خدا حافظ باجی

نقطہ نظر/مصباح شفاعت عباسی

اے قلب شناساں ماتم کر اے چشم بینا سوگ منا
کہ جو روشنی بانٹنے آیا تھا وہ چاند وہ سورج ڈوب گیا۔

شعبہ تعلیم سے وابستہ اور معذور افراد کی تنظیم چراغ منزل کی چیئر پرسن میری بہت دلعزیز بہن نسرین عزیز عباسی جنہوں نے دھیرکوٹ کے گاؤں سیسر میں آنکھ کھولی اور تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ خدمت خلق میں شروع سے ہی دلچسپی رکھتی تھیں۔

انہوں نے اپنے کیریئر کا آ غاز سرکاری استاد کے طور پر کیا۔ سیسر گرلز ہائی سکول میں بطور اُستاد اپنا کردار با خوبی سرانجام دیا لیکن بد قسمتی سے وہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں حادثے کا شکار ہو کر جسمانی معذور ہو گئیں تاہم باجی کے ارادوں کو معذوری کمزور نہ کر سکی بلکہ اس حادثے نے اُن کی زندگی کا رُخ ہی بدل ڈالا۔

جب وہ جسمانی معذوری کا شکار ہوئیں تو ان کے اندر خدمت خلق کا جذبہ مزید پیدا ہوا۔ اُنہوں نے اپنی معذوری کو کبھی راستے میں حائل نہیں ہونے دیا ۔ وہ ایک بہادر ، نڈر، حوصلہ مند ، مضبوط اور با ہمت خاتون بنکر معاشرے میں رونما ہوئیں۔ اپنے حصے کا دیا جلانے کے لیے اور دکھی لوگوں کا سہارا بننے کے لیے ” چراغ منزل ” کے نام سے این جی او شروع کی جہاں معذور افراد ، دکھی انسانیت اور بے سہارا لوگوں کے لیے ہمہ وقت کام میں مصروف عمل رہیں۔

قومی اور بین الاقوامی سطح کے ہر فورم پر خود کو منوایا اور پھر ان کی خدمات کی بدولت حکومت پاکستان نے قومی اعزاز ” تمغہ خدمت ” سے نوازا۔

اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے وہ کینسر جیسی بیماری میں مبتلا ہو گئیں۔ کینسر جیسی بیماری سے لڑتے ہوئے وہ آخرکار اس دنیا فانی کو الوداع کہہ گئیں۔
وہ جب بھی ملتیں تو آگے بڑھنے کے لئے نصحیت کرتیں اور کہتیں کہ تعلیم کے ذریعے ہی تبدیلی ممکن ہے.

ان سے میری آخری ملاقات رحلت سے چار روز قبل ہوئی جو مختصر تھی۔ بہت مشکل اور ہمت کر کے نسرین باجی نے کہا” میرے ماموں نہیں آئے”۔ ہم نے کہا باجی وہ آپ سے ملنے آئیں گے اور پھر تھوڑی دیر خاموش ہو گئیں۔ گہرا سانس لیا اور پھر مشکل سے کہا کہ ” ماموں اور مامی کو میرا سلام دینا” بس یہ اخری الفاظ تھے اور آخری ملاقات.

خدا حافظ باجی

اپنا تبصرہ بھیجیں