سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر کے دو اور ہائی کورٹ کے چھ ججز کی تعیناتیوں کو عدالت العالیہ میں چیلنج کر دیا گیا

اسلام آباد (خواجہ کاشف میر۔سٹیٹ ویوز) آزادجموں کشمیر میں عدالتی اور آئینی بحران ایک مرتبہ پھر سر اٹھانے لگا۔ سپریم کورٹ کے تین مستقل ججز کی اسامیوں میں سے دو نئے ججز اور ہائی کورٹ کے حال ہی میں تعینات ہونے والے چھ ججز کی تعیناتیوں کو آئین و قانون کے مغائر قرار دیتے ہوئے آزادکشمیر کے سینئر وکلاء نے عدالت عالیہ میں چیلنج کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کی استدعا کی ہے۔

بیرسٹر عدنان نواز خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے عدالت العظمیٰ آزادجموں وکشمیر میں حال ہی میں تعینات ہونے والے دوججز خواجہ محمدنسیم اور رضاء علی خان اور عدالت العالیہ آزاد جموں وکشمیر میں حال ہی میں تعینات ہونے والے چھ ججز محمد اعجاز خان،سید شاہد بہار ،چوہدری خالد رشید،محمد حبیب ضیاء ،سردارلیاقت حسین اور میاں عارف حسین کی تعیناتیوں کو عدالت العالیہ میں دومختلف رٹ پٹیشنز کے ذریعہ چیلنج کیا ہے۔

عدالت العظمیٰ کے دو ججز کے خلاف رٹ پٹیشن بیرسٹر عدنان نواز خان نے بطور پٹیشنر دائر کی ہے جبکہ عدالت العالیہ آزادکے چھ ججز کے خلاف رٹ پٹیشن میں موجودہ صدر ڈسڑکٹ بار ایسوسی ایشن پونچھ راولاکوٹ سردارجاوید شریف ایڈووکیٹ پٹیشنر ہیں۔ ابتدائی سماعت چیف جسٹس عدالت العالیہ آزاد جموں وکشمیر جناب صداقت حسین صاحب راجہ بروزسموارکریں گے ۔

دونوں رٹ پٹیشنز میں ان ججز کے علاوہ آزاد حکومت، کشمیر کونسل، صدر ریاست اور وزارت قانون کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری متعلقہ فریقین کو بذمرہ رسپانڈنٹس رکھاگیا ہے۔

پٹیشنرز نے رٹ پٹیشنز ہا میں موقف لیا ہے کہ آفیشل رسپانڈنٹس نے حال ہی میں تعینات ہونے والے ججز کی تعیناتیاں آئین اور قانون کے مغائر کی ہیں اور سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر کے حالیہ فیصلہ جات (جن میں بالا عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کی نسبت رہنما اصول طے کئے گئے ہیں )کو مکمل طور پر نظراندازکیا گیا ہے۔

پٹیشنرز کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آزادجموں وکشمیر نےمقدمات عنوانی ۱۔محمد یونس طاہر بنام شوکت عزیز (2012 SCR 213 ) ۲۔بیرسٹر عدنان نواز خان بنام آزاد حکومت وغیرہ (2020 SCR 443 )۳۔تبسم آفتاب علوی بنام راجہ وسیم یونس(2020 SCR 01)میں تفصیل کے ساتھ بالا عدالتوں میں ججز کی تقرری کا طریقہ کار بیان کر رکھا ہے تاہم آفیشل رسپانڈنٹس نے اس طریقہ کار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے من مانے طریقہ سے تعیناتیاں کی ہیں جن کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہے۔

پٹیشنرز کا مزید یہ کہنا ہے کہ آفیشل رسپانڈنٹس نے حال ہی میں تعینات ہونے والے ججز کی تعیناتیوں کی نسبت تمام ریکارڈ اپنے قبضہ میں رکھا ہوا ہے اور پٹیشنرز کی جانب سے ہر ممکن کوشش کے باوجود متعلقہ ریکارڈ کی نقولات جاری نہ کی گئی ہیں تاہم حال ہی میں مختلف سوشل میڈیا فورمز پر متعلقہ ریکارڈ کی کچھ نقولات کوپھیلایا گیا جنہیں رٹ پٹیشنز کے ساتھ لف کیا گیا ہے۔

پٹیشنرز نے رٹ پٹیشن ہا کے ہمراہ علیحدہ سے درخواست شامل کرتے ہوئے عدالت سے استدعا بھی کی ہے کہ عدالت اپنےاختیارات کوبروئے کار لاتے ہوئے آفیشل رسپانڈنٹس سے ججز کی تعیناتیوں کی نسبت مکمل ریکارڈ بھی طلب فرمائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں