خربوزہ خواتین کی صحت پر کون سے مضر اثرات مرتب کرتا ہے؟پڑھیئے اس رپورٹ میں

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) خربوزہ اور تونا (Tuna)مچھلی بہت صحت مندانہ چیزیں ہیں لیکن حاملہ خواتین کے لیے سائنسدانوں نے وارننگ جاری کر دی ہے کہ وہ ان دونوں چیزوں سے گریز کریں ورنہ ان میں اسقاط حمل کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

میل آن لائن کی روپرٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”خربوزے میں 90فیصد H20، 9فیصد کاربوہائیڈریٹس اور 1فیصد پروٹین اور چکنائی ہوتی ہے، جو انتہائی مفید اجزاءہیں لیکن بدقسمتی سے اس کی جلد بیکٹیریا کی نمو کے لیے انتہائی بہترین جگہ ہوتی ہے اور یہ بیکٹیریا حاملہ خواتین میں اسقاط حمل کے خطرے میں اضافہ کر دیتے ہیں۔“

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”بہت دھونے کے باوجود خربوزے کی جلد سے ان بیکٹیریا کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا چنانچہ حاملہ خواتین کے لیے مناسب ہے کہ وہ اسے کھانے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ تونا مچھلی بھی ابھی تمام تر غذائی اہمیت کے باوجود حاملہ خواتین کے لیے مضر ہوتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ تونا مچھلی میں پارہ ہوتا ہے جو خواتین کے پیٹ میں نمو پاتے بچے کے عصبی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔اگر حاملہ خواتین تونا مچھلی کھانا ہی چاہتی ہیں تو ایک ہفتے میں 140گرام سے زیادہ ہرگز مت کھائیں۔ لیکن بہترین یہی ہے کہ وہ اسے کھانے سے اجتناب برتیں۔“

کیٹاگری میں : صحت