نقطہ نظر/ کرن عزیز کشمیری Kiranazizkashmiri@gmail.com

ایران کیساتھ جوہری مذاکرات

ایران اور یورپی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کا مقصد جوہری پروگرام ہے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا یہ سلسلہ گزشتہ برس نومبر سے آسٹریا کے شہر میں شروع ہوا ایران کافی عرصے سے اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے ایران اور یورپی طاقتوں کے درمیان 2015 میں ہوا سمجھوتا بحال کرنا ہے اسرائیل کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ایران اور یورپی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا دور نہ آئے واضے رہے کہ 6 برس پہلے یہ معاہدہ امریکا میں طے ہوا تھا معاہدے کا مقصد مشرق وسطی کو خطرناک ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے پاک رکھنا تھا اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ 2019 میں ایران نے امریکہ کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے پر تیل کی تجارت روک دینے کی دھمکی دی تھی ایران نے امریکہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں پر سخت احتجاج کیا تھا امریکہ نے ایران پر پابندیاں لگاتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک سے کہا تھا کہ ایران سے تجارت بند کر دی جائے اس امریکی اعلان کے بعد ایران نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ ایران اس ضمن میں دنیا کی 40 فیصد تجارت روک دے گا جس کے نتیجے میں دنیا کی بیس فیصد تجارت کا حصہ بھی رک جائے گا

یہ سخت اعلان ایران کو ایک ایسے وقت میں کرنا پڑا جب سخت تجارتی اور اقتصادی پابندیوں کے خطرات منڈلا رہے تھے ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے راستے سے روز 1 کروڑ 70 لاکھ بیرل تیل دنیا کو جاتا ہے ایران نے جنگ کی بات کرنے والے ممالک کو خبردار کیا تھا کہ ایران پر حملہ کرنے والے ملک کو میدان جنگ بنا دیں گے اور اس سلسلے میں اپنی زمین کی بھرپور حفاظت کریں گے ایران پر پابندیوں کو امریکی ڈپریشن قرار دیا گیا تھا بار بار امریکی پابندیوں کے بارے میں ایران کا یہ کہنا تھا کہ امریکی پالیسی ناکام ہوچکی ہے تیل کی خرید و فروخت کے حوالے سے 2019 میں ایران نے امریکہ کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ تمام تر مخالفت کے باوجود تیل بیچ کر دکھائیں گے ایران کو دفاع کے ذرائع سے محروم کیا گیا تو بدلے میں ہم نے میزائل حاصل کئے جوہری ایندھن سے محروم کرنے کے باوجود اسے حاصل کیا گیا

امریکہ ایران کے خلاف تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود دھمکیوں اور شکایتوں کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوا امریکہ ایران کے روایتی صارفین تک تیل نہ پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہا جبکہ ایران نے جوابی وار کرتے ہوئے امریکہ پر واضح کیا تھا کہ ایران اپنے تمام صارفین تک تیل پہنچا کر رہے گا اور امریکی دھمکیوں کے دباو میں کسی صورت نہیں آئے گا جب کہ امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیاں لگنے کے بعد ایران کو اپنے صارفین کو تیل فروخت کرنے میں واضح طور پر دشواری ہوئی گزشتہ برس سے ہی ایران نے یہ اعلان کیا تھا کہ دفاعی مقصد کے میزائل پروگرام کو فروغ دیا جائے گا اور یہ امر اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایٹمی پروگرام تسلی بخش اور ملکی دفاع کے ضمن میں ہے امریکہ کی طرف سے ایران کے فوجی معائنے کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکہ کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی

امریکہ کی جانب سے بغیر کسی دائرے کے ایرانی فوجی مرکز کے معائنے کا اعلان کیا گیا تھا اس سلسلے میں ایران نے واضح اور دو ٹوک اعلان کا جواب دیا تھا کہ ایران قانونی دائرہ کار سے ہٹ کر کسی بھی قانونی کاروائی کی اجازت نہیں دے گا ایران نے امریکی دھمکیوں اور پابندیوں کا ڈٹ کر جواب دیا اس ضمن میں ایران کی جانب سے امریکہ سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کسی بھی ملک کی فوجی معلومات انتہائی حساس ہوتی ہے اور ہر ملک اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے اور ملکی سلامتی کے ضمن میں بھرپور اقدامات کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے

واضح رہے کہ ایران پر امریکہ کی جانب سے لگنے والی پابندیوں کے بعد بھارت نے بھی ایران سے اپنے تعلقات میں سردمہری کا مظاہرہ کیا اور امریکی اعلانات کی نہ صرف بھرپور تائید کی بلکہ حمایت بھی جاری رکھی ٹرمپ نے 2015کے ایران اور امریکہ سمیت دیگر ممالک کے معاہدے کو سخت ٹھیس پہنچائی تھی ٹرمپ کے غلط فیصلے کے براہ راست اثرات ایران اور امریکا کے باہمی تعلقات پر پڑے جب کہ نئی امریکی حکومت نے جب ایران سے معاہدہ بحال کرنے کی بات کی تو اسرائیل کی سخت تنقید شروع ہوگئی جس کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوئی ایران کے ساتھ معاہدہ بحال کرنے میں امریکہ کافی بے چین ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں