پاکستانی نژاد امریکی وفد کے ہمراہ ،پی ٹی وی کے اینکر پرسن کا دورہِ اسرائیل،اعلی سطحی ملاقاتیں

اسلام آباد (سید فیصل علی) امریکہ، میں مقیم پاکستانی شہریوں سمیت بنگلہ دیش ،اور پاکستان میں مقیم شہریوں پربمی وفد حال ہی میں دورہ اسرائیل پر تل ابیب میں موجود ہے

ذرائع کے مطابق متحدہ ارب امارات کے تعاون سے اس اہم ترین دورے میں ،پاکستان ٹیلی ویژن سے منسلک نامور صحافی اینکر پرسن احمد قریشی سمیت امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد شہری انیلا علی بھی شامل ہیں جو کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کی متحرک کارکن ہیں ،

اس وفد نے دورہ اسرائیل کے دوران دارالحکومت تل ابیب میں اسرائیلی صدر آئزک ہرزگ سے ملاقات کی ہے جہاں پاک اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کیلیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جبکہ اس وفد نے ،دیگر تاریخی و مذہبی مقامات کے دورے بھی کیے ہیں ،

ذرائع کے مطابق تقریباً 16 رکنی اس وفد کے دیگر حکام میں پاکستان کا پہلا یہودی شہری فشل بن خلد بھی شامل ہے جسے اسرائیل میں پہلی بار داخلے کی اجازت دی گئی ہے،وفد کے دیگر اراکین میں اکثریت امریکہ اور متحدہ ارب امارات میں موجود مسلمانوں کی ہے جن کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے کچھ مسلمان شہری بھی اس وفد کا حصہ ہیں

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ ارب امارات کی حکومت نے اس دورے میں بھرپور تعاون کیا ہے دوبئی میں موجود اسرائیلی سفارت خانے کے تعاون سے ان پاکستانیوں کو اسرائیل میں داخلے کے اجازت نامے دیے گئے جس کے بعد یو اے ای کی حکومت کی سرپرستی میں یہ وفد دبئی سے اسرائیلی دارلحکومت کو روانہ ہوا ۔اس وفد کی وہاں اعلی سطحی ملاقاتیں جاری ہیں ،

واضح رہے اس اس وفد میں موجود انیلا علی جو کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کی متحرک کارکن ہیں انہوں نے گزشتہ برس پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماؤں مریم نواز اور احسن اقبال سے ملاقاتیں بھی کیں تھیں جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن سے منسلک احمد قریشی مشرق وسطی کے امور کے ماہر ہیں اور پاکستان کی جانب سے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے مختلف پلیٹ فارمز سے گفتگو بھی کرتے رہے ہیں،

تاہم احمد قریشی نے اپنے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر اس دورے کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں جبکہ انیلا علی نے اس دورے کے حوالے سے اپنے ٹوئٹر پیغام اس دورے کی تصدیق کی ہے

واضح رہے اس سے قبل مسلم لیگ نواز کے حکومت کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کے سابق رہنما مولانا اجمل قادری نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے حکام سے بات چیت کے لئے اسرائیل بھیجا تھا۔تاہم نواز شریف نے اس بیان کی تردید کی تھی،

واضح رہے کہ اس سے قبل ایک انٹرویو کے دوران مشرق وسطی پر گہری نظر رکھنےوالے نامور لکھاری نور داہری نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں پاکستان سے تعلقات معمول پر لانے کے لئے دو وفود اسرائیل بھیجے تھے۔

نامور مصنف نور ڈاہری کے مطابق، ‘تاریخ کو دیکھیں تو نواز شریف نے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے دو وفود بھیجے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر بھٹو نے بھی ایک وفد اسرائیل بھیجا تھا جب وہ پاکستان کی چیف ایگزیکٹو تھیں۔

واضح رہے گزشتہ ہفتوں میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف دورہ سعودی عرب کے بعد متحدہ ارب امارات کے دورے پر بھی گئے تھے ،اسرائیل اور عرب ریاستوں کے درمیان سال 2020 کے آخر میں تعلقات معمول پر آنے کے بعد متحدہ ارب امارات کو دیگر مسلم ریاستوں جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ان کے اور اسرائیل کے درمیان اک پل کی صورت میں دیکھا جارہا ہے ،

پاکستان کے وزیراعظم کے دورہ UAE کے بعد اس پاکستانی وفد کے اسرائیل جانے پر کافی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ تاثر دیکھنے کو مل رہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالےسے پاکستان اور اسرائیل میں خفیہ سفارتکاری ہو رہی ہے یا نہیں ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں