شرارے /رانا شاہد اقبال خاں

سی پی او راولپنڈی عمر سعید ملک …… قوم کا روشن مستقبل

ابھی کمرے کا دروازہ بمشکل بند ہو پایا تھا کہ میرے چھوٹے بیٹے فہد کی جذبات اور خوشی سے بھرپور آواز برآمدے میں گونجنے لگی ابو آفیسر ہو تو ایسا مزا تو اس جاب کا ہے کیا خوبصورت آفیسر تھا ایک دم کمانڈو ۔متاثر کن شخصیت واہ کیا بات ہے جذبات میں وہ بولے جا رہا تھا اور میں سن رہا تھا

قصہ کچھ یوں تھا کہ گزشتہ روز مجھے اپنے ایک ذاتی کام کے لئے سی پی او راولپنڈی سے ملاقات کے لئے جانا تھا تھا شدید گرمی اور کمزور صحت کی وجہ سے میں اپنے چھوٹے بیٹے فہد فاروق کو بھی اپنے ہمراہ سی پی او آفس راولپنڈی لے گیا میرے صحافتی کیریئر میں بہت کم ایسا ہوا کہ میں کسی بیوروکریٹ سیاستدان سے ملاقات کے لیے لئے اپنے بچوں میں سے کسی کو لے کر گیا بہرکیف سٹی پولیس آفیسر کے آفس میں میری پہلی ملاقات پی آر او سے ہوئی جنہوں نے بڑی خوشدلی سے میرا استقبال کیا اور میری مکمل رہنمائی بھی کی اور کمال مہربانی سے سی پی او صاحب سے میری ملاقات کا اہتمام بھی کرایا سی پی او آفس پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ راولپنڈی کے اب نئے سی پی او عمر سعید ملک صاحب ہیں جو حال ہی میں ٹرانسفر ہو کر آئے کچھ ہی دیر کے بعد مجھے ان کی کمرے میں بٹھا دیا گیا جب کہ سی پی او صاحب ابھی نشست پر موجود نہ تھےخالی کمرے میں میری صحافیانہ حس بیدارہوئی اور میں نے ادھر ادھر تانکا جھانکی شروع کر دی دیوار پر لگے بورڈ سے معلوم ہوا کہ راولپنڈی میں سی پی او کا عہدہ اب ڈی آئی جی کے برابر ہے:

ابھی میں یہ دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک بغلی دروازے سے سی پی او جناب عمر سعید ملک صاحب باہر نکلے اور اپنی نشست کی طرف بڑھے نوجوان چاک وچوبند ایک دم کمانڈو سی پی او کو دیکھ کر میں خود بھی ششدر رہ گیا اس سے پہلے کہ میں اٹھ کر ان کا استقبال کرتا وہ اپنی سیٹ پر براجمان ہوچکے تھے جب رسمی تعارفی سلسلہ ختم ہوا تو میں نے اپنی شکایت ان کے سامنے رکھی نوجوان ذہین ڈی آئی جی نے میری پریشانی کو بھانپتے ہوئے اس کے ازالے کے اقدامات کئے یہ مختصر سی ملاقات تھی اور اس کے بعد میں نے اجازت چاہی چونکہ مجھے معلوم تھا کہ ابھی بہت سے لوگ ان سے ملاقات کے منتظر ہیں اور ابھی روزانہ کی کھلی کچہری ہونا باقی ہے اور پھر ضلع کی نظم و نسق کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہیں

میں کمرے سے باہر نکلا تو میرے ذہن میں بہت سے سوالات تھے اس سے پہلے کہ میں اپنے سوالات کو ترتیب دے پاتا میرا بیٹا فہد تمتماتے چہرے کے ساتھ بول اٹھا ابو آفیسر ہو تو ایسا کس قدر دلکش با رعب شخصیت تھی واہ کیا بات ہے ایک دم کمانڈو وہ بول رہا تھا اور میں سن رہا تھا اس کے بڑھتے جذبات اور خواہشات کی تپش کو محسوس کرتے ہوئے میں نے کہا بیٹا یہ شاندار اور خوبصورت زندگی کوئی بھی شخص حاصل کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے محنت آگے بڑھنے کا جذبہ اور اعلی تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے جن نوجوانوں نے اس راز کو پا لیا وہ عمر سعید ملک جیسے آفیسر بنے اپنے خاندان اور ملک و قوم کا نام روشن کیا سی پی او آفس سے گھر تک ہمارا موضوع یہی رہا اس کے بعد اپنے بھائیوں اور دوستوں سے بھی فہد کا یہی مکالمہ رہا

فہد کے جانے کے بعد میں نے اپنے خیالات کو مجتمع کیا اور سوچنے لگا کہ پولیس کلچر واقعی کس قدر بدل گیا اسی نشست پر میں نے ایسے آفیسر بھی دیکھے جو مردم بیزار سست اور کاہل بڑی بڑی توندیں بے ڈھنگے جسم والے تھے لیکن اب اسی نشست پر عمر سعید ملک جیسے چاک و چوبند چہرے سے چھلکتی ذہانت اور متاثر کر دینے والی شخصیت کو دیکھ کر ایک روحانی خوشی ہوئی کہ بیشک آج میرا وطن سیاسی سماجی اخلاقی اور اقتصادی مسائل میں گھرا ہے لیکن عمر سعید ملک جیسے پرعزم ذہین اور باہمت آفیسر اس ملک کی امید اور روشن کرنیں ہیں اور یہی تمتماتے روشن چہرے ملک کو مایوسیوں کی دلدل سے نکال سکتے ہیں

میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اچانک خود سے گویا ہوا کہ آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا نوحہ یہ ہے کہ ہم تیزی سے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں سوشل میڈیا نے ہم سے ہمارے اخلاق روایات معاشرت تہذیب و تمدن سبھی کچھ چھین لیا ہے نوجوان نسل والدین کے کنٹرول میں نہیں گھر سے لے کر سکول تک اور اسکول سے لے کر ارد گرد کےماحول تک کوئی بھی ایسی جگہ نہیں جس سے والدین مطمئن ہوں ہو سو شل میڈیا نے ہماری نوجوان نسل کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے ہے والدین اپنے بچوں کے آگے بے بس ہو چکے ہمارے مذہبی سیاسی تعلیمی سکالرز نے نوجوان نسل کو تربیت کی بجائے گمراہی کا راستہ زیادہ دکھایا ہے ان حالات میں والدین پریشان ہیں کہ اپنے بچوں کی تربیت مستقبل کی تیاری اور رہنمائی کیلئے کس پر اعتبار کرے تو کون ہے جو انہیں وہ راستہ بتائے جو ہمارے نوجوانوں کے لیے ان کے خاندان کے لیے معاشرے کے لیے باعث فخر ہو.

یہ وہ سوالات ہیں جن کا ہم جو اپنے اپنے طور پر تلاش کر رہے ہیں لیکن کسی کے پاس نہ تو ان سوالوں کا جواب ہے اور نہ ہی کوئی حل ہم والدین اور ہمارے بچے اپنے آئیڈیل اور خوابوں کی تلاش میں رہبر کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے رہزنوں کے ہتھے چڑھے اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ بچے کے مستقبل کے تعین کے لیے کیرئیر کونسلنگ اور نفسیاتی ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں لیکن نتائج صفر جناب عمر سعید ملک صاحب کے ساتھ ملاقات کے بعد میرے نوجوان بیٹے کا جذباتی ردعمل تھا اس نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دیں کہ ہماری تہذیب و تمدن معاشرت اخلاقیات پر چاہے چاروں اطراف سے مہلک وار ہوں تو بھی ہم ان کا ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرسکتے ہیں بس اس کا ایک ہی آسان اور سادہ طریقہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہمارے حکمران پالیسی ساز ادارے انتہائی محنت اخلاص اور جذبے سے اپنے اداروں اور پرائیوٹ سیکٹر سے ایسے پر عزم باہمت شاندار کیریئر رکھنے والے آفیسرز تلاش کریں جنہیں دیکھ کر ہمارا نوجوان جو اپنے کیریئر کے لیے فکر مند اور پریشان ہے وہ متاثر ہو وہ اس آفیسر کو اپنا آئیڈیل بنا لے اگر ایسا ہو جائے تو ہمارا آنے والا کل محفوظ ہو جائے گا بس حکومت ان آفیسرز کے ذمے سکول کالجز کا مہینے میں ایک مرتبہ لازمی وزٹ اور نوجوان طلبہ کے ساتھ نشستوں کا زمہ لے لے

اپنا تبصرہ بھیجیں