ایران روس چین پر مشتمل ٹرائیکا کی تیاریاں،مغرب فارغ، طاقت کا توازن مشرقی ممالک میں‌منتقل ۔۔۔ فیصل محمد کا انکشاف

تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک ) شام میں داعیش سمیت مغربی طاقتوں کے خلاف روس اور ایران کی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی اور اب یہ ہی حکمت عملی چین کی وساطت کے ساتھ خطہ میں دوسری جگہ بھی اپنائی جائیگی اس بات کا اظہار بین القوامی تنازعات میں ثالثی کے ماہر فیصل محمد نے ایرانی ٹی وی چینل ” سحر ” کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی

انھوں نے کہا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر ابراھیم رئیسی نے تین گھنٹے روسی صدر سے اہم معاملات طے کیئے جس میں اقتصادی اور بنکاری امور کے علاوہ اہم اسٹریٹجک امور پر فیصلہ ہوئے جن کی تفصیلات فی الحال خفیہ رکھی جائنگی تاہم ان فیصلوں کے نتیجہ میں ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ طاقت کا توازن اب مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہورہا ہے اور اس منتقلی میں ایران نے اپنی خارجہ پالیسی کو مہارت سے استعمال کرتے ہوئے اپنے لیئے جگہ بنائی ورنہ ایک ایسی ریاست جس پر طویل عرصہ سے پابندیاں عائد ہوں

عالمی طاقتوں کے ساتھ دفاعی اشتراک نہیں بناسکتی روسی صدر پیوٹن اور ابراھیم رئیسی کی ملاقات کے فورا بعد روس ایران اور چین کی فوجی مشقیں اس کامیابی کی واضح مثال ہے فیصل محمد نے انکشاف کیا کہ پیوٹن نے شام ہر ایرانی موقف کی حمایت اور ایران نے یوکرائن پر روسی موقف کو تسلیم کرتے ہوئے حکمت عملی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا

اس دوطرفہ فیصلہ کو چین کی بھرپور حمایت حاصل ہے یہ ہی وجہ ہے کہ روس نے یوکرائن کے حوالے سے اپنے مطالبات میں توسیع کرتے ہوئے NATO کو 1997 کی پوزیشن پر لانے کا مطالبہ کردیا

اپنا تبصرہ بھیجیں