شادی میں تاخیر،بیٹا باپ کے خلاف تھانے پہنچ گیا

خیبر پختونخوا میں شادی کرنے کا خواہش مند بیٹا اپنے باپ کے خلاف درخواست لے کر تھانے جا پہنچا۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والا 28 سالہ محمود اللہ قریبی تھانے پہنچا جہاں اس نے ضلعی پولیس افسر کو درخواست دی کہ اس کی شادی کرائی جائے کیونکہ والدین اس کی شادی کے لیے رضامند نہیں ہیں۔

محمود اللہ نے درخواست میں بتایا کہ ’میں ایک ٹیوب ویل آپریٹر ہوں اور اب نکاح کرنا چاہتا ہوں، میں اس عمر میں گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں، میرے والدین کو میری کوئی فکر نہیں ہے نہ ہی وہ میرے لیے رشتہ دیکھ رہے ہیں۔

پولیس نے محمود اللہ کے والد معین گل کو جواب دینے کے لیے طلب کیا تو انہوں نے بتایا کہ میرا بیٹا غیر ذمہ دار ہے، ایسے کون سا باپ اپنی بیٹی میرے بیٹے کے حوالے کرے گا؟معین گل نے مزید بتایا کہ محمود اللہ مختلف طریقوں سے پریشان کرتا ہے، دوستوں کے ساتھ مل کر مجھ سے رقم لے لیتا ہے اور پھر خرچ کر دیتا ہے، ایک مرتبہ اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اغوا کا ڈرامہ کیا تھا اور ایک مرتبہ گرفتار بھی ہوگیا تھا۔پولیس نے دونوں باپ بیٹے کو تھانے بلا کر اپنے معاملات سیٹ کرنے کا کہا ہے۔

پولیس کے مطابق معین گل نے اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا ہے کہ اگر ان کا بیٹا محمود اللہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو وہ ایک ماہ کے اندر اس کے شادی کرانے کو تیار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں