چٹان/ عائشہ نور

عنوان ” کہاں ہے قانون”!!!

17جون 2014ء وہ اندوہناک دن تھا، جب سانحہ ماڈل ٹاؤن پیش آیا۔ اس المناک سانحے کو رونما ہوئے آٹھ برس بیت چکےہیں ۔ یہ وہ دن تھا جب حکومت وقت کی ہدایت پر ادارہ منہاج القرآن پر حملہ کیا گیا اور نہتے کارکنان پر بلااشتعال گولیاں برسائی گئیں، خواتین، بزرگوں، بچوں پر بدترین تشدد کیا گیا اور 14 بے گناہ شہریوں کو دن دہاڑے میڈیا کے کیمرے کی آنکھ کے سامنے شہید کر دیاگیا، پولیس کی وحشیانہ فائرنگ سے تقریباً 80لوگ شدید زخمی ہوئے۔ شہداء میں دو خواتین تنزیلہ امجد اور شازیہ مرتضیٰ شامل ہیں۔
پاکستان عوامی تحریک نے شہدائے ماڈل ٹاؤن کی 8 ویں برسی کے موقع پر حصول انصاف میں تاخیر کے خلاف 17جون کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیاہے۔ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کو انصاف دلانا ڈاکٹر طاہرالقادری کی اولین ترجیح رہی ہے ، ان کی خصوصی ہدایت پرعوامی تحریک کے وکلاء کئ برسوں سے ماڈل ٹاؤن کیس عدالتی سطح پر لڑ رہے ہیں ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں نامزد ملزمان کیس کا فیصلہ ہونے سے روکنے کےلیے مختلف تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک کا مئوقف ہے کہ” عدالتی حکم پر بننے والی جے آئی ٹی کوکام کرنے دیا جائے۔ 8سال سے شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی غیر جانبدار تفتیش کروائی جائے۔

تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے دسمبر 2018ء میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے روبرو خودپیش ہو کر غیر جانبدار جے آئی ٹی کی تشکیل کے لئے اپیل کی تھی، جسے تفصیلی بحث اور دلائل کے بعدمنظور کر لیاگیا۔ معزز لارجز بینج نے3 جنوری 2019 ء کو نئی جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری ہوا اور نئی جے آئی ٹی نے اپنا کام شروع کیا اور پہلی بار سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق اہم شواہد اور دستاویزی ثبوت ریکارڈ پرآئے۔ نئی جے آئی ٹی نے پہلی مرتبہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے چشم دید گواہان اورزخمیوں کے بیانات قلمبند کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے بیانات بھی قلمبند کئے۔جے آئی ٹی نے اڑھائی ماہ میں اپنا کام مکمل کر لیا ،جب رپورٹ مرتب کرنے کا مرحلہ آیا تو سانحہ کے ایک ملزم پولیس اہلکار کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے 22 مارچ 2019ء کو جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کا حکم سناتے ہوئے سٹے آرڈر جاری کر دیاجو تاحال برقرار ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے اس سٹے آرڈر کی وجہ سے غیر جانبدار تفتیش کا قانونی عمل رکا ہوا ہے۔ شہداء​ کے ورثا کی طرف سے اس سٹے آرڈر کے حوالے سے اپیل کی گئی جو 3سال 2ماہ سے زیر التوا ہے۔ انصاف کیلئے کئ مرتبہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے 13مارچ 2020ء کو لاہور ہائیکورٹ کو کیس کا فیصلہ 3 ماہ کے اندرترجیحاً کرنے کی ہدایت دی مگر سپریم کورٹ کی اس ڈائریکشن کو بھی 2سال 2ماہ ہو گئے ہیں اور اپیل پرکوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی غیر جانبدار تفتیش کے حوالے سے شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کا جو موقف اور مطالبہ 17 جون 2014ء کے دن تھا وہی موقف اور مطالبہ آج بھی ہے۔ مظلوم کو انصاف دینا ریاست اور اس کے اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے مگر انصاف کے راستے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں ۔جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا، اُسے رپورٹ مرتب اور پیش کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی؟ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے 5دسمبر 2018ء کے روز تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست ڈاکٹرمحمدطاہرالقادری کا نئ جے آئی ٹی بنانےکا مطالبہ مان لیا اور انہیں احتجاج کی بجائے قانونی چارہ جوئی پر توجہ مرکوز کرنے کا بھی کہا۔

سپریم کورٹ کے لارجز بینج کی اس ہدایت کے مطابق قانونی چارہ جوئی جاری ہے مگر تاحال شہداء کے لواحقین کو انصاف نہیں مل سکاہے ۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز صورتحال یہ رہی کہ پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں بھی ماڈل ٹاؤن کیس کا فیصلہ نہ ہوسکا ، عمران خان وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے باوجود شہدائے ماڈل ٹاؤن کے لواحقین کو نہ تو انصاف دلانے کے وعدے پورے کرسکے اور نہ ماڈل ٹاؤن کیس میں نامزد افسران کی اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرریوں کو رکوا سکے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کے حوالے سے عمران خان کی پراسرار خاموشی اور عدم دلچسپی کے سبب نہ صرف ماڈل ٹاؤن کیس کے ماسٹرمائنڈز قانون کی گرفت سے باہر رہے بلکہ پی ٹی آئی حکومت کا تختہ الٹ کر دوبارہ برسراقتدار آنے میں بھی کامیاب رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں