پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی جاری کر دی گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کا پبلک ورژن جاری کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی کابینہ کے ارکان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔

قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق بہت باتیں کی گئیں، ہم نے پوری دنیا کی پالیسیاں دیکھی ہیں، پاکستان کی تمام پالیسیاں اعلیٰ معیارکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قومی سلامتی پربہت بحث ہوئی، پاکستان کے تمام شعبوں کی بہت اچھی پالیسیاں ہیں،جوبنتی ہیں اور اپڈیٹ ہوتی ہیں۔

معید یوسف کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی کا اوریجنل ڈاکومنٹ کلاسیفائیڈ ہے لیکن وزیراعظم نے کہا تھا کہ پالیسی کوپبلک ہونا چاہیے۔

قومی سلامتی پالیسی کے سامنے آنے والے نکات کے مطابق کشمیر کو پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا ہے جبکہ پالیسی میں معیشت کے تحفظ کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی سے قوم کا قبلہ درست کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 100 سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیراعظم 50 صفحات پر مشتمل پالیسی کے نکات کا اجراء کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی معاشی، عسکری اور انسانی سکیورٹی کے 3بنیادی نکات پر مشتمل ہو گی جبکہ اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظر ثانی کی جائے گی، قومی سلامتی پالیسی پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا اور نئی حکومت کو پالیسی پر رد و بدل کا اختیار حاصل ہو گا۔

ذرائع کے مطابق خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک سے تجارت قومی سلامتی پالیسی کا بنیادی نقطہ ہو گا جبکہ ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہو گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی میں ملکی وسائل بڑھانے کی حکمت عملی دی گئی ہے اور کشمیر کو پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کو پالیسی کی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔

قومی سلامتی پالیسی کے حوالے سے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کا بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے، ہجرت، صحت، پانی، ماحولیات، فوڈ، صنفی امتیاز کو ہیومن سکیورٹی کے اہم عناصر قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران سے معاملات بڑھانے کا اختیار حکومت کو تجویز کیا گیا ہے جبکہ گڈ گورننس، سیاسی استحکام، اور وفاق کی مضبوطی بھی قومی سلامتی پالیسی کا حصہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں