وفاقی حکومت ترقیاتی بجٹ میں 50 فیصد کمی کرنے کی ہدایت کر رہی، پی ٹی آئی اپنے پہلے بجٹ میں روزگار کی فراہمی کے منصوبے لائے گی. وزیر حکومت خواجہ فاروق احمد

اسلام آباد(بیورورپورٹ)آزادجموں کشمیر بزنس فورم کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں آزادکشمیر کے آمدہ بجٹ کی مناسبت سے پری بجٹ سیمینار کا اہتمام کیا گیا. سیمینار سے حکومتی ذمہ داران ، کاروباری کمیونٹی کے سرکردہ رہنماوں ، معاشی ماہرین اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے اپنی تجاویز سے آگاہ کیا. بزنس فورم آزادکشمیر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے آزادکشمیر میں کاروبار کرنے والی بزنس کمیونٹی اور نئے سرمایہ کاروں کے سرمائے کے تحفظ کیلئے پالیسی وضح کی جائے. آمدہ بجٹ میں سیاحت ، آئی ٹی ، ہائیڈل سمیت انڈسٹری کے شعبے کو فوقیت دی جائے تاکہ حکومت کی آمدن میں اضافے کے ساتھ خطے میں بیروزگاری کے خاتمے کی طرف پیش قدمی ممکن ہو سکے۔ پری بجٹ سیمینار سے مہمان خصوصی وزیر لوکل گورنمنٹ آزادکشمیر خواجہ فاروق احمد، صدر تقریب بزنس فورم آزادکشمیر کے صدر سردار عمرا ن عزیز، آل پاکستان تاجران تنظیم کے صدر چوہدری کاشف، پی ٹی آئی کے سیکٹری فنانس ذولفقار عباسی،ڈائریکٹر جنرل کشمیر لبریشن کمیشن ارشاد محمود، آزاد جموں کشمیر الیکٹرانک میڈیا کے سابق صدر خواجہ کاشف میر، معروف سیاسی و کارباری رہنما نثار شائق، نثار صابر، شعبہ گورننس کے ماہر ڈاکٹر وقاص علی کوثر و دیگر نے خطاب کیا

وزیر حکومت آزادجموں کشمیر خواجہ فاروق احمد نے تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان کی سربراہی میں قائم ہماری حکومت رواں مالی سال کے 28 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے 45 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ لانا چاہتی ہےلیکن مرکز میں قائم مسلم لیگ ن کی حکومت ہمارے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرتے ہوئے 12 سے 14 ارب روپے کا ترقیاتی بجت لانے کا کہہ رہی ہے. وفاقی وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی کی طرف سے حکومت آزادکشمیرکو کہا جارہا ہے کہ پہلے سے موجود بجٹ میں 50 فیصد کمی کی جائے، اگر ہم اپنے بجٹ میں اس قدر کمی کریں گے تو جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا کام بھی رک جائے گا اور نئے منصوبے دینے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے. خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ آزادکشمیر میں ن لیگ حکومت کے دور میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ہر سال ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا جبکہ مرکز میں موجود ن لیگ نے آتے ہی آزادکشمیر کے ترقیاتی بجٹ کے 5 ارب روپے کی قسط روک دی ہے جو آزادکشمیر کے عوام کے ساتھ نہ انصافی ہے۔ وزیر لوکل گورنمنٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزادکشمیر میں واپدا کی طرف سے بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ کی جارہی ہے جسکی وجہ سے عوام شدید قرب سے گزر رہے،

آزادکشمیر میں منگلا ڈیم ، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، پترینڈ پراجیکٹ، کوہالہ ہائیڈل پراجیکٹ، آزادپتن ہائیدل پراجیکت اور دیگر منصوبوں کی وجہ سے پاکستان روشن ہے اورزرعی زمینیں سیراب ہو رہی ہیں لیکن ان پن بجلی منصوبوں اور ڈیموں کی خاطر دریائے جہلم اور نیلم کو نالہ لئی بنا دیا گیا۔ مظفرآباد شہر کا درجہ حرارت 4 ڈگری سے بڑھ گیا ہے، گزشتہ حکومتوں کی نا اہلی کی وجہ سے نیلم جہلم منصوبے سے متاثر ہونے والے مظفرآباد شہر و گردو نواح کیلئے جو 7 ارب روپے جھیلیں بنانے کیلئے رکھے گئے تھے وہ خرچ نہ ہو سکے اور وفاقی حکومت وہ رقم واپس لے گئی ، اب ہم اس رقم کو واپس حاصل کرنے اور جھیلیں بنانے کیلئے وفاقی حکومت سے مذاکرات کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری پاکستان کو اپنی منزل سمجھتے ہیں لہذا ہماری آواز اور مسائل وک سنا جائے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم کی جائے، ہمارے ترقیاتی بجٹ سے کٹوتی کی گئی رقم بحال کی جائے ، سالانا بجٹ 45 ارب روپے کرنے دیا جائے تاکہ بیس کیمپ میں رہنے والے لوگوں کے مسائل حل ہو سکیں. وزیر حکومت خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ آزادکشمیر حکومت کو خودکفیل کرنے اور شارات پر اٹھنے والے اخراجات کو برداشت کرنے کیلئے تمام مرکزی شاہرات پر ٹیکس لگا رہے ہیں، حکومت کے پاس بجٹ ہو گا تو عوام کی سہولت کیلئے خرچ کیا جائے گا. ہم ذرائع آمدن بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیدہ ریلیف دیا جاسکے. خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات اکتوبر مین کرا لے گی تاکہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہو سکیں.

بزنس فورم آزادجموں کشمیر کے صدر سردار عمران عزیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے پری بجٹ سیمینار کا انعقاد اس لیے کیا کہ حکومت کو بجٹ تیاری میں تجاویز دے سکیں ، حکومت کو بھی چاہیے کہ بجٹ تیاری میں کاروباری کمیونٹی کو آن بورڈ رکھے، ابھی تک کاروباری کمیونٹی اور چیمبر آف کامرس سے بجٹ پر مشاورت نہیں کی گئی، ایم ایل ایز، وزراء اور بیوروکریسی کے بنائے گئے بجٹ اس سے قبل بھی آتے رہے لیکن ان کا فائدہ عوام یا کاروباری کمیونٹی کو نہیں ہوا، سردار عمران عزیز نے کہا کہ حکومت کی آمدن میں اضافہ اور بیوروزگاری میں کمی صرف بزنس کمیونٹی لا سکتی ہے ، حکومت ہمارے ساتھ ملکر بجٹ تیار کرے ، بزنس کمیونٹی ہی آزادکشمیر میں سرمایہ کاری لا سکتی ہے. انہوں نے کہا کہ یہ کوش آئیند ہے کہ آزادکشمیر میں اس وقت جو وزیر اعظم ہین وہ ملک کے نامور کاروباری شخصیت بھی ہیں لیکن ان کا کاروبار آزادکشمیر میں نہیں پاکستان میں ہے. آزادکشمیر کے کاروباری کمیونٹی کو کیا مشکلات ہیں اور حکومت کیلئے کاروباری کمیونٹی کیا کر سکتی ہے اس لیے وسیع مشاورت ہونی چاہیے.

پی ٹی آئی آزادکشمیر کے سیکرٹری مالیت و معروف کاروباری شخصیت سردار ذولفقار عباسی نے کہا کہ جدید دنیا میں بجٹ خرچ کرنے سے قبل ہمیشہ ترجیحات کا تعین کیا جاتا ہے، عوام سے رائے لیکر بجٹ بانایا جاتا ہے، محکموں کو بجٹ دیتے وقت ٹاسک دیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی رہی ہے کہ ہمارے ہاں حکومتیں بجٹ بناتے وقت عوام سے رائے نہیں لیتی، سول سوسائیٹی ، کاروباری کمیونٹی سے مشاورت تک نہین کی جاتی اور بجٹ خرچ کرنے کے بعد محکمہ جات سے باز پرس نہیں کی جاتی۔ذولفقار عباسی نے کہا کہ پاکستان کے قریبی ملکوں ترکی، چین، ملائیشیا اور کوریا وغیرہ میں آبادی کے حساب سے پالیسی بنا کر روزگار دینا شروع کیا گیا تب ان ممالک میں ترقی کا عمل شروع ہوا۔ آزادکشمیر میں آج تک حکومتی ترجیحات کا تعین ہی نہیں ہوسکا، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا نہیں کیے گئے کیونکہ پالیسی مرتب کرنے کے لیے اکنامک سروے ہی موجود نہیں، ہمارے پاس بنیادی ڈیٹا ہی موجود نہیں کہ ہماری ضروریات کیا ہیں اور کنسیکٹرز میں حکومت سرمایہ لگا کر بے روزگاری میں کمی ، اپنی آمدن میں اضافہ اور ترقی کا عمل تیز کر سکتی ہے۔ذولفقار عباسی نے کہا کہ 90 کی دہائی میں میرپور اور بھمبر میں انڈسٹری لگائی گئی تو 50 ہزار افراد کو نوکریاں ملیں، حکومت عدم توجہی اور خراب پالیسیوں کی وجہ سے میرپور کی 500 انڈسٹریز میں سے اب صرف 50 یونٹس فعال ہیں اور بھمبر کی انڈسٹری ختم ہو چکی ہے۔

انڈسٹری میں ترقی کی بجائے تنزلی اس لیے ہوئی کیونکہ منگلا ڈیم اپ ریز ہوا تو شہر کو پانی اور سیوریج تک نہیں دیا گیا ،شہر کے لوگوں کو آج تک صاف پانی دستیاب نہیں، حد سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ہے، حکومت نے ٹیکسز میں حد درجہ اضافہ کر رکھا ہے، اس تمام صورتحال میں جب ریاست اندسٹری کی سرپرستی نہیں کرے گی تو سرمایہ کاروں کا نقصان ہو گا اور وہ اپنا سرمایہ منتقل کرنا شروع کر دیں گے اور آج ایسا ہی میرپور اور بھمبر میں ہو رہا ہے. ذولفقار عباسی نے کہا کہ ہماری پارٹی کی حکومت ان تمام مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدگی سے کوششیں شروع کر رہی ہے، آزادجموں کشمیر بنک کو شیڈولد کرنے کیلئے حکومت نے قانونی ضرورت کے مطابق 5 ارب روپے بنک کو منتقل کر دیئے ہیں اور بقیہ 5 ارب روپے پرائیویٹ سیکٹر سے انوسٹ کرائے جارہے ہیں، آزادجموں کشمیر بنک شیدولد ہو گا تو اس خطے کے لوگوں کو آسان شرائط پر حکومت قرضے دلا سکے گی .

جموں کشمیر لبریشن سیل کے ڈائریکٹر جنرل اور حکومت کے میڈیا کنسلٹنٹ ارشاد محمود نے کہا کہ آزادکشمیر میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری کا ہے، آزادکشمیر میں پڑھی لکھی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے جبکہ مردوں کی شرح خواندگی بھی پاکستان بھر میں نمایاں ہے.آزادکشمیر میں سیاحت کے شعبے میں کام کرتے ہوئے بے ورزگاری میں کمی لائی جا سکتی ہے اس لیے سیاحت کی پالیسی بہترین ہونی چاہیئے۔ارشاد محمود نے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس خان کی توجہ سیاحت ، آئی ٹی اور اندسٹری کی طرف زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں غیر مقامی سیاحوں کو بہتر سہولیات کی ضرورت ہے اس لیے خطے مین بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔معاشی نظام کی بہتری کے لیے یونیورسٹیوں کے نظام کو بہتر کرنے کی بھی ضرورت ہے جبکہ روزگار کی فراہمی کیلئے ڈیجٹلائزیشن کی بھی ضرورت ہے۔ حکومت اپنے ماہرین اور تمام سٹیک ہولدرز سے ملکر اس مرتبہ اپنا پہلا اور بہترین بجٹ دے گی .

آزادجموں کشمیر الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے سابق صدر خواجہ کاشف میر نے کہا کہ حکومت کا نارمل میزانیئےکا بجٹ بہت زیادہ ہے، اس بجٹ میں کمی صرف محکامہ جات میں اصلاحات کے ذریعے ممکن ہیں، گزشتہ پانچ سالہ حکومتی دور کے دوران اربوں روپے ترقیاتی بجٹ کے نام پر خرچ ہوئے ، حکومت نے مرکزی شاہرات بہتر بنائین جن کا فائدہ عام عوام کو ہے لیکن کئی ایسے سیکٹرز میں اربوں اور کروڑوں اور اربوں روپے خرچ ہوئے جن کا نہ حکومت کو فائدہ ہوا اور نہ عوام کو سہولت ملی. حکومت کو چاہیئے کہ بجت بنانے کے دوران تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے جبکہ بجت خرچ کرنے والی مشینری کی استتعداد کار میں اضافہ کیا جائے. جن منصوبوں پر بجٹ خرچ ہو رہا ہو انکی مانیٹرنگ کا بہتر انتظام کیا جائے.

گورننس شعبہ کے ماہر ڈاکٹر وقاص کوثرنے کہا کہ آزادکشمیر کی بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت خود ریاست کی سب سے بڑی ملازمت اپنائے ہوئے ہے۔ بجٹ کا بہت بڑا حصہ سرکاری مشینری کی تنخواہوں اور دیگر سہولیات پر خرچ ہو جاتا ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ بہت کم ہے اور اس بجٹ کو خرچ کرنے والی مشینری کی استعدادکار میں اضافے کی ضرورت ہے، وقاص کوثر نے کہا کہ مستقبل میں ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ انڈسٹری کے شعبہ پر خرچ ہونا چاہیئے۔ بجٹ کا بڑا حصہ شعبہ سیاحت ، ہیومن ریسوس خاص کر سکلڈ لیبر پر بجٹ خرچ ہونا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں انڈسٹریل بیس کو مضبوط کرنا ہو گا، سافٹ مارکیٹ دنیا میں تیزی سے آگے بڑھ چکی ہے ، اس لیے اس مارکیٹ سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے پالیسیاں بنائی جانی چاہیے. وقاص کوثر نے کہا کہ آزادکشمیر کے تمام ہی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں میں بجٹ خرچ کرنے کے ماہرین ہونے چاہیئے، سزا اور جزا کا تصور ہونا چاہیئے۔

میرپور سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخسیت بشیر شگو نے کہا کہ میرپور کی انڈسٹری کو ٹیکس فری زون قرار دیا گیا تھا لیکن اب باقی صوبوں کے برابر تیکسز لیے جارہے۔ خراب حکومتی پالسییوں کی وجہ سے ہماری اندسٹری تیزی سے سکڑ رہی ہے، لوڈ شیدنگ کی وجہ سے سرمایہ کار بھی متاثر ہیں اور دیگر کاروباری کمیونٹی بھی متاثر ہے اس لیے موجودہ حکومت کو انڈسٹری کے مسایل حل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے. نثار صابر نے کہا کہ آزادکشمیر میں ایس ای سی پی طرز کے بڑے اداروں کی ضرورت ہے جو اندسٹری کے سیکٹر کیلئے آسانیاں پیدا کر سکیں۔آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دیتے ہوئے تینوں ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں تین آئی ٹی پارک بنائے جانے چاہیئے۔ ای کامرس ، آرٹیفیشل انٹیلی جینس اور فری لانسنگ پر کام کرتے ہوئے روزگار مہیا کیا جا سکتا ہے جس کیلئے بجلی کی مکمل سہولت سمیت بہتر انٹرنیٹ سروس ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں