انتخابی اصلاحات ، اوور سیز پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا

حکمران اتحاد نے عام انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات پر کام شروع کر دیا ہے تاہم الیکشن عام الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور انٹرنیٹ کے ذریعے نہیں ہوگا۔حکمران اتحاد کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اکثریت کے زور پر انتخابی اصلاحات کے نام پر متنازع ترین انتخابی ترامیم کیں جنہیں ختم کرنا ہو گا۔

مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال اور پیپلز پارٹی کی شازیہ مری کا کہنا ہے کہ متعدد ترامیم آئین کی خلاف ورزی ہیں جنہیں یک طرفہ طور پر منظور کرایا گیا۔احسن اقبال کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں کو ماضی کی طرح نادرا سے واپس لے کر الیکشن کمیشن کے حوالے کیا جائے گا.

حلقہ بندیوں کو ماضی کی طرح آبادی کے تناسب سے ترتیب دیا جائے گا ناکہ تحریک انصاف کی ترمیم کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد کے حساب سے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا ختم ہونا لازم ہے، پی ٹی آئی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال چاہتی تھی جو ترقی یافتہ دنیا میں متنازع ہیں اور ڈیجیٹل دھاندلی کا ذریعہ بھی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ووٹنگ کے عمل میں انٹرنیٹ کا استعمال ختم کیا جائے گا کیونکہ جہاں پینٹاگون کے کمپیوٹرز تک ہیک ہو جاتے ہیں وہاں الیکشن ہیک کرنا مشکل نہیں ہو گا، ان کے لیے محفوظ ووٹنگ کا طریقہ وضع کرنا ہو گا۔

حکمران اتحاد کا کہنا ہے کہ بیرونی دنیا میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے مخصوص نشستیں رکھی جائیں گی تاکہ ان کے نمائندے خود پارلیمنٹ میں ان کی آواز بن کر ان کے مسائل حل کریں ناکہ فلوریڈا میں بیٹھا ایک شخص جیک آباد کے ایم این اے کو ووٹ دے کر اسے ڈھونڈتا رہے۔

ن لیگ کا ماننا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں مقیم پاکستانیوں کی الیکشن کمپین اور ووٹنگ کے اصول وضع کرنا ہوں گے کیونکہ وہاں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت بھی نہیں ہے۔لیگی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے ترمیم کرنا ہو گی کہ آر ٹی ایس کا دوبارہ استعمال نہ ہو سکے، ترمیم کرنا ہو گی کہ گنتی کا عمل مزید شفاف ہو اور پولنگ ایجنٹس کا کردار مزید بڑھایا جا سکے، ترمیم کرنا ہو گی کہ سی سی ٹی وی کیمرے کا مزید استعمال ہو سکے اور الیکشن کے عمل میں مزید شفافیت لائی جا سکے۔

احسن اقبال کا کہنا ہے ترمیم کرنا ہو گی کہ نتائج مرتب کرنے کے نظام میں مزید بہتری لائی جا سکے تاکہ ماضی کے اعتراضات سامنے نہ آ سکیں، یہ ترمیم بھی کرنا ہو گی کہ انتظامی ادارے اور انتظامی وسائل کسی کے حق میں استعمال نہ ہو سکیں، ترمیم کرنا ہو گی کہ سرکاری نشریاتی اداروں کا کسی کے حق یا مخالفت میں استعمال نہ ہو سکے۔

حکمران اتحاد کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے انعقاد سے پہلے ایسی ترامیم کرنا ہوں گی کہ پری پول دھاندلی کو بھی روکا جا سکے اور تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر الیکشن میں آزادی سے حصہ لینے کی اجازت ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں