قائد اعظم یونیورسٹی میں پنجابی طلبہ گروپ نے کشمیری طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ کشمیری طلباء و طالبات نے دھرنا دیدیا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) قائد اعظم یونیورسٹی میں تیسرے دن بھی طلباء تصادم کی وجہ میدان جنگ بنا رہا۔ یونیورسٹی میں ہاسٹل میں روم الاٹمنٹ تنازعے سے شروع ہونے والے جھگڑے میں 20 سے زائد کشمیری طلباء زخمی ہو گئے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس طلب کر لی جو زخمیوں کو پولی کلینک میڈیکل کے لیے لے گئی جبکہ یونیورسٹی طلبہ و طالبات نے تشدد کرنے والے طلباء کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا دیدیا۔

وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی طرف سے آئی جی پولیس اسلام آباد اور ضلعی انتظامیہ کو اس معاملے کی چھان بین کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کی ہدایت بھی کی گئی۔ دوسری جانب وفاقی وزارت داخلہ کے اعلی حکام نے بھی اس تنازعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب طلباء کونسل نامی تنظیم کے سینکڑوں طلباء نے کشمیری طلباء کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پنجاب کونسل کے طلبہ کے جتھے نے کشمیری طلبہ کو ہاسٹل اور مختلف بلاکس سے تلاش کر کے تشدد کا نشانہ بنایا لیکن یونیورسٹی انتظام مکمل بے بس نظر آئی۔

طلباء کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں ایک طلباء تنظیم کھلے عام غنڈہ گردی کر رہی اور کوئی روکنے والا نہیں ہے اور اسلام آباد ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے انصاف دلانے تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں