ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لنڈی کوتل ڈاکٹر جمشید نے ہسپتال کی بہتری کا روڈ میپ دے دیا

لنڈی کوتل( ہجرت علی آفریدی سے )ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لنڈی کوتل کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات سے آراستہ کرینگے. لنڈی کوتل سے ریفر ٹو پشاور کاسلسلہ بند کرینگے مریضوں کو اپنے ہی شہر میں سہولیات دلائنیگے ایم ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لنڈی کوتل ڈاکٹر جمشید کا میڈیا سے گفتگو.

ہسپتال کے میڈیکل سپرٹینڈیٹ کی حیثیت سے تعینات ہونے والے ڈاکٹر جمشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں سہولیات کا فقدان تھا کہ بیشتر اہلکار ڈیوٹی سے غائب جبکہ تنخواہیں لے رہے تھے جس کو وارننگ جاری کر کے حاضر کر دیا جو بھی ملازم ڈیوٹی کو حاضر نہیں ہوا ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا.

ڈاکٹر جمشید نے بتایا کہ ہسپتال کے لیبر روم میں نرسز غیر قانونی طور پر رقم وصول کرتیں تھیں جنہیں فوری طور پر روک دیا گیا اور ان کے خلاف ایکشن لیں گے. اسکے علاوہ دو گائنا کالوجسٹ کو بھی تعینات کریں گے. ایمرجنسی یونٹ کو جدید خطوط پر استوار کرینگے اور ان کی کمی کو دور کرینگے.

ڈاکٹر جمشید نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر جو دوران ڈیوٹی اپنے گھروں میں پریکٹس کرتے تھے روک دیا گیا اوراب وہ اپنی ڈیوٹی با احسن طریقے سے انجام دینگے اور سرکاری اوقات میں کسی بھی ڈاکٹر کو پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرنے دیں گے .

گوسٹ ملازمین کے سوال پر جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گوسٹ ملازمین کا سراغ لگا لیا گیا ہے انہیں جلد ہی حاضر کرینگے کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی نوعیت سے علیحدہ ڈیوٹی سرانجام دیں یا کسی اور کی جگہ ڈیوٹی دے سکے .سب کو اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہونا ہوگا .

ایمرجنسی پربات کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پہلے ایمرجنسی کی صورت حال انتہائی ابتر تھی جبکہ صفائی کا بھی ناقص انتظام تھا انہوں نے صفائی سمیت ایمرجنسی میں میڈیکل اسپیشلسٹ کو بٹھایا اسکے علاوہ ہسپتال میں بیشتر غیر فعال مشینری کو بھی فعال کر دیا ہے جن میں جدید الٹراساؤنڈ مشین اور ایکسرے شامل ہیں.

ہسپتال کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے 9 اضافی ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے پوسٹس کیلئے اشتہار دے دیا ہے جو عنقریب ہسپتال کی ضروریات کو پورا کرینگے .ڈاکٹر جمشید نے بتایا کہ یہاں ہیلتھ ٹورزم کے کثیر مواقع موجود ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں جدید سہولیات فراہم کی جائے .بلڈ بنک کو فعال رکھا جائے ڈائلسز ہونٹ قائم ہو اور ایچ ڈی یو، آئی سی یو وارڈ قائم ہو جو ان کے پلان کا حصہ ہے مگر اس میں تھوڑا سا وقت درکار ہو گا. اسکے علاوہ مافیا کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ یہاں کی آبادی کو اپنے علاج کیلئے پشاور جانا نہ پڑے .

یاد رہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال لنڈی کوتل پاک افغان بارڈر طورخم کے قریب ہونے کی وجہ سے نہایت اہمیت کا حامل ہسپتال ہے. جہاں بڑھے پیمانے پر افغان باشندے اپنے علاج کی غرض سے یہاں آتے ہیں. علاقہ مکینوں نے نو تعینات ایم ایس سے امید ظاہر کی کہ لاکھوں کی آبادی کیلئے بنایا گیا ہسپتال جدید سہولیات سے لیس ہوگا جبکہ ان کی تعیناتی سے ملازمین اور ڈاکٹرز اپنی ڈیوٹی بہ احسن طریقے سے انجام دینگے.

اپنا تبصرہ بھیجیں