میڈیکل کے طلبہ کو سیکھنے کے لیے انسانی لاشوں کا متبادل مل گیا

کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی میں انسانی جسم کی تمام خصوصیت رکھنے والی جدید ڈمی یا سمیولیٹر لیے آصف رحمٰن سیمولیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے۔سینٹر میں میڈیکل طلبہ کو علاج معالجے اور انسانی جسم کے متعلق تعلیم دینے کے لیے ان مصنوعی مریضوں کو استعمال کیا جائے گا۔

اس سمیولیٹر کی مدد سے کسی بھی مرض کی تمام علامات پیدا کی جاسکتی ہیں تاکہ میڈیکل طلبہ اس بیماری میں تبدیل ہوتی ہوئی علامات کا علاج کرسکیں۔سمیولیٹر کے ساتھ اسکرینز جڑی ہیں، جن پر مریض کا ای سی جی، دل کی دھڑکن، آکسیجن لیول اور دیگر وائٹلز دکھائی دیتی ہیں۔

طلبہ سمیولیشن کے دوران اصلی مریض کو دی جانے والی ادویات کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ مصنوعی مریض کا بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، بخار چیک کرنے کے علاوہ انہیں آکسیجن اور ڈرپ بھی لگاتے ہیں۔

ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد عاصم ہاشمی کا کہنا ہے کہ ان کے بیچ نے یونیورسٹی میں فرش لگانے کے ساتھ اس مرکز کی لفٹ عطیہ کی جبکہ سمیولیٹر ڈاؤ یونیورسٹی نے منگوائے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے میڈیکل طلبہ کو سکھانے کے لیے انسانی لاش استعمال کی جاتی تھی، مگر اب اس مرکز کے بعد انسانی لاش کی ضرورت نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں