بچوں‌میں‌کرونا کا پھیلاؤ، سائنسدانوں نے اہم انکشاف کردیا

جرمن سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ بالغ افراد کی نسبت بچوں کے منہ سے کم وائرل ذرات خارج ہوتے ہیں۔جرمنی کی چیریٹی یونیورسٹی میڈیسین میں ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے 8 سے 10 سال کی عمر کے 16 صحت بچوں کو شامل کیا تھا، جن کے منہ سے نکلنے والے وائرل ذرات کے حجم کو جانچنے کےلیے لیزرپارٹیکل کا استعمال کیا گیا۔

تحقیق سے پتہ چلا کہ بچے جب چیختے تو ان کے منہ سے سب سے زیادہ ذرات خارج ہوتے ہیں اس کے بعد گانے، بولنے اور آخر میں سانس لینے کا نمبر ہے۔اس طرح کی تحقیق میں 15 بالغ افراد کو بھی شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد اندازہ ہوا کہ بچوں چار گنا کم وائرل ذرات خارج کرتے ہیں۔

تحقیق میں ثابت ہوا کہ چیخنے کے دوران ایرول بننے کی مقدار بچوں اور بالغ افراد میں ملتی جلتی ہوتی ہے۔سائنس دانوں نے تحقیق کے نتائج میں بتایا کہ بچوں کی روزمرہ کی زندگی میں شور شرابہ عام ہوتا ہے، اسی لیے کہیں ایسا عندیہ نہیں ملتا کہ اسکول یا دیگر جگہوں پر جانے سے بچوں میں بیماری کا خطرہ نہیں ہوتا، تاہم ہوا نکاسی اور دیگر عناصر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔تحقیق سے سائنس دانوں نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بچوں سے کرونا پھیلنے کا خطرہ بالغ افراد کی نسبت چار گنا کم ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں