خلیفہ اول سسر مصطفی صدیق اکبرؓ

اللّٰه تبارک وتعالی نے شفیع المذنبین، خاتم النبیین، ہادی دین متین، سرور کائنات، رحمت دوعالم حضرت محمد مصطفیﷺ کے تمام اصحاب کرام رضوان اللّٰه علیھم اجمعین کو بلند و بالا شان عطا فرمائی ہے۔ مگر دربار رسالت ﷺ میں جو خوص فضیلت اور مقام یار غار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا یقینا اس مقام تک کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکا۔آپؓ کی ولادت واقعہ فیل کے دو سال چار ماہ اور کچھ روز بعد مکہ مکرمہ میں ہوئی۔(مظاہر حق)آپؓ کا نام عبد اللّٰه، کنیت ابوبکر، لقب صدیق اور عتیق تھا۔

آپؓ کے والد گرامی کا نام عثمان جبکہ کنیت ابو قحافہ تھی۔ والدہ کا نام سلمی اور کنیت ام الخیر تھی۔حضرت ابوبکر صدیقؓ کا سلسلہ نسب یہ ہے: عبداللہ بن ابوقحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرّہ جو ساتویں پشت پر جاکر نبی کریم ﷺ کے سلسلہ نسب سے مل جاتا ہے۔لقب صدیق کی وجہ: جب نبی کریم ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو معراج کے بارے میں بتایا تو کفار مکہ نے اسکی تکذیب کی اور مذاق اڑانے لگے۔ تب صدیق اکبرؓ نے آپ ﷺ کی تصدیق کی اور اسی بنا پر آپؓ کا لقب صدیق پڑ گیا۔لقب عتیق کی وجہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰه عنھا سے روایت ہے کہ ایک دن ابوبکر صدیقؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: انت عتیق اللّٰه من النار یعنی تم دوزخ کی آگ سے اللّٰه کے آزاد کردہ ہو۔ اس کے بعد سے انکا لقب عتیق پڑ گیا۔

آپﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بچپن سے ہی خاص انسیت اور محبت تھی۔ اور اکثر تجارت کے سفروں میں ہمراہی کا شرف حاصل تھا۔حضرت ابوبکر صدیق کو ہی یہ شرف حاصل تھا کہ وہ بعثت اسلام سے پہلے بھی نبی کریم ﷺ کی صحبت مبارکہ میں رہے اور اسلام کے بعد بھی۔ تاریخ میں حیات نبوی کا کوئی بھی غزوہ یا اہم واقعہ ایسا نہیں ہے جس میں حضرت صدیق اکبرؓ آپﷺ کے ہمراہ نہ ہوں۔ آپؓ ہی وہ شخص ہیں جو خود بھی صحابی، والدین بھی صحابہ اور اولاد بھی صحابہ ہیں۔
بقول شاعر:
صحابی چار پشتیں باپ، خود، اولاد اور پوتا۔
مبارک ہے نسب کتنا مرے صدیق اکبر کا۔

جب نبی اکرمﷺ کو نبوت عطا کی گئی تو آپﷺ نے مخفی طور پر لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا شروع کی تو مردوں میں سے سب سے پہلے ابوبکر صدیقؓ نے سب سے پہلے آپﷺ کی تصدیق کی اور ایمان سے مشرف ہوئے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپؓ نے مزید لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا شروع کی۔ آپؓ کی کوششوں کے نتیجے میں تھوڑے ہی عرصے میں حضرت عثمان غنیؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ، حضرت عبد الاسد بن ہلالؓ، حضرت عثمان بن مظعونؓ، حضرت عامر بن فھیرہؓ جیسے حضرات اسلام کے حلقہ میں داخل ہوگئے۔

صدیق اکبرؓ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپؓ کے فضائل کے بارے میں تقریباً 181 احادیث ایسی ہیں جن میں صرف ابوبکرؓ کی عزت افزائی پیغمبر ﷺ کی زبان مبارک سے ہوئی۔ باقی احادیث اس کے علاوہ ہیں جن میں دیگر صحابہ کرام کے ساتھ ابوبکرؓ کے فضائل کو بیان کیا گیا ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: ایسا کوئی شخص نہیں جس نے ہمیں کچھ دیا ہو ہماری امداد کی ہو اور ہم نے اسکا بدلہ نہ دے دیا ہو۔ علاوہ ابوبکر کے، یہ حقیقت ہے کہ ابوبکر نے ہمارے ساتھ عطاءو و امداد کا جو عظیم سلوک کیا ہے اس کا بدلہ قیامت کے دن اللّٰه ﷻ ہی عطا کرے گا۔ کسی شخص کے مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں دیا جتنا ابوبکر کے مال نے دیا ہے۔ اگر میں کسی کو اپنا خلیل یعنی جانی دوست بناتا تو یقیناً ابوبکر کو بناتا۔ یاد رکھو! تمہارے صاحب (رسولﷺ) اللّٰه کے خلیل ہیں۔(ترمذی)

ایک اور جگہ حدیث نبویﷺ ہے جس قوم اور جماعت میں ابوبکر موجود ہوں اسکے لیے موزوں نہیں کہ اسکی امامت ابو بکر کے علاوہ کوئی اور شخص کرے۔(مشکوة)حضرت ابوبکر صدیقؓ کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ عشرہ مبشرہ میں پہلے صحابی آپؓ ہی تھے۔

وہ دس جنکو جبیب رب نے جنت کی بشارت دی۔
ہے ان میں نام بھی پہلا میرے صدیق اکبر کا۔
صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیھم اجمعین کے فرمان سے بھی آپؓ کی فضیلت و اہمیت ظاہر ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ہمارے سردار ہیں ہم سب سے افضل ہیں اور رسول کریمﷺ کے سب سے زیادہ چہیتے ہیں۔(ترمذی)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ یعنی اللہ کی راہ میں اپنے مال کا کچھ حصہ پیش کرنے کا حکم دیا آپ کا یہ حکم مال کے اعتبار سے میرے موافق پڑ گیا یعنی حسن اتفاق سے اس وقت میرے پاس بہت مال و دھن تھا میں نے اپنے دل میں کہا اگر میں کسی دن ابوبکر سے بازی لے سکتا ہوں تو وہ آج کا دن ہے۔ کہ اپنے مال کی زیادتی اور فروانی سے فائدہ اٹھا کر زیادہ سے زیادہ راہ خدا میں پیش کروں گا اور اس معاملے میں ان کو پیچھے چھوڑ دوں گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے آدھا مال لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا زیادہ مال اور اسباب دیکھ کر مجھ سے پوچھا گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ میں نے عرض کیا جتنا لایا ہوں اتنا ہی گھر والوں کے لیے چھوڑ آیا ہوں۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ان کے پاس جو کچھ تھا سب لا کر آپ کی خدمت میں پیش کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ان کے لئے اللہ اور اللہ کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا ابو بکر رضی اللہ عنہ پر میں کبھی بھی سبقت نہیں لے جا سکوں گا(ابوداؤد)۔

؎ رسولوں اور سارے انبیاء کے بعد بے شک۔
ہے سب سے مرتبہ اعلی میرے صدیق اکبر کا۔
ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ جتنے آسمان پر ستارے ہیں کیا اتنی بھی کسی کی نیکیاں ہونگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں عمر کی۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا عمر رضی اللہ عنہ کی اتنی نیکیاں ہیں تو میرے والد کی کتنی ہوں گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے حمیرا! ابوبکر کی ایک نیکی عمر کی ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔
ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور پھر انہوں نے مجھے جنت کا دروازہ دکھلایا جس سے میری امت کے لوگ داخل ہوں گے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ یہ سن کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دل میں یہ حسرت بھری خواہش مچلنے لگی ہے کہ کاش اس وقت میں آپ کے ساتھ ہوتا تو مجھے بھی جنت کا دروازہ دیکھنا نصیب ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ابوبکر آگاہ رہو! میری امت میں سے جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے ان میں سے سب سے پہلے شخص تم ہی ہو گے(ابوداؤد)۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم میرے یار غار یعنی غار کے ساتھی اور رکھو اور حوض کوثر پر میرے مصاحب ہو گے۔(مشکوۃ)
وہ یار غار محبوب خدا ہیں، ہر صحابی سے
مقصد ہے جداگانہ میرے صدیق اکبر کا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ چونکہ رحلت رسالت مآب کے بعد کچھ ہی عرصہ زندہ رہے اسی وجہ سے آپکی روایتوں کی تعداد قلیل ہے۔آپؓ کا دور خلافت 2 سال 4 ماہ ہے۔آخر کار رب کا پیغام آ گیا اور آپؓ 7 جمادی الثانی کو بیمار ہوئے اور پندرہ دن علیل رہ کر 13 ہجری، 22 جمادی الثانی کو منگل کے دن مغرب اور عشاء کے درمیان دار فانی سے کوچ کر کے ابدی جہاں کی طرف روانہ ہوئے۔وفات کے وقت آپؓ کی عمر 63 سال تھی۔

وصیت کے مطابق انکی پیوی اسماء بنت عمیس نے غسل دیا۔ اور عمر فاروقؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دینا اور عرض کرنا کہ آپکا غلام آیا ہے اگر اجازت مل جائے تو وہاں دفن کردینا ورنہ مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔
وصیت کے مطابق آپ رضی اللہ عنہ کی میت کو روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا اور یوں عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا غلام ابوبکر آپ کے سامنے حاضر ہے چنانچہ قبر مبارک سے آواز آئی محب کو محبوب سے ملا دو۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔
مقام قرب ہے کیسا میرے صدیق اکبر کا
نبی کے ساتھ ہے روضہ میرے صدیق اکبر کا
اللّٰه ہمیں صدیق اکبرؓ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں