یوم انہدام جنت البقیع ۔ ایک تاریخ

سید عارف گردیزی
آج سے تقریباً تین سو سال قبل 1730 میں عرب میں ایک عالم دین کا عروج ہونا شروع ہوا جسے اس وقت کے مشہور برطانوی جاسوس ہمفرے کی مدد حاصل تھی ۔ہمفرے خود اسلامی تاریخ فقہ حدیث اور قرآن سمیت عربی فارسی اور ترکی زبانوں پر عبور رکھتا تھا ۔
جس عالم دین کی بات ہو رہی اسکا نام شیخ عبد وہاب نجدی تھا جو نجد موجودہ سعودی عرب کا رہنے والا تھا۔ اور اسی کے فکری پیرو کاروں کو وہابی کہا جاتا ہے۔ شیخ عبد وہاب نجدی فکری طور پر شیخ ابن تیمیہ کا پیروکار تھا ۔ شیخ ابن تیمیہ وحدانیت کی تشریح میں آخیر درجے کی سخت ترین تشریح رکھتے تھے جس میں شرک کا شائبہ ہونے تک بھی مشرک کا سر تن سے جدا کر دینے والی باتیں ہیں ۔ البدایہ والنہایہ اور التوحید جیسی کتابیں انکی مشہور تصنیفات ہیں۔ہمفرے نے اپنی جاسوسی رپورٹ جو اردو میں ہمفرے کے اعترافات کے نام سے شائع بھی ہو چکی ہے لکھا ہے کہ وہ شیخ عبد وہاب نجدی کے ساتھ انہی سخت گیر موضوعات پر گفتگو کرتا اور شیخ کی حوصلہ افزائی کرتا رہتا تھا ۔ شیخ کا موقف تھا اگر مسلمان کسی قبریا مزار پر حاضری دے یا دعا کے لیے ہاتھ بلند کرے تو اس کو قتل کر دینا چاہیے ۔وہ کسی بھی قسم کے وسیلے کا قائل نہیں تھا ۔شیخ کی وفات کے بعد اسکے شاگردوں نے اپنی اس فکر سے حجاز و عراق کے کہیں علاقوں میں اپنا ایک گروہ بنا لیا جنہوں نے کربلا اور نجف کے مزارات کو بدعت کا مرکز کہہ کر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی ۔ اٹھارہویں صدی کے نصف تک شیخ عبد وہاب نجدی کے پیروکار وں کی تعداد کافی بڑھ گئی اور سب سے بڑھ کر آل سعود کے قبیلے میں اسکا اثر و رسوخ بڑھ ۔آل سعود کے مختصر قبیلے کے طور ایک علاقے پر حکمرانی کرتا تھا۔ اس پورے خطے پر سلطنت عثمانیہ کی حکمرانی تھی لیکن عرب چھوٹے چھوٹے قبائل میں اسی طرح محدود حکمرانی کرتے تھے ۔
آل سعود کی مزہبی فکر اب وہابی نظریہ کے مطابق تھی ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے لیے جو برطانوی جاسوس عرب میں سر گرم رہا اسکا نام تھا لارنس آف عربیہ ۔لارننس آف عربیہ نے حجاز کے مختلف قباہل کو ترکوں کے خلاف یکجا کرنے کے لیے بڑا اہم کردار ادا کیا تھا ۔
خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ کا انتظام صدیوں سے ہاشمی خاندان کے پاس تھا اور شریف حسین جسے شریف مکہ بھی کہا جاتا تھا اسکا قبیلہ 1923 تک اسکے منتظم تھے ۔شریف حسین نے معتدل فکر رکھتے تھے اور انہی دور میں جنت البقیع میں مزارات اور قبور موجود تھی وہ شیخ عبد وہاب نجدی کی فکر کے خلاف تھے ۔ شریف حسین کے سات بیٹے تھے ۔جنہوں نے سیاسی ضرورت اور عرب کی حکمرانی کے لالچ میں لارنس آف عربیہ کے ساتھ مل کر ترکوں کو شکست دینے میں اپنا کردار ادا کیا تھا ۔لیکن سلطنت عثمانیہ کی شکست کے فوری بعد ہی جب برطانیہ نے شریف مکہ کے بجائے اس ل سعود کو اس علاقے کی حکمرانی سونپ دی تو آل سعود نے حجاز کے باقی علاقوں کو ملا کر سعودی عرب کے نام سے الگ ملک بنایا لیا ۔ یعنی حجاز کا قدیم نام بدل کر آل سعود ایک قبیلے کے نام پر سعودی عرب رکھ دیا تو شریف حسین نے بغاوت کر دی جسے قتل کر دیا گیا ۔جبکہ اسکے باقی بیٹوں کو ایک معاہدے کے تحت حجاز سے باہر یعنی اردن عراق و شام وغیرہ میں حکمران بنا کر بھیجا گیا ۔جنہیں وہاں کچھ عرصہ بعد بغاوتوں کی وجہ سے ایک ایک کر کے قتل کر دیا گیا ۔ صرف اردن وہ واحد علاقہ ہے جہاں آج بھی شریف حسین کے بیٹے کی حکومت ہے ۔
جبکہ آل سعود شریف حسین کے خاندان کے نکل جانے کے بعد مقدس مقامات مکہ و مدینہ منورہ کا حکمران بن گیا ۔
آل سعود کے سخت اسلامی نظریات اور لارنس آف عربیہ اور برطانیہ کی مکمل حمایت کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمانوں نےمولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی قیادت میں سعودی عرب کے قیام کی سخت مخالفت کی اور ہندوستان میں تحریک چلائی ۔ہندوستان کے سنی و شیعہ دونوں مسلکوں کا خیال تھا کہ برطانوی حمایت یافتہ سخت گیر آل سعود خاندان مسلمانوں کے مقدس شہروں کی حکمرانی ایک فتنہ برپا کرے گی ۔ کیونکہ یہاں کے مسلمان علماء انکی سخت گیر اسلامی فکر سے آشنا تھے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی یہ تحریک بے مقصد رہی اور 1925 میں آل سعود نے حکومت ملتے ہی اگلے سال جنت البقیع میں موجود اہلبیت اور اصحاب کرام کی قبور کو شہید کر دیا۔ کہیں ایک جید صحابہ اور آیمہ اہلبیت کے مزار گرا دیے گئے۔ قبور کو صاف کر بالکل زمین کے برابر کر دیا گیا ۔ وہابی فکر اپنے اس اقدام کا جواز ایک حدیث سے دیتے ہیں ۔جس میں قبروں کو ہموار کرنے کا حکم دیا گیا ۔ اور قبروں پر فاتحہ خوانی بدعت اور شرک ہے ۔
لہزا باقی دنیا کے مسلمانوں کے اعتراض اور شور شرابے کے باوجود آل سعود نے مسلمانوں کے مذہبی تاریخی مقامات کا نشان مٹا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائے ولادت والے گھر میں لایبریری بنا دی گئی ۔ روضہ مبارک کے گرد سخت قسم کی حفاظتی جالی لگا کر وہاں کھڑے ہو کر دعاکرنا منع ہوگیا ۔
تیل کی دولت نے سعودی مزہبی فکر کو چار چاند لگا دئیے ۔اور اس نظریے کے پیروکار پوری دنیا میں بہترین مساجد مدرسوں اور مالی معاونت کے ساتھ قائم ہیں ۔
محمد بن سلمان کے موجود ولی عہد بننے کے بعد سعودی عرب نے سخت گیر مزہبی فکر سے حکومتی سطح پر کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دی ہے ۔ وہ سعودی عرب کو سیکولر ریاست بنانے کی طرف جا رہے ہیں ۔عین ممکن ہے کہ ایک دن محمد بن سلمان کو خیال آئے کہ جنت البقیع کے مزارات کو دوبارہ تعمیر کر کے پوری دنیا سے زائرین کی مد میں اربوں روپے زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے ۔
اس طرح یہ تاریخ مقامات دوبارہ بحال ہو سکتے ہیں ۔ورنہ بقول اقبال ۔
دنیا کو ہے اس مہدی بر حق کی ضرورت
ہو جسکی نگاہ زلزلہ عالم افکار

اپنا تبصرہ بھیجیں