آزاد کشمیر کی سیاست میں تنویر الیاس کی دبنگ انٹری

راجہ شہزاد معظم

قارئین محترم! سیاست بڑا بے رحم کھیل ہے،یہاں بڑے بڑے شہسوار زمین بوس ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات ایسی انہونیاں ہو جاتی ہیں جن کا انسانی وہم و گمان احاطہ نہیں کر سکتا۔سردار تنویر الیاس کی آزاد کشمیر کی سیاست میں انٹری سیاسی حلقوں کے لئے بھونچال سے کم نہیں۔وہ ایک سلجھے ہوئے اور جدید خیالات کے حامل شخص ہیں۔انہوں نے کشمیر کی سیاسی بساط میں ایسے مہرے استعمال کئے کہ بہت ہی کم عرصے میں وہ ریاست جموں و کشمیر کی سیاست کے بے تاج بادشاہ تصور کئے جاتے ہیں۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری جیسے منجھے ہوئے اور زمانہ شناس سیاستدان کی موجودگی میں پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کی صدارت حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔لیکن اس باہمت اور معاملہ فہم شخص نے سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی صدارت کا منصب نہ صرف سنبھالا بلکہ اس منصب کے حق کو بھی بطریق احسن خوب نبھایا۔انہوں نے 2021کے عام انتخابات میں نہ صرف اپنے حلقہء انتخاب سے ہٹ کر وسطی باغ سے کامیابی حاصل کی بلکہ پورے آزاد کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف کو اس حد تک منظم کیا کہ وہ آسانی سے حکومت سازی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

قارئین! وسطی باغ کوئی عام حلقہء انتخاب نہیں بلکہ اس حلقے میں سیاست کے بڑے بڑے سورما موجود ہیں لیکن اس کے باوجود سردار تنویر الیاس نے یہاں سے نہ صرف بھاری اکثریت سے انتخابی معرکہ سر کیا بلکہ اس حلقے کے اندر ایک مظبوط اور طاقت ور ٹیم بھی تشکیل دینے میں کامیاب ہوئے۔وسطی باغ میں شیر باغ سردار قمرالزمان خان کی مسلمہ سیاسی حیثیت سے کسی کو مفر نہیں لیکن حالیہ الیکشنز میں تنویر الیاس کی کامیاب حکمت عملی نے سردار قمرالزمان کا سیاسی سحر توڑ ڈالا۔راجہ محمد یٰسین خان کی درویشی اور مسلم کانفرنس کا ووٹ بینک بھی سردار تنویر الیاس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔راجہ مشتاق منہاس کی مسلم لیگ ن میں مجوزہ حیثیت بھی سردار تنویر الیاس کی سیاست پر رتی بھر اثر انداز نہ ہو سکی۔سردار تنویر الیاس کشمیر کی سیاست میں نووارد ہونے کے باوجود عبدالرشید ترابی اور کرنل نسیم مرحوم کی اہلیہ محترمہ امتیاز نسیم کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب رہے۔ہاں البتہ راجہ وقاص نسیم کی ناگہانی موت نے بھی قدرتی طور پر سردار تنویر الیاس کی جیت میں کردار ادا کیا۔ان کی موجودگی میں شائد سردار صاحب کو انتخابی سیاست میں کچھ نہ کچھ دشواری ہو سکتی تھی۔سردار ضیاء القمر اور راجہ محمد یٰسین خان نے کسی حد تک سردار صاحب کے لئے مشکلات ضرور پیدا کیں لیکن وہ کوئی بڑا اپ سیٹ کرنے میں ناکام رہے۔

سردار تنویر الیاس نے عمران خان کے ویژن کو آزاد کشمیر میں گلی گلی اور محلے محلے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔وسطی باغ سے انہوں نے سردار افتخار رشید چغتائی جیسے منجھے ہوئے سیاسی کارکن کو نہ صرف اپنی ٹیم کا حصہ بنایا بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ افتخار رشید نے ہی سردار تنویر الیاس کی وسطی باغ سے کامیابی پر مہر ثبت کی۔اس کے علاوہ راجہ امتیاز طاہر اور سردار طاہر اکبر جیسے جہاندیدہ سیاسی کارکنان کو ساتھ ملا کر سردار تنویر الیاس نے وسطی باغ کی سیٹ اپنے نام کی۔کرنل ریٹائرڈ راجہ ضمیر کی اسٹیبلشمنٹ میں طاقت اور اپنے قبیلے میں پذیرائی بھی سردار تنویر الیاس کی بچھائی ہوئی سیاسی بساط کو معمولی نقصان بھی نہ پہنچا سکی۔راجہ خورشید اور پروفیسر جلیل کی حمایت بھی ان کی کامیابی کی ضمانت ثابت ہوئی۔

سردار تنویر الیاس وزارت عظمیٰ کے مظبوط ترین امیدوار تھے لیکن جماعت کی بہتری اور مفاد کے لئے انہوں نے سردار عبدالقیوم نیازی کی وزارت عظمیٰ کو خوش دلی یا بے دلی سے بحرحال قبول کیا۔اور خود سینئر موسٹ وزیر کا عہدہ سنبھالا۔سردار تنویر الیاس ایک غیر روایتی اور مظبوط اعصاب کے مالک انسان ہیں۔ان کا ویژن وسیع ہے اور وہ سیاست میں تعصب اور قبیلائی رسوم و رواج کے خلاف ہیں۔اکنامک زون،سپیشل ٹورزم،ٹریفک پلاننگ اور ٹاؤن پلاننگ جیسی اصطلاحات پہلی دفعہ آزاد کشمیر میں سردار تنویر الیاس نے متعارف کروائیں۔اللہ ان کو ان تمام مشنز میں کامیابی سے ہمکنار کرے تا کہ ہم بحیثیت کشمیری دنیا کے نقشے میں ایک مظبوط اور طاقتور قوم کی حیثیت سے جانے پہچانے جائیں۔آئی ٹی پارکس،کیبل کار اور نیو ہاؤسنگ سوسائیٹیز کا تصور بھی سردار صاحب کے متعارف کردہ منصوبہ ہائے جات ہیں۔ان سب منصوبہ جات کا ایک مکمل خاکہ سردار تنویر الیاس کے پاس موجود ہے لیکن تاحال روایتی سیاسی منظر نامہ ان کے راہ کی بڑی رکاوٹ ہے۔

سردار تنویر الیاس کی وجہ سے پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں یوں فعال ہوئی کہ صرف دو نشستوں سے لمبی چھلانگ لگا کر پی ٹی آئی ستائیس نشستوں تک جا پہنچی اور ریاست کی مقبول ترین عوامی جماعت بن گئی۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سردار تنویر الیاس کی وجہ سے ہی آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں مسلم لیگ ن کی جانب سے محترمہ مریم نواز نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ساری ریاست کے طوفانی دورے کئے لیکن وہ بھی پی ٹی آئی کو آزاد کشمیر میں حکومت سازی کرنے سے روک نہ سکیں۔

سردار تنویر الیاس کی آزاد کشمیر میں سیاست کی ابتداء ہی ایک بڑے حادثے سے شروع ہوئی،وہ یوں کہ ان کے چچا اور سینئر پارلیمنٹرین سردار صغیر چغتائی اپنی انتخابی مہم کے دوران گاڑی کے حادثے میں اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ لیکن سردار تنویر الیاس نے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا اور میدان سیاست کی پر خار وادی میں بے خوف و خطر کود پڑے۔سردار تنویر الیاس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے آزاد کشمیر کی قد آور شخصیات سردار عبدالقیوم خان،غازیء ملت سردار ابراہیم خان اور راجہ ممتاز حسین راٹھور کی طرح اپنے آبائی حلقہء انتخاب کو چھوڑ کر دوسرے حلقے سے کامیابی حاصل کی۔اب دیکھتے ہیں کہ کیا قدرت ان کے حصے میں بھی وہی سیاسی مقام لکھ رہی ہے جو متذکرہ بالا تینوں سیاستدانوں کو آزاد کشمیر میں نصیب ہوئی۔بحرحال سردار تنویر الیاس نے جس طرح سے ریاست کی سیاست میں دبنگ انٹری کی ہے اور جس طرح کے ان کے عزائم ہیں ان سے لگتاہے کہ سردار صاحب یقیننا آزاد کشمیر کی سیاست کے شہنشاہ ثابت ہوں گے۔ آزاد کشمیر کے عوام کی نیک تمنائیں سردار تنویر الیاس صاحب کے ساتھ ہیں۔اللہ انہیں اس خطے کی تعمیر و ترقی کا ضامن ثابت کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں