نقطہ نظر/جواد عباسی

مس نسرین سے آخری ملاقات کی کہانی !

مس نسرین کی وفات بڑا سانحہ ہے.گرلز ہائی سکول سیسر میں امی کی کولیگ تھیں جس کی وجہ سے ہمارے بچپن اور لڑکپن کی بے شمار یادیں ان سے وابستہ ہیں۔بیماری کے آخری دنوں میں 26 دسمبر کی یخ بستہ شام ان کی عیادت کے لئے اسلام آباد کی ایکسپریس وے سے گزرتے ہوئے ہم آئی ایٹ میں واقع شفاء انٹرنیشنل اسپتال پہنچے۔جہاں میری ان سےملاقات ہوئی جو آخری ملاقات ثابت ہوئی۔

جس میں ڈیڑھ گھنٹہ تک وہ مجھ سے باتیں کرتی رہیں،ان کی گفتگو کے دوران پل بھر کو بھی یہ احساس نہ ہوا کہ وہ بیمار ہیں۔وارڈ میں پہنچتے ساتھ ہی مس نسرین نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا “جواد میں آپ سے ناراض تھی آپ اسلام آباد آتے رہے لیکن کبھی میری عیادت کے لئے نہیں آئے،لیکن آج چونکہ آپ آ گئے ہیں تو آپ سے ناراضگی ختم ہو گئی ” انھوں نے مجھے بچپن اور لڑکپن کی وہ ساری باتیں یاد کروائیں جو میرے ذہن سے بھی محو ہو گئی تھیں ،کہنے لگیں ” جواد آپ کی امی آپ کی پڑھائی کے حوالے سے ہمیشہ متفکر رہتی تھیں ،لیکن میں انھیں کہتی تھی کہ جواد کو کم ڈانٹ ڈپٹ کیا کریں آپ دیکھئے گا اس کا مستقبل بھی آپ کے باقی بچوں کی طرح تابناک ہو گا .

کہنے لگیں جواد جب آپ لاہور جا رہے تھے تو یاد ہے نا میں نے آپ کو کہا تھا کہ جب آپ لاہور جاؤ گے تو پنڈی اور اسلام آباد آپ کو بہت چھوٹے شہر لگیں گے۔” کہنے لگیں ” سردیوں کے دن ہیں اور مجھے ان لوگوں کی بہت فکر ہورہی ہے جن کے پاس سردیوں کے پہناوے بھی نہیں ہیں اور رات کو اوڑھنے کے لیے کمبل یا رضائیاں بھی نہیں ہیں” میں ان کے پہلو پہ کھڑا محو حیرت تھا کہ انھیں بیماری کے بستر پر بھی اپنی بیماری کے درد کی بجائے باہمت افراد کا درد محسوس ہو رہا ہے۔

پھر کہنے لگیں ” نیلہ بٹ والے جاوید عباسی صاحب اور ارجہ والے ساجد عباسی صاحب کو اللہ جزا دے جو ہمیشہ لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں” ان کی گفتگو میں وہی روانی تھی جو کسی صحت مند انسان کی گفتگو میں ہوتی ہے۔ اپنی تنظیم چراغ منزل کے لئے کہنے لگیں کہ “میری خواہش ہے کہ چراغ منزل کے پلیٹ فارم سے با ہمت افراد کی خدمت کا سلسلہ ہمیشہ جاری ہو ساری رہے۔” وہ باہمت افراد کے لئے امید اور حوصلے کا ایک چراغ تھیں،بہادری کا استعارہ تھیں،ان کی زندگی کا دیا بجھ گیا لیکن ان کی خدمات کا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا۔اللہ مس کی بخشش فرمائے (آمین )

اپنا تبصرہ بھیجیں