چٹان/ عائشہ نور

عنوان : ” بت شکن ” ( قسط نمبر 1)!!!

یمین الدولہ ابوالقاسم سلطان محمود غزنوی ابنِ سبکتگین 2 نومبر 971 کو ایک ترک غلمان کماندار سبکتگین کے ہاں زابلستان ( موجودہ افغانستان) کے شہر غزنی میں پیدا ہوئے، جنہوں نے 977 میں غزنوی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ سلطان نے اپنے 32 سالہ دور حکومت میں بے شمار جنگیں لڑیں​ مگر کبھی شکست نا کھائی وہ ایک ایسا عظیم فاتح تھے جو تمام عمر ناقابل شکست رہے ۔ غزنوی سلطنت جو مشرق وسطیٰ، افغانستان، پاکستان، ہندوستان اور ایران کے کچھ علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی اور دو صدیوں تک قائم رہی آپ اس کے دوسرے حاکم تھے۔ آپ پہلے مسلمان حکمران تھے جس نے اپنے نام کے ساتھ سلطان کا لقب اختیار کیا۔سلطان محمود غزنوی کا شمار تاریخ کے اعلیٰ ترین سالاروں اور نہایت جلیل القدراور درویش صفت حکمرانوں میں ہوتا ہے ،جب محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا اور فتح حاصل کرنے کے بعد واپس چلے گئے، اس کے بعد ڈھائی تین سو سال تک کسی مسلمان فوج نے نا تو سندھ کا رخ کیا اور نا ہی درہ خیبر کے راستے سے ہندوستان کی طرف پیش قدمی کی ۔

اس دوران ہندوستان ہندو راجاؤں کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔سلطان محمود غزنوی نے درہ خیبرکے راستے ہندوستان پر 17 حملے کیے اور ہر حملے میں ہندو راجاؤں کو شکست دی، 998ء میں غزنی کے تحت پر براجمان ہونے کے بعد سلطان کا ارادہ اپنی ریاست کو وسطی ایشیا کی طرف وسعت دینے کا تھا ۔ اس وقت ہندوستان میں پشاور سے لے کر مشرقی پنجاب تک راجہ جے پال کی حکومت تھی ،اور راجہ کا پایه تخت ” لاہور”شہر تھا اور پنڈی بھٹیاں سے لے کر کشمیر تک راجہ بھاٹیہ کی حکومت تھی۔

راجہ جے پال نے تین مرتبہ غزنوی سلطنت پر حملہ کیا اور سلطان کے علاقے جلال آباد پر قبضہ کرلیا، جس کی وجہ سے سلطان محمود غزنوی کو وسطی ایشیا سے اپنی فوجیں واپس بلا کر ہندوستان کا رخ کرناپڑا ۔ سلطان محمود غزنوی نے حملہ کرکے درہ خیبر اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کرلیا ۔‎ راجہ جے پال اور راجہ بھاٹیہ کے ساتھ جنگ‎ میں سلطان محمود غزنوی کی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ راجہ جے پال اور راجہ بھاٹیہ کو شکست دے کر اپنی مشرقی سرحد کو محفوظ کریں اور پھر سے وسطی ایشیاء کی طرف لوٹ جائیں۔ خیبر کی مہم کے اگلے سال سلطان محمود غزنوی نے پشاور میں راجہ جے پال کا مقابلہ کیا، راجہ جے پال نے سلطان کے مقابلے کے لیے جو فوج لائی تھی، اس میں چالیس ہاتھی اور کئی ہزار سپاہی شامل تھے جب کہ سلطان کی فوج صرف چند ہزار سپاہیوں پر مشتمل تھی۔سلطان محمود غزنوی کی جنگی حکمت عملی کا اہم پہلو یہ تھا کہ سلطان انتہائی تیزی کے ساتھ اپنی فوج کے ایک دستے کو ہٹاتے اور دوسری جگہ پر حملہ آور ہو جاتے، جس سے ہندوستانی سپاہ کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتاتھا ۔

اس حکمت عملی کی وجہ سے جلد ہی مدمقابل فوج کے پاؤں اکھڑ گئے اور سلطان محمود غزنوی اپنی اگلی صفحوں میں لڑتے ہوئے راجہ جے پال کے سر پر پہنچ گئے۔ راجہ جے پال نے ہتھیار ڈال دئیے اور راجہ کو اپنے تمام بیٹوں سمیت گرفتار ہونا پڑا۔ اس موقع پر سلطان نے اعلیٰ​ اخلاق اور کردار کا مظاھرہ کرتے ہوئے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی اور ان سے امن سے رہنے کا وعدہ لیا اور فدیہ لے کر آزاد کردیا۔‎اس شکست کے بعد راجہ جے پال کو بہت سبکی اٹھانا پڑی اور راجہ جےپال نے اپنے پایه تخت “لاہور ” لوٹنے کے چنددنوں بعد ہی سلطنت اپنے بیٹے انندپال ( انندپال کا شمار ہندوستان کے انتہائی قابل اور باصلاحیت سپہ سالار میں ہوتاتھا)کو سونپ کر پرانے برگد کے درخت کے نیچے ایک بہت بڑی چتا جلاکر خودکشی کرلی۔ ( جاری ہے۔۔۔۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں