نقطہ نطر/حفظہ سلیم

عصرِحاضرکی مسلم عورت اور اس کا پردہ

آج کل ہمارے معاشرے میں رو ز افزوں بڑھتے ہوئے مسائل اوران کے بارے میں طرح طرح کے بیانات سن اور دیکھ کر میرا جی شدت سے چاہا کہ اس کی بابت کچھ رقم کروں۔گویا قلم اٹھایا اور اپنے ٹوٹے پھوٹے جذبات و احساسات کو زیب قرطاس بنانے کی کوشش کررہی ہوں۔آج کل ہمارے سماج میں جو بے حیائی ، کم سن لڑکیوں سے لے کر بڑی عمر کی عورتوں کی عصمت دری و درندگی ، لڑکیوں کے اغوا اور بعد میں قتل کے واقعات منظر عام پر آرہے ہیں۔اس طرح کے دل سوزاورانسانیت سوز واقعات ہمیں روز افزوں پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔ اس میں مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک ہیں لیکن میرے نزدیک زیادہ قصوروار عورت ہے۔

کیوں کہ اگرعورت خود اپنی حفاظت نہیں کرے گی ، خود نمائش کا سامان بن کر رہ جائے گی تو پھر اسے کوئی نہیں بچا سکے گا۔آج کل فیشن کے نام پر عورتیں جو لباس زیب تن کرتی ہیں اور سرعام بغیر کسی خوف و ڈر کے مطمئن ہوکر چلتی ہیں، جسے دیکھ کر انسانیت بھی شرما جاتی ہے، حالا نکہ مسلمان عورت کا یہ شعار نہیں ہے۔اسلام نے عورت کو چھپی ہوئی چیز کہا ہے ۔ عورت کے لفظی معنی ہی چھپی ہوئی چیز کے ہیں ۔آج کی عورت خوداپنا مقام و مرتبہ بھو ل گئی ہے۔ کبھی اس نے سوچا ہے کہ دنیا میں قرآن کے علاوہ اوربھی بہت سی کتابیں ہیں مگر غلاف صرف قرآن مجید پرہے ۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورت کو پردے کا حکم دیا۔اس میں ایک حکمت پوشیدہ ہے۔

تاریخ میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک بار کسی مرد نے ایک عورت سے کہا ! میں نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں میں نے عورت کے بارے میں لکھا ہے۔ اس عورت نے کہا کہ عورت تو چھپی ہوئی چیز ہے ، تم کون ہوتے ہو اسے کتاب میں درج کرنے والے یا کتاب کو جلا دو یا دریا میں ڈال دو ۔اس آدمی کے انکار پر اس عورت نے چلانا اور شور مچانا شروع کر دیا ۔اس اثنا میں کئی لوگ جمع ہوگئے ، لوگوں نے شور مچانے اور چلانے کی وجہ دریافت کی تو وہ عورت گویا ہوئی ’’ یہ آدمی مجھے تنگ کرتا ہے ‘‘ ۔ لوگوں نے جب اسے مارنا اور ڈانٹنا شروع کیا تو وہ عورت کتاب لے کر بھاگ گئی اوراسے دریا میں ڈال دیا لیکن آج اگر ہم موجودہ عہد کی عورت کا موازنہ کریں تو آج کی عورت ایک کھلی کتاب کی مانند ہے، جسے ہر کوئی باآسانی پڑھ سکتا ہے ۔

آج کل عورت کو پردے کے بارے میں کہا جائے تو بہت سی خواتین کا جواب ہوتا ہے کہ پردہ دل کا ہوتا ہے میری بہنو! ذرا غور کریں ، دل تو پہلے سے ہی پردے میں ہے۔کیا تمھارا دل ان عورتوں سے بھی زیادہ پاک ہے جن کی پاکیزگی کی گواہی اللہ نے خود قرآن میں دی ؟ (سورت نساء اس حوالے سے مسلمان عورتوں کی مکمل راہ نمائی کرتی ہے۔ ) ان پاکیزہ خواتین نے بھی پردہ کیا ، اس میں عورت کی عافیت کے کئی راز مضمراور پوشیدہ ہیں۔

اللہ نے مسلمان عورت کو پردے کا حکم دیا ہے تاکہ وہ محفوظ رہے ، تمام دیگر مذاہب کی پیروکار عورتوں میں مسلم عورت دور سے پہچانی جائے، اس کے زیب و زینت اور بناؤ سنگھار پر کسی کی نظر نہ پڑے ۔ عورت کے لیے پردے میں ہر وہ چیز آجاتی ہے جو مرد کے لیے عورت کی طرف محبت و میلان کا باعث ہو لیکن آج کے دورمیں اکثر و بیشتر عورتیں خصوصاً نوجوان لڑکیاں برقع استعمال کرتی ہیں تو وہ بھی ایسا ہوتا ہے کہ کپڑوں کے ساتھ ساتھ جسم کے اعضا بھی نمایاں ہوتے ہیں ۔ یہ نت نئے ڈیزائن والے اور تنگ برقعے جو پردے کی بہ جائے غیروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا باعث بن رہے ہوتے ہیں ۔

گویا آج عورت کے حجاب کو مزید حجاب کی ضرورت ہے۔ یہ تو حال ہے عبایہ کا جسے پہن کر لڑکیاں کہتی ہیں کہ فرض پورا ہو رہا ہے ۔ جو پردے کی کوئی صورت پوری نہیں کر رہا ۔
ہمارے سماج میں جتنی بھی پریشانیاں ہیں اس کی بنیادی وجہ اسلام کے درخشندہ احکامات سے دوری اور مغربی ممالک کی تقلید ہے۔ تاریخ کے اوراق کی روشنی میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ زمانہ جہالیت میں مرد اور عورت کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا تھا .کیوں کہ اُ ن کا لباس ایک جیسا تھا ،تو پھر آج کے دور میں اور اُس دور میں مجھے اس بابت کوئی فرق نظر نہیں آتا۔

اسلام نے عورت اور مرد کے فرق کو پہچاننے کے لیے ایک واضح شناخت دی ہے جو کہ پردہ و حجاب کی صورت میں ہے ۔ ابتدائے کائنات میں انسان ننگا تھا اور پھر جیسے جیسے شعور آتا گیا ،کسی نہ کسی صورت میں اپنے جسم کو ڈھانپنے کی سعی کی گئی۔ یوں درختوں کے پتوں سے لے موجودہ عہد کے زرق برق لباس تک اس ضمن میں لباس نے اپنی ارتقائی منازل طے کیں۔ پھر ہر دور میں لباس کی کئی شکلیں بدلیں۔ لیکن موجودہ عہدمیں انسان نے پھر کپڑے مختصر کرنے کی طرف سفر شروع کر دیا ہے ۔ جی ہاں ! بات پردے کی بابت ہورہی تھی کہ پردہ تو ایک خوب صورت عمل ہے جو کسی بھی قیمتی چیز ہونے کی طرف دلالت کرتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی قیمتی چیزیں ہیں ان کے لیے پردے کا خاص انتظام کیا جاتا ہے ۔اس سے پتا چلتا ہے کہ جس پہ غلاف یا پردہ ہے تو وہ عام چیز نہیں بل کہ قیمتی چیز ہے۔آخر میں شعری انداز میں عصر حاضر کی لڑکیوں کو دعوت فکر دینا چاہتی ہوں۔
سنو لڑکی!
آنکھ، بالوں اور پاوں تک
تم دنیا کی حور ہو
اپنی اہمیت کو سمجھو تم
تم خود سے ہی لاشعور ہو
سنو لڑکی!
نہ بات کرنا ،نامحرم سے یہ رشتہ حرام ہے
کہ ذلت و رسوائی اس کا انجام ہے
سنو لڑکی !
پیاسے کو پانی کی تلاش کھینچ لاتی ہے
تم وہ ندی ہو جو ہر صحرا کو سیراب کرتی ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں