہے. جبکہ ہر انسان سوچتا یہ ہے کہ اصولاً ہونا یہ چاہئے تھا کہ محسن کش جلد سے جلد اپنے انجام کو پہنچنےاور محسن کو اس کی بدی سے عافیت مل جائے مگر ایسا ہوتا اس لئے نہیں ہے کہ جس طرح رب العزت نے نیکوکار یا محسن کو اپنی نیکی کی انتہا کی مہلت دی تھی .اسی طرح وہ محسن کش اور بدکار کو بھی مہلت دیکر بدی یا محسن کش کی انتہا کر دینے کا موقع مہیا کرتا ہے .

تاکہ مسلسل بدی تکمیل کی طرف بڑھتی رہے بلکہ کئی مواقع پر تو اکثر اسے حالات کی موافقت بھی عطا کی جاتی ہےیعنی محسن کش یا بدکار کو اسکے ذاتی کرتوتوں سے بہلا دیا جاتا ہے۔ وہ بدی کے ہر کام پر مطمئن ہوتا چلا جاتا ہے بلکہ اپنے ہر غلط کام کو ٹھیک سمجھتا ہے. یہاں تک کہ دونوں اپنے اپنے منطقی اور حتمی انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ محسن کو صبروجبر کے حوالے سے جنت کی ہمیشگی کی زندگی کا تحفہ عطا کیا جاتا ہے.

جبکہ محسن کش کے حصے میں دنیا میں دنیاوی رسوائی اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنانے کیلئے تیار کر لیا جاتا ہےلہٰذا اس حوالے سے محسن کو یہ چاہئے کہ جب محسن کش کی جانب سے اسے پہلا جھٹکا ملے تو وہ اسکے ساتھ مزید نیکیاں اور بے غرض احسانات کرتا چلا جائے۔ اپنی نیکی کو نہ روکے بلکہ اس طرح وہ اسے اپنے انجام کو پہنچنے میں اسکی مدد کر سکے گدیکھا جائے تو ہر بات میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نہ کوئی رمز پوشیدہ ہوتی ہے .وہ اکثر احسان فراموش کو اپنے سے پرے دھکیلنے کیلئے اس کے اپنے ہی محسن پر اسے باقاعدہ برتری بھی عطاکر دیتا ہے تاکہ اسے محسن کشی احسان فرموشی میں مزید چھوٹ مل جائے۔

جسے احسان فراموش اپنی مستقل فتح سمجھ کر مزید بدمست ہوتا چلا جاتا ہے لیکن دراصل وہ اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ ایک آیت کا ترجمہ یوں ہے کہ”ایک چال تم چل رہے تھے ایک چال تمہارا دشمن چل رہا تھا مگر ایک چال حق تعالیٰ بھی چل رہا تھا اور وہ بہترین چال چلنے والا ہے.احسان فراموشی کے سلسلے میں انسانوں کو تو چھوڑ دیجئے خود رب کائنات کے ساتھ انسان کی احسان فراموش کا یہ عالم ہے کہ وہ اس کی عطا کردہ زندگی جیسی نعمت اور مزید کروڑوں نعمتوں اور رحمتوںکے باوجود بھی کفر جیسی انتہا سے باز نہیں آتا بلکہ جوں جوں وہ نعمتوں کا اتمام کرتا چلا جاتا ہے‘ انسان کو ان نعمت میں اتمام حجت کرتا جاتا ہے۔

احسان فراموشی کی لعنت جس انسان میں بھی موجود ہے.وہ نہ صرف اپنی جانب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مزید رحمتوں اور احسانات کو اپنے ہی ہاتھوں روک لیتا ہے
بلکہ دنیا میں خدا کی مخلوق کے سامنے رسوائی کے بعد اسے روز قیامت بھی عتاب الٰہی کا سامنا کرنا پڑے گا-
سر پہ احسان رہا بے سر و سامانی کا
خار صحرا سے نہ الجھا کبھی دامن اپنا

اپنا تبصرہ بھیجیں