جاوید ملک /شب وروز

پیسہ بنانے والے

سابق وزیر اعظم عمران خان گذ شتہ روز جہلم کے جلسہ میں خوب گرجے برسے انہوں نے اس بار ایک نیا الزام بھی تخلیق کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیٹے مولانا سعد محمود کو مواصلات کی وزارت اس لئیے دلوائی ہے کہ وہ مال بنانا چاہتے ہیں. جتنی سڑکیں بنیں گی اتنا ہی تگڑا مال ان کی تجوریوں کی زینت بنے گا .گویا وہ مال بنانے والی وزارتوں کے بارے میں کافی کچھ سیکھ چکے ہیں. ویسے تو یہ الزام ابھی بچگانہ ہے کیونکہ ایک نئے وزیر نے ابھی باضابطہ اپنی اننگز کا آغاز کیا ہے کچھ عرصہ بعد ہی ہم وثوق سے یہ اندازہ لگا سکیں گے کہ وہ خدمت کی سیاست پر عمل پیرا ہیں یا مال بناؤ مہم میں لگے ہوئے ہیں لیکن سابقہ ساڑھے تین سال کپتان برسراقتدار رہے اوراس پورا عرصہ ان کے چہیتے مراد سعید کے پاس اس اہم وزارت کا قلمدان تھا.

تحریک انصاف شفافیت اور ایمانداری کے جس نعرے کے ساتھ سامنے آئی تھی اس کی حقیقت تو ہر روز پرت در پرت کھلتی جا رہی ہے گوگی کے دفاع سے یہ غلط فہمی بھی دور ہو گئی ہے کہ کپتان خود بھولے بھالے ڈیٹول سوپ سے دھلے دھلائے تھے اگر کچھ ہیرا پھیری ہوئی بھی ہے تو وہ نچلی سطح پر ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کی گئی ہے۔سابقہ حکومت میں مال کس مہارت اور فنکاری سے بنایا گیا اس کی بہت ساری مثالیں ہیں لیکن آج لوٹ مار کی ایک چھوٹی کہانی پیش خدمت ہے .

آئندہ کالموں میں مزید کہانیاں بھی آپ کے سامنے رکھتا چلا جاؤنگا. سات آٹھ ماہ قبل بلکسر سے مظفر گڑھ روڈ کو سی این ڈبلیو سے لے کر این ایچ اے کے حوالہ کیا گیا .این ایچ اے نے اس سڑک کا انتظام سنبھالتے ہی بڑے پیمانے پر اسے جدید بنیادوں پر ہموار کرنے کا فیصلہ کیا. واقفان حال کہتے ہیں کہ مذکورہ سڑک جب این ایچ اے کے تصرف میں آئی تو بہت اچھی حالت میں تھی لیکن چونکہ مال بنانا مقصود تھا تو سڑک کی لیپا پوتی شروع ہوئی اور دو ماہ میں تیس سے چالیس کروڑ روپے سڑک میں جھونک دئیے گئے .

چونکہ سڑک کی حالت پہلے ہی اچھی تھی تو ٹھیکیداروں نے این ایچ اے کے تخمینہ سے بہت کم ریٹ پر ٹھیکے لیے جس کا نتیجہ حسب توقع مال کے نہ بننے کی صورت میں سامنے آیا اب اصل مقصد کیلئے ایک بار پھر مراد سعید اور اس کے چہیتوں نے سرجوڑ لیے سب سے پہلے اس سڑک کو بلکسر این ایچ اے زون سے نکالا گیا. سڑک کیلئے ایک نیا زون ترتیب دیا گیا .اس میں من پسند افسران کو تعنیات کیا گیا اور بڑے ڈاکے کی منصوبہ بندی شروع ہوئی اب فیصلہ کیا گیا کہ اس سڑک کی نئے سرے سے مرمت ہوگی اور اس کیلئے بارہ ارب روپے سے زائد کی ٹینڈرنگ کرکے کام شروع کرا دیا گیا.

یوں ایک سڑک کی بار بار مرمت کرکے اپنا الو تو سیدھا کیا گیا لیکن اصل مرمت عوام کی ہوئی اس سڑک پر کام اب بھی جاری ہے اوراگر اس کی انسپکشن اعلی سطح پر ہو تو سب سامنے آ جائے گا کیونکہ بھاری کمیشن دے کر ٹھیکیدار اب جو کام کر رہا ہے وہ انتہائی ناقص ہے میرے کپتان آپ نے درست کہا کہ سڑکیں بنیں گی تو مال آئے گا کیونکہ آپ کا چہیتا تو ایک سڑک کو چھہ ماہ کے عرصہ میں دو دو بار مرمت کرکے مال بنا چکا ہے اور آپ لوگوں کو اب اس کا وسیع تجربہ ہے۔

آپ حیران مت ہوں یہ مراد سعید دور کا نیشنل ہائی وے کا سب سے چھوٹا ڈاکہ ہے. انہوں نے ایسی ایسی فنکاریاں دکھائی ہیں کہ ان کی تفصیل میں جائیں تو روح کانپ جاتی ہے .بعض ناقدین ان کو نااہل کہتے ہیں لیکن یہ بھی ان کی خام خیالی ہے یہ انتہائی ماہر فنکار تھے .جس طرح کپتان نے اپنی خراب کارکردگی کو ایک خط تلے خوبصورتی سے دفن کر دیا ہے یہ بھی بڑی مہارت سے پورا منصوبہ ترتیب دیتے تھے.

ایک کام صرف کاغذوں میں کروایا جاتا پھر اس پر مٹی ڈالنے کیلئے اسی پر بڑا منصوبہ دوبارہ کر دیا جاتا .پچھلا کیا کرایا غائب نئے منصوبے میں بھی مال تگڑا ہنگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی آئے چوکھا مدا ہی غائب ہوگیا. اب کرلو آپ نے جو کرنا ہے .میں دو دہائیوں سے مواصلات کی رپورٹنگ کر رہا ہوں لیکن جس دیدہ دلیری اور مہارت سے سابق دور میں لوٹ مار ہوئی اور پھر جس ڈھٹائی سے مصنوعی اور غلط اعداد و شمار کے ذریعے قوم کو گمراہ کیا گیا اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی.

آج عمران خان جو بیانیہ لے کر عوام کی ہمدردیاں سمیٹ رہے ہیں میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ بھی ان کی ایک چال اور فنکاری ہے. اس بارے کچھ حقائق آئندہ کالم میں تفصیل سے آپ کے سامنے رکھونگا. ابھی صرف ایک سوال چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ پورے ساڑھے تین سال چین آپ سے کیوں ناراض رہا؟ اگر آپ اتنا ہی امریکہ مخالف ایجنڈے پر گامزن تھے تو سی پیک کی رفتار رول بیک کی حد تک سست کیوں کی؟

مواصلات کی وزارت سی پیک کا ایک اہم جزو ہے اور اس کے وفاقی وزیر نے ساڑھے تین سال میں چین کے کتنے دورے کئے اور اگر نہیں کئے تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟ چین جیسے دیرینہ دوست کو ناراض کرنے کیلئے مراد سعید نے کیا کیا پاپڑ بیلے اور ہر دن کس طرح خلیج بڑھاتے گئے .ایک اہم پاکستانی جو ہمیشہ چین اور پاکستان کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا ہے اور جس کی خدمات پر اسے پرائڈ آف پرفارمنس دینا چاہیے تھے اس کو کپتان اور اس کے چہیتے نے کس کے کہنے پر مسلسل بدنام کیا اور اس حد تک زچ کیا کہ وہ بددل ہو کر ملک چھوڑ گیا. یہ ساری کہانی میں ضرور لکھوں گا اور پھر آپ سے پوچھوں گا کہ امریکہ کا ایجنڈا تو آپ پورا کر رہے تھے پھر امریکہ کو آپ سے کیا تکلیف تھی. چونکہ میں نے ان کی مہارت،فنکاری اور کھیل کو بہت قریب سے دیکھا ہے اس لیے میں اندازہ کرسکتا ہوں کہ یہ تازہ کھیل ہے کیا؟ میرے کپتان گذارش صرف اتنی ہے کہ سڑکیں بنانے سے مال نہیں بنتا آپ کے چہیتے نے جس مہارت سے سڑکوں کی مرمت پر مرمت کی ہے اس سے مال بنتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں