فاٹا انضمام، فاٹا قومی جرگے ریفرنڈم کا مطالبہ کر دیا

ضلع خیبر(ہجرت علی آفریدی ) 31 مئی فاٹا قومی جرگے نے یوم سیاح کے طور پر منایا، انضمام بالجبر منظور نہیں ریفرنڈم کیا جائے پرانی خصوصی حیثیت دوبارہ بحال کی جائے عمائدین جرگہ کا مطالبہ .ضلع خیبر تحصیل جمرود کی تاریخی باب خیبر پر فاٹا قومی جرگے کا احتجاجی مظاہرہ ہوا مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ جبری انضمام منظور نہیں ہے .سابقہ فاٹا کی دوبارہ خصوصی حیثیت بحال کی جائے .

مظاہرے کی قیادت فاٹا قومی جرگے کے رہنماؤں ملک بسم اللہ خان آفریدی ملک صلاح الدین آفریدی و دیگر کر رہے تھے.ملک صلاح الدین آفریدی، بسم اللہ خان آفریدی نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا مرجر ایک اندھیرے میں اور سازش کے تحت کیا گیا ہے جس سے قبائلی عوام کی شناخت کو ختم کر دیا گیا ہے اس لئے وہ 31 مئی کو یوم سیاح کے طور پر منا رہے ہیں.

بسم اللہ خان آفریدی نے کہا کہ انضمام میں قبائلی عوام کی رائے کو نہیں لیا گیا. جس سے قبائلی علاقوں میں محرومیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے.انہوں نے کہا کہ انضمام کے وقت قبائلی عوام سے وعدے کئے گئے تھے کہ انہیں سالانہ 110 ارب روپے ملیں گے .

انہیں ملک اور صوبے کی دیگر علاقوں کے برابر لانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گےلیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جبکہ الٹا قبائلی وسائل پر قبضہ کیا گیا انکی شناخت اور حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی .

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قبائلی عوام کو دوبارہ پرانی حیثیت بحال ہونے تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی.مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع میں ٹکیس وصولی کو فوری بند کی جائے جب تک قبائلی علاقوں کو سہولیات میسر نہ ہو تب تک ان سے ٹیکس نا لیا جائے.

انہوں نے آرمی چیف قمرجاوید باجوہ کور کمانڈر پشاور سے بھی مطالبہ کیا کہ فاٹا کی گرینڈ قومی جرگہ بلایا جائے اور ان کی خدشات کو دور کیا جائے .فاٹا کی پرانی خصوصی حیثیت کو دوبارہ بحال کیا جائےاور ریفرنڈم بھی کیا جائے تاکہ پورے قبائلی عوام کی رائے کھل کر سامنے آجائے.

مظاہرین نے کالے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور انضمام مخالف نعرے بازی کر رہے تھے.یاد رہے کہ فاٹا قومی جرگے کے نام پر انضمام مخالف تحریک نے فاٹا مرجر کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی کیس دائر کیا ہے جس کی سماعتوں کا سماعتوں کا سلسلہ جاری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں