کشمیریات! ریاست کا مستقبل طے کرنے کی اقوام متحدہ کی ٹمپلیٹ اور آزاد کشمیر کا نظام چلانے کا طریقہ کار

تحریر: سید نذیر گیلانی

اقوام متحدہ نے امریکی شہری Admiral Nimitz کو مارچ 1950 میں اقوام متحدہ کا کشمیر میں Plebiscite Administrator مقرر کیا اور حکومت جموں وکشمیر نے باضابطہ طور اس کی تعیناتی کی۔ واشنگٹن سے بھارتی نمائندے Sen کی دہلی Bajpai کو بھیجی گئی ٹیلیگرام CCB NO.3905 سے پتہ چلتا ہے، کہ Admiral Nimitz یکم نومبر 1950 سے پہلے پہلے ریاست میں رائے شماری مکمل کرانا چاہتے تھے۔وہ اس بات پر غور و فکر کر رہے تھا، کہ کیا Existing electoral rolls کو استعمال کیا جائے، جس طرح NWFP کے ریفرنڈم میں ہوا تھا۔ بھارتی نمائندے نے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔

پاکستان اور پھر بھارت کے نمائندے نے Nimitz سے اس کی تعیناتی کے بعد ان کے دفتر واشنگٹن، (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا ایک کمرہ) میں ملاقات کی۔ عمر Nimitz کے لئے ایک اہم مسئلہ تھا۔ ساتھ ہی Nimitz دوسری inconvenience and self-sacrifice کے لئے تیار نہیں تھے۔ انہوں نے ستمبر 1953 کو Plebiscite Administrator کے عہدے سے مستعفی ہونے کے لئے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں United Nations Political and Security Affairs کے ذمہ دار سے ملاقات کی اور اپنا Resignation اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام دیا۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اپنے اپنے زیر کنٹرول علاقے میں افواج کے عدد کا جھگڑا جاری رہا اور اسے طے کرنے کے لئے موجود options، جن میں ICJ کی طرف سے Arbitration کے پینل کا قیام تھا، تحریک نہیں ہوا۔ افواج کے عدد کا جھگڑا خالص انتظامی معاملہ ہے۔ اقوام متحدہ کی کشمیر Template پر عملداری ایک مقام پر آکر رک گئی ہے۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کی ذمہ داری سے حکومت آزاد کشمیر آج تک الگ تھلگ رہی۔

مارچ، عوامی جلسے، تقاریب، کانفرنسز، ممالک کے دورے اور 10 ڈائننگ سٹریٹ کو یادداشتیں پیش کرنا، اپنی جگہ ایک عمل ہیں، لیکن اس عمل سے کشمیر کی یو این Template کی Jurisprudence پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اصل رکاوٹ اپنی جگہ برقرار ہے۔ ان کارروائیوں سے کچھ لوگوں کا پاکستان میں اور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کا بھلا ہوتا ہے مگر اس طریق کار سے کشمیریوں کے، Rights, Dignity Security اور Self Determination پر کوئی کار آمد اثر نہیں پڑتا۔

آزاد کشمیر کا سیاست دان جان بوجھ کر معائیدہ کراچی کے تحت لی گئی ذمہ داری پر حکومت پاکستان سے پراگرس رپورٹ نہیں مانگتا۔ نہ ہی یہ معاملہ کبھی آزاد کشمیر کی اسمبلی میں زیر بحث آیا اور نہ ہی اس پر کوئی پبلک ڈیبیٹ ہوئی۔آزاد کشمیر کا سیاست دان جان بوجھ کر ایکٹ 1970 اور ایک1974 میں درج Plebiscite سے متعلق آئینی ذمہ داری نبھانا نہیں چاہتا۔ کبھی بجٹ کی کمی کا بہانہ بنایا اور کبھی اسے، پاکستان کی ذمہ داری قرار دے کر جان چھڑا تا ہے۔

ایک طرف پاکستان کے آئین کےآرٹیکل 257 کے تحت تعلقات کا حوالہ دیتا ہے اور دوسری طرف خود کو یو این کی کشمیر Template سے الگ رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔پاکستان بھی ایسے ہی کشمیریات میں کم علم اور خود غرض کشمری سیاستدانوں کی سر پرستی کرتا ہے جو کشمیر کو صرف ایک ریفرنس کے طور استعمال کریں۔ دونوں فریقین کے لئے status quo ہی میں نفع اور مفاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں نے کشمیر کے نام پر اپنی اپنی Proxies اور Constituencies قائم کر رکھی ہیں۔ وہ ان کو حسب ضرورت activate کرتے ہیں۔

ہندوستان نے اپنا عارضی الحاق 15 جنوری 1948 کو اقوام متحدہ میں، عوامی ووٹ کے لئے سرنڈر کر دیا تھا۔ اور 21 ہزار بغیر اسلحہ کے فوج رکھنے کی اجازت مانگی تھی۔ان 21 ہزار بغیر اسلحہ کے فوجیوں کو ہماری عورتیں کانگڑی مار مار کر بھگا سکتی تھیں۔ ہمیں ایک لاکھ نوجوان شہید کرانے کی ضرورت ہی نہیں تھی لیکن پاکستان کی سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کو اپنا مفاد خطرے میں نظر آیا۔ 1990 کی Proxies اور Constituencies نے ہندوستان کو ایک بہانہ فراہم کیا اور بالآخر 5 اگست 2019 ہوا۔

ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں۔ اور ان Proxies اور Constituencies کو ٹرک پر یا جہاز میں سوار کر دیتے ہیں۔ہم Rights, Dignity, Security اور Self Determination کے چاروں محاذوں پر پسپا ہوئے ہیں۔ لیکن تسلیم کرنے کی ہمت نہیں۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں کسی کے ماتھے پر شرم وحیاہ کے پسینے کا کوئی قطرہ نہیں پھوٹا۔ اس لئے کہ ان کے مفادات کی کھیتی کی فصل خوب اگتی بھی ہے اور پکتی بھی۔

یو این Template اب ایک لوکل مہاجر مسئلہ بن کر رہ گیا ہے۔ مہاجر مظفرآباد کچی آبادیوں میں Tents میں زندگی کی مشکلات ایک امید اور بھروسے پر برداشت کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے صدور کافی مدت سے لوکل سیاست کی پیداوار چلے آرہے ہیں۔نئے صدر ایک بار پھر لندن میں وزیر اعظم کے دفتر 10 ڈائننگ سٹریٹ کے دروازے کا “کونڈا” کھڑکانے آئے۔ دروازہ کھولنے والے اہلکار کو حکومت آزاد کشمیر کی اپنے دستخط کی چٹھی دے کر چلے گئے۔

امید ہے کی یہ چٹھی ان ہی خطوط پر لکھی گئی ہو گی جو صدر حکومت سردار ابراہیم خان نے 8 جولائی 1948 کو UNCIP کے صدر کولکھی تھی۔موجودہ صدر بیرسٹر سلطان محمود ہمارے دوست بھی ہیں۔ لیکن سیاست میں وہ دوستی کی “پگ” کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہماری موجودہ صدر آزاد کشمیر کے ساتھ شناسائی مرحوم وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے دسمبر 1994 میں، سینٹ جیورجز ہال بریڈ فورڈ میں منعقدہ کشمیریوں کے ساتھ میٹنگ میں کرائی۔

یہ میٹنگ بے نظیر بھٹو نے وادی کے کشمیریوں سے خصوصی ملاقات کے لئے پارٹی میٹنگ سے الگ St.George’s Hall Bradford میں بلائی تھی ۔ اس میں مرحوم ڈاکٹر ایوب ٹھاکر، مرحوم جاوید نظامی اور دوسرے لوگ بھی شریک تھے۔ بے نظیر بھٹو وادی کے کشمیریوں کی رائے کی قدردان تھیں اور وسیع بنیاد پر مشاورت کی اس قدر حامی تھیں کہ ڈاکٹر ایوب ٹھاکر کے ایک اعتراض پر ایک “شخصیت” کو اس خصوصی میٹنگ سے باہر رکھا گیا۔

میٹنگ میں بے نظیر بھٹو نے کہا میں آپ کی ملاقات ایک آزاد کشمیر کے کشمیری سے کراوں گی، جو ہماری پارٹی میں شامل ہوا ہے۔ دروازہ کھلا اور ایک شخصیت اندر آئی اور ان کا تعارف “بیرسٹر سلطان محمود چوہدری” کے نام سے کرایا گیا۔ شناسائی آگے بڑھی۔ پھر ہمارے تعلقات کا امتحان آیا۔ بے نظیر بھٹو برطانیہ میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کو ختم کرکے پیپلزپارٹی پاکستان میں ضم کرنا چاہتی تھیں۔ یہ کام انہوں نے ناہید خان کے سپرد کیا اور اس مقصد کے لئے سفارتخانہ پاکستان میں کشمیریوں کی ایک میٹنگ بلائی گئ۔

ناہید خان اور واجد شمس الحسن سفیر پاکستان کو بے نظیر بھٹو کی ہدائیت تھی کہ اگر چہ نذیر گیلانی پیپلزپارٹی میں نہیں ہے، لیکن اسے میٹنگ میں مشاورت کے لئے ضرور بلایا جائے۔میٹنگ کے دوران ناہید خان کی ایک جھڑکی کے سامنے پیپلزپارٹی آزاد کشمیر(برطانیہ،) ڈھیر ہوگئی۔ وہ پیپلزپارٹی پارٹی ازاد کشمیر کو پاکستان پیپلزپارٹی میں ضم کرنے پربضد تھیں۔جب مجھ سے ناہید خان نے رائے مانگی، میں نے انضمام کی مخالفت کی۔ بے نظیر بھٹو نے ٹیلیفون پر ناہید خان اور واجد شمس الحسن کو کہا کہ نذیر گیلانی درست کہہ رہا ہے۔

پیپلزپارٹی آزاد کشمیر(برطانیہ) بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی سیاست کی ریڑھ کی ہڈی تھی۔ ان کا بہت بڑا قبیلہ بھی تھا۔شناسائی کا حق ہم نے ایک بار پھر ادا کیا – جنیوا میں پاکستانی سفیر احمد کمال نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو اپنے Delegation میں شامل کر کے ہیومن رائٹس کمیشن کی کارروائی میں شریک ہونے سے منع کیا۔ ابھی JKCHR کو Special Consultative Status نہیں ملا تھا۔ اور میں ورلڈ سوسائٹی آف وکٹیمولوجی کے مندوب کی حیثیت سے شریک ہوتا تھا۔ اور اسی چھتری کے نیچے آزاد کشمیر اور سری نگر سے لوگ شریک ہوتے تھے۔

میں نے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور اس کے ایک ساتھی کو World Society of Victimology کے تحت Accreditation دلائی اور ہیومن رائٹس کمیشن کی کارروائی میں پہلی بار شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری، سیاست کی کالی ماتا پر کسی بھی طرح کے چڑھاوے سے گریز نہیں کرتے۔ پگ بدلنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔آپ سب سے درخواست ہے کہ مقامی سیاست اور کشمیر کی UN Template میں فرق محسوس کریں۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں موجودہ عدم توازن imbalance درست کرنا بہت ضروری ہے۔

آزاد کشمیر کے لنگڑے لولے آئین میں، Plebiscite کی ذمہ داری صدر آزاد کشمیر کے لئے مختص کی گئی ہے۔ مناسب یہی ہوگا کہ آئندہ صدر وادی یا جموں سے ہو تاکہ وہ UN کی Template سے بے وفائی نہ کرے اور کشمیری ماں کے “قصاب” کی تعظیم میں پکا ثابت ہو۔ ماں کے “قصاب” کی تعظیم کو اپنی سیاست سے افضل سمجھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں