ادراک/سید منظور حسین گیلانی

پاکستان کی سفارتکاری فیٹف(FATF) ، جی G20 کی زد میں

پاکستان کے اخبار اور تمام نیوز چینلز سال 2018 سے فیٹف اور پاکستان کو زیر بحث لاتے رہے – فیٹف ایک بین المملکتی تنظیم ہے جس کے مقاصد میں ملکوں کے مالی معاملات پر نظر ہوتی ہے کہ ان کے مالی اداروں کے زریعہ بلواسطہ یا بلا واسطہ پیسے کا استمعال یا ترسیل غیر قانونی مقاصد کے لئے تو نہیں ہوتا جس میں دہشت گردی ، انسانی کاروبار یا کالا دھن بھی شامل ہے – اس کی بنیاد سال 1989 میں G7 کے ملکوں نے ڈالی – افغان جنگ اور کشمیر کے انتفادہ کے پس منظر میں پاکستان تو دنیا بھر میں جانا پہچانا جاتا تھا اور کالا دھن بیرون ملک سمگل کرنے والوں کی بھی پاکستان میں کمی نہیں – افغانستان کی جنگ ، افغان مہاجرین کی آباد کاری، کشمیر کے انتفادہ اور کشمیریوں اور افغانوں کے لئے ملنے والی ملکی اور غیر ملکی امداد کوئ ڈھکی چھپی بات نہیں – اس دوران ککھ پتیوں کا لکھ پتی ، لکھ پتیوں کا کروڑ پتی بننا اور کروڑ پتیوں کا ارب پتی بننا بھی کوئ ڈھکی چھپی بات نہیں – اس میں سیاست دان، حکومتی عہدے داران ، سر حد کے دونوں طرف ، یورپ، امریکہ اور گلف میں آباد تحریک سے وابسط اور ہینڈ لر سب برابر کے شریک ہیں – فیٹف نے پاکستان کو پہلی بار 2012 میں اپنے دائرے میں لاکر” گرے لسٹ “ میں شامل کیا جس کا مطلب اس کے مالیاتی نظام کو چیک کیا جائے کہ یہاں سے پیسہ دہشت گردی یا دیگر غیر قانونی مقاصد کے لئے استمعال تو نہیں ہوتا ،

تاہم سال سال 2015 میں اس کو اس لسٹ سے نکال دیا گیا – اگر یہ پایا جاتا کہ پاکستان پیسہ ان مقاصد کے لئے استمعال کرتا ہے تو اسکو “ بلیک لسٹ “ میں شامل کیا جاتا جس کی وجہ سے اس پر بین الاقوامی دنیا اور اداروں کی طرف سے بے شمار پابندیاں لگنا تھیں اور یہ دنیا میں تنہا ہوکر رہ جاتا – سال 2018 میں اس کو دوبارہ “ گرے لسٹ “ میں شامل کرکے اس پر ستائیس سوالوں کی روشنی میں اقدامات کر کے فیٹف کو مطمئن کرنا تھا کہ یہ ان میں سے کسی کا مرتکب نہیں یا یہ کہ اس نے فیٹف کے تحفظات کو دور کرنا ہے – ان کے ساتھ ہی وقتآ فوقتآ ضمنی سوالوں کی لسٹ بھی تھمائ جاتی تھی کہ ان پر بھی مطمئن کیا جائے- پاکستان کی ریاست کے سارے اداروں نے یک جان ہوکے فیٹف کو مطمئن کیا جس کے لئے کسی زمانے کی دوست اور ہم نوالہ اور ہم پیالہ تنظیموں اور ان کے اکابرین پر پابندیاں اور سزائیں بھی دی گئیں تب جاکے فیٹف کے 18 جون 2022 کے اجلاس میں قرار دیا گیا کہ پاکستان نے ان کو ہر ایشو پر مطمئین کردیا ہے

اس کے زمے اور کچھ بھی ثابت کرنا یا صفا ئی دینا باقی نہیں لیکن فیٹف کی ٹیم کے موقع پر جاکے اس کے اقدامات کو قابل بھروسہ اور پائیدار ہونے کے اطمینان کے بعد اس کو گرے لسٹ میں رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ اکتوبر میں کیا جائیگا- پس پاکستانی عدالتی زبان میں فیصلہ محفوظ ہوگیا ، نہ معلوم اس وقت تک کوئ اور نکتہ نکل آئے اور مزید ثبوت دینے کے لئے اگلی تاریخ پڑ جائے ، یہ بھی بعید از قیاس نہیں کیونکہ فیٹف کے گروپ میں امریکہ کے علاوہ ہندوستان بھی شامل ہے جو پاکستان کی کسی دلیل، ثبوت یا بیانئے سے کبھی مطمئن نہیں ہوتے اور “ اور کرو —Do more “ کے ساتھ دوبارہ ملنے پر اجلاس بر خاست ہوجاتا ہے –

ادھر پاکستان کی سب سیاسی جماعتیں ، سابق اور موجودہ حکومت اور فوج کے نمائندے ISPR واحدتآ اس کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں لیکن کوئ یہ نیہں بتا رہا کہ پاکستان کس کی غلطیوں کی پاداش میں فیٹف کے میں شکنجے میں آیا؟؟؟ مانا ہندوستان اور امریکہ اور ان کے یورپی حواریوں نے اس کا تانا بانا جوڑ کے پاکستان کو وہاں پہنچا دیا لیکن ایک قانونی مقولے کے مطابق “ چور وہ ہے جو پکڑا گیا— Thief is a person who has misfortune of being caught “ – وگرنہ فیٹف کےگروپ کے 37 ممبر سارے اس حمام میں ننگے ہیں – اگر پاکستان سیاسی طور مستحکم اور اقتصادی طور خود کفیل ہوتا تو تمام گناہوں کے باوجود اس کا بھی فیفٹ اور G20 کے ممبران کی طرح دنیا میں سفارتی اثر ہوتا اور اس کی خطا اس کی خوبی کنی جاتی ، لیکن ،
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات –

جی G20 دنیا کے بیس ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کا گروپ ہے جو دنیا کی اسی فیصد جی ڈی پی اور ستر فیصد تجارت کو کنٹرول کرتے ہیں – اس کے مقاصد میں رکن ممالک کے درمیان عالمی معاشی استحکام اور اس کی ترقی کو مستحکم بنانے ، عالمی مالیاتی بحران کے خطرات کو کم کرنا اور نیا مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے – ہندوستان بھی اس گروپ کا حصہ ہے – سال 2023 میں اس کی صدارت ہندوستان کے پاس ہوگی – ہندوستان نے اس کا سر براہی اجلاس مقبوضہ جموں و کشمیر میں منعقد کرنے کے لئے ایک اعلی سطحی کمیٹی کی تشکیل دی ہے جس نے اس کے انتظامات اور انعقاد سے متعلقہ سارے امور کی دیکھ بھال کرنا ہے – ابھی تک اس کے انعقاد کے مقام کا تعئین نہیں ہوا ہے کہ یہ جموں میں منعقد کی جائیگی یا کشمیر میں تاہم ہندوستان سیاسی اور سفارتی مصلحتوں کے خاطر ممکنہ طور یہ اجلاس وادئ کشمیر میں منعقد کرائے –

اس سلسلے میں گلمرگ کا نام زیر بحث آرہا ہے جو وادئ کشمیر کا بہترین سیاحتی مقام ہے – جب سے بھارت نے 5 اگست 2019 کو ریاست کا خصوصی آئینی مقام ختم کر کے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ہندوستان میں اس کا انظمام کیا ہے اس وقت سے بھارت اس کو دنیا سے براہ راست جوڑنے کے لئے بے چین ہے تاکہ دنیا کو باور کرائے کہ ریاست کے لوگ اس پر خوش ہیں اور سکھ چین کی بانسری بجا رہے ہیں حالانکہ وادی نو ہزار فوجیوں کے عملی قبضے میں ہے – گذشتہ سال بھارت نے متحدہ عرب امارات سے سرینگر کے لئے پاکستانی فضائ روٹ کو استمعال کرتے ہوئے براہ راست ہوائ سروس شروع کی تھی جو پاکستان کے اعتراض پہ بند کی گئ – اب چونکہ بھارت کے پاس G20 کی صدارت آرہی ہے اس لئے اس کے سربراہوں کا یہاں اجلاس منعقد کرا کر اس غیر آئینی تحلیل اور انظمام پر ان کی مہر تصدیق ثبت کرانا چاھتا ہے تاکہ کشمیریوں اور پاکستان کو یہ باور کرائے کہ کشمیر کے تنازعہ نام کی کوئ بات باقی نہیں اور دنیا نے اس کو تسلیم کر لیا ہے – یہ پاکستان کے لئے ایک لمحہ فکریہ اور اس کی سفارت کاری پہ کاری ضرب ہے کہ یہ دنیا کو کشمیر کے ایشو کی نزاکت کا ادراک نہیں کرا سکا-

– G20 کے ممالک سفارت کی دنیا پر گہرا اثر رسوخ رکھنے والے ممالک ہیں جن میں UN کی سلامتی کونسل کے ممبر بھی شامل ہیں – جموں کشمیر میں ان ممالک کا اجلاس اقوام متحدہ ، اس کی سلامتی کونسل ، ان کے ممبران اور یو این چارٹر کے کردار کے خلاف کھلا چیلینج ہے جو ان ہی کی قرار دادوں کے مطابق ہندوستان کے غیرقانونی قبضہ اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی اور اس ریاست کے لوگوں کے حقوق کا کھلا مذاق ہے –

یہ پاکستان کی سفارت کاری کے لئے بھی کھلا چیلینج ہے کہ G20 کے سربراہاں کا اجلاس جموں وکشمیر میں ہوگا اور پاکستان اس سے لا علم یا ان ممالک کو اس متنازعہ علاقہ میں اجلاس کرانے سے رکوا نہ سکا – ابھی اس کے انعقاد میں لگ بھگ ایک سال ہے پاکستان کو چاھئے کہ اس سے پہلے ان ممالک سے رابطہ کر کے اس عمل کی نزاکت سے آگاہ کرے کہ کانفرنس ہندوستان کے کسی بھی غیر متنازعہ شہر میں کی جا سکتی – جو ریاست ہندوستان کی دس لاکھ فوج کے قبضہ میں ہے اس میں اس نوعیت کی کانفرنس اس غیر قانونی قبضہ کی تو ثیق کے مترادف ہے جس کے لئے ہندوستان ان ممالک کو استمعال کرا رہا ہے – G20 کے ہر ملک کے سر براہ تک حکومت پاکستان اپنے تحفظات اور یو این کی ممبر ریاست کی حیثیت سے ان کی زمہ داری کا احساس دلائے کہ جس ریاست کے بین الاقوامی طور متنازعہ اور حل طلب ہونے پر یو این کی قرار دادیں موجود ہیں

ریاست عملی طور فوج کی قبضہ میں ہے اس میں ان کی شمولیت کراکر اتنا بڑا ایونٹ منعقد کر کے وہ اپنے زمہ دار ملک ہونے پر حرف لا رہے ہیں – ان ملکوں کے دارالحکومتوں میں عوامی مظاہرے اور احتجاج کا بندو بست کیا جائے – اس گروپ میں سعودی عرب ، ترکی اور انڈو نیشیا بھی ہیں جو اپنا اثر رسوخ استمعال کر سکتے ہیں – پاکستان کو نیم دلانے اور نیم خفتہ نہیں بلکہ پرو ایکٹیو اور متحرک سفارت کاری کرنا چاھئے ، لکیر پیٹنے والی نہیں بلکہ سوراخ کو بند کرنے والا طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے – کسی واقع یا حادثہ پر رد عمل دینا بعد از مرگ واویلا ہے ، ایسے حادثات اور واقعات کو روکنا سفارتی کاری ہے – اس کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے –

اپنا تبصرہ بھیجیں