۔۔۔۔۔اللہ داد صدیقی۔۔۔۔۔

خمیازہ

نا کردہ گناہ ہمارے اعمال نامے میں درج ہیں
چند اوباشوں کی
پسند و نا پسند کا چمتکار
کچھ راندہ درگاہ
کچھ قبول بارگاہ ہوئے

بد نیتی ضرورت اور فیشن تھی
نیک نیتی پہ دوچار فیصلے بھی اتفاقاً ہوگئے
اندھے قانون کی
کھلی آنکھوں میں سفید نشان دکھائی دینے لگے
لاعلاج موتیے کے داغ
دل دماغ اور آنکھ میں ایک ہی وقت میں اترتے ہیں

تانک جھانک میں کیسا کمال
جو آئین میں لکھا بھی نہیں تھا
وہ سب سے پہلے دکھائی دیا
منصف کی آنکھ بادی النظر کی رازداں ہے
عدالت کا دل
دائیں طرف ہر جذبے سے بے پرواہ
دماغ ہمیشہ سٹاک ایکسچینج کی طرح گرتا بڑھتا
وکیلوں کا راگ بھی ایک شور ہے
کدورت ان کا رزق ہے
جگت ان کا فیشن ہے
نظریہ ضرورت ازل سے ایمان ہے
انصاف کو دور سے ہاتھ ملتے دیکھا تو
اس پہ بہت ترس آیا
میں نے تسلی دی
خدا آپ کو اور مجھے آخرت میں اجر دے گا
اے انصاف تو
انصاف سے اور
میں تیری دید سے محرومی کا مقدر لے کر آئے ہیں
انصاف کی برستی آنکھیں دیکھ کر
میں آگے بڑھ گیا

فیصلوں کی فائلیں روتی
اور قاضی و محتسب فریاد کرتے
چیختے
کلین بولڈ اور
ڈرائی کلین ہوتے پائے گئے
حریص اقتدار
عیش خانوں میں تھرکتے
بہکتے اور آنکھیں سینکتے
شاہوں سے زیادہ شاہوں کے
وفادار بھی ان گنہگار آنکھوں میں عذاب چھوڑ گئے
چند ایک ..
نہ تھے مگر
دیکھتے دیکھتے صادق و امین
.اور مسند نشین ہوگئے
فقیروں کے دکھ پہ روتی آنکھوں میں
گلابی ڈورے تیرتے دیکھ کر
میرا ایمان لرزنے
اور میں ہنسنے لگا
چلیں اب
منصف اور انصاف کے لیے
دعا درود بھی ہوگیا

جو سائیکل پہ اپنی تقدیس کا سکہ بٹھانے آئے
انھیں
ہیلی کاپٹر میں الوداع کیا

فرشتہ صفت اک دم جلاد بنے تو
ہم نے جان کی امان چاہی
جو وفاداری کے وعدے پر عطا ہوئی
چند دھلے ہوئے ایمان دار ہاتھ
ڈالر سمیٹتے ہوئے لتھڑ گئے تو
وفادار ویلفیئر نے
بپستمہ کا اہتمام کیا

تیل، آٹا، چینی سونے کے بہاؤ تک پہنچ گئے
لٹیرے حکمرانی کے حقدار ہوئے
خزانے کی کنجی ہر دربار میں منہ مارنے والوں کو دے گئی
ہمارا چولھا اور دل راکھ بن گئے
اب ہم گیس کی جگہ اپنی خواہشیں جلاتے ہیں
مہنگائی کے تنور میں خواب پھینک دیئے ہیں

اور سفاک بد روحیں
افلاس کی چادر میں لپیٹ کر
گلہ دبا کر کہتی ہیں
کہ
گھبرانا نہیں
دیکھو نا
سڑکیں گاڑیوں سے بھری ہیں
بائیک بھی دھڑا دھڑ بک رہے ہیں
ڈالر بڑھ گیا تو کیا ہوا
مہنگائی کا جن سر چڑھ گیا تو کیا ہوا
معیشت تو عروج پر ہے

آہ
معشیت!!!
سادہ لوحو
آقاؤں کے گھر کا بجٹ ہے

فرمانِ شاہی ہے
ہم اور ہیں
وہ اور تھے
پرانے ستم بھول جاؤ
اب ہینڈ سم آقاؤں کا زمانہ ہے
ان کی اطاعت سیکھو

میں سوچ رہا ہوں
یہ خاموشی
یہ سربسجود ہجوم
اب اور کیسے اطاعت کرے!!!

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں