چٹان/ عائشہ نور

” بت شکن ” قسط 2

موجودہ پاکستان کے علاقےکے شہر لاہور سے پشاورشہر تک کا علاقہ “راجہ جے پال” کے زیر سلطنت تھا، جےپال کاشکست سے دلبرداشتہ ہوکر یوں خودکشی کرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھابلکہ اس کے پس منظر میں راجہ جے پال کی جنگی مہمات کاایک طویل سلسلہ ہے ۔ تاریخی طور پر پنجاب کی ہندوشاہی اور غزنی کے ” ترکوں “کے مابین ایک پرانی رقابت موجود تھی ، پنجاب کی ہندوشاہی نے وادی کابل کو سامانیوں سے چھینا تھا، یہاں تک کہ سلطنت غزنویہ کے بانی الپتیگن نے زابلستان کے سامانی والی کو نکال باہر کردیا،اور وادی کابل اور مشرقی افغانستان پر سات سو سالہ​ پرانی ہندوشاہی کو شکست دے کر ” ریاست غزنویہ “کی بنیاد رکھی تھی۔ جب راجہ جےپال کے پڑوس میں ” سبکتگین” کی حکومت طاقت ور ہورہی تھی تو راجہ جے پال نے ” غزنی” پرحملہ کردیا مگر راجہ کو شکست ہوئی اور گرفتار بھی ہونا پڑا.

خراج ادا کرنے کا وعدہ کرکے راجہ جےپال کو رہائی مل گئ ، مگر لاہور واپس آکر راجہ جے پال نے معاہدہ توڑ دیا ، جس کے جواب میں ” سبکتگین “” نےحملہ کرکے پشاور کو فتح کرلیا، بات یہیں ختم نہیں ہوئی اور 986ء میں پشاور اور جلال آباد کے علاقوں ایک اوربڑی جنگ ہوئی ، جس میں راجہ جے پال کو شکست ہوئی اور “سبکتگین” کی سلطنت دریائے سندھ کے ساتھ اٹک تک پھیل گئی ۔سلطان محمود نے حکومت سنبھالتے ہی پشاور تک کے علاقوں میں چھوٹی چھوٹی مہمات کرکے اپنی سلطنت کو مضبوط کیا تو راجہ جے پال بھی اپنی سابقہ شکست کا بدلہ لینے کو بے تاب تھے، چنانچہ راجہ جے پال نے ایک بڑا لشکر تیار کیا اور غزنی کی مہم کا آغاز کردیا ، جس کا مقصد اپنے کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کرنا تھا۔ 1001 میں پشاور کے قریب راجہ جے پال اور سلطان محمودغزنوی​ کی فوجوں کاجو ٹکراؤ ہوا ،اس سےقبل راجہ جے پال نے اپنے اردگرد کے ہندو راجاؤں سے مدد لی تھی تاہم ان سب تدابیر کے باوجود فتح سلطان محمود غزنوی کے حصے میں آئی ، اور راجہ جےپال نے اس تمام تر صورتحال سے دلبرداشتہ ہوکر اپنی جان دےدی ۔ راجہ کے بیٹے ” انندپال” کے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعدسلطان محمود غزنوی نے 1004میں دوسراحملہ “بھنڈا یا بھیرہ”کی ریاست پرکیا جو کہ دریائے ستلج کے قریبی علاقوں پر مشتمل تھی، جس کا راجہ بجی راؤ تھا۔

جبکہ تیسرا حملہ ملتان کے حاکم ابوالفتح کے خلاف 1006 ء میں کیا لیکن راستے میں ہی دریائے سندھ کے کنارے راجہ جے پال کے بیٹے راجہ انند پال کے ساتھ مڈبھیڑ ہوگئی ۔سخت ترین جنگ کے بعد” انند پال” کو شکست ہوئی اور بعض روایات کے مطابق راجہ انند پال کو پنجاب چھوڑ کر پناہ کےلیے کشمیر جانا پڑ گیا۔ انند پال کو شکست دینے کے بعد سلطان محمود نے ملتان کا رخ کیا اور ملتان کو فتح کرنے کے بعد ملتان کا حاکم جے پال ہی کے پوتے” سکھ پال” کو مقررکیاجو اسلام قبول کرچکا تھا۔ جلد ہی سلطان محمود کو پھر ملتان واپس جانا پڑا, جہاں پر سکھ پال نے بغاوت کردی تھی۔ 1008ء میں سلطان نے سکھ پال کو شکست دے کر معزول کردیا۔ اسی دوران انند پال نے کشمیر سے واپس آکر اپنے کھوئے ہوئے علاقے دوبارہ حاصل کرنے کی مہم کا آغاز کردیا۔ اس کے ساتھ ہی انند پال نے دیگرہندو راجاؤں سے مدد لے کر ایک بہت بڑا لشکر بھی اکٹھا جمع کرلیاتھا۔

1008ء کے آخری دنوں میں ایک بار پھر دریائے سندھ کے قریب اٹک کے علاقے میں جنگ کا آغاز ہوا۔ خونریز جنگ کے بعد انند پال کو ایک بار پھر شکست ہوئی۔ 1009ء کے آخری مہینوں میں ایک بار پھر سلطان محمود نے ہندوستان پر حملہ کرکے پہلے “نرائن پور” کی ریاست کو فتح کیا اور پھر 1010ء میں ملتان کے گردونواح کے علاقےبھی اپنی سلطنت میں شامل کرلئے۔ 1014ء میں سلطان محمودغزنوی نے انند پال کے بیٹے”راجہ لوجن پال” کو موجودہ کوہستان کے علاقے میں شکست دی اور ” لوجن پال” کی مدد کے لئے کشمیر سے آئے ہوئے ایک بڑے لشکر کو بھی شکست سے دوچار کیا۔ 1015 ءمیں سلطان محمودغزنوی​ نے کشمیر پربھی حملہ کیا لیکن برف باری کے باعث راستے بند ہونے پر بغیر جنگ کے ہی واپس آنا پڑا۔

1018 ءمیں سلطان محمودغزنوی​ نے پہلی بار پنجاب کے پار دریائے جمنا کے علاقے میں اپنی فوج کو اُتارا اور ہندوؤں کے مذہبی مقام “متھرا” کو فتح کرنے کے بعد ایک مشہور ریاست “قنوج” کا محاصرہ بھی کرلیا۔ “قنوج” کے راجہ نے سلطان کو صلح کا پیغام بھیجا اور سلطان کا باج گزار بننا قبول کرلیا​۔ 1019ء میں قنوج کی ملحقہ ریاست “کالنجر” کے راجہ گنڈا نے قنوج پر حملہ کرکے راجہ کو قتل کردیا، جب اس کی خبر سلطان محمودغزنوی​ تک پہنچی تو وہ اپنے مطیع راجہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے ایک جنگی مہم پر روانہ ہوئے اور کالنجر پر حملہ کرکے اسے شکست فاش سے دوچار کیا۔

راجہ لوجن پال اور راجہ گنڈاجو کے سلطان محمودغزنوی​ سے شکست خوردہ تھے۔ دونوں نے مشترکہ طورپر ایک بڑے حملے کی تیاری کی اور ایک بار پھر 1019ء میں ہی سلطان کو دوبارہ ان دونوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ہندستان کا سفر کرنا پڑا۔ نتیجتاً دونوں راجاؤں کو شکست ہوئی اور ہندستان سے ہندو شاہی راج کا ہمیشہ کےلیے خاتمہ ہوگیا۔۔۔ ( جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں