آزاد کشمیر کی سیاسی اشرافیہ کی اقتدار سے باہر رہ کر بھی عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں

رپورٹ : خواجہ کاشف میر

سٹیٹ ویوز ڈاٹ کام ڈاٹ پی کی

آزاد ریاست جموں وکشمیر میں سیاسی اشرافیہ نے اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود بعض مبینہ متنازعہ قوانین کے ذریعے ٹیکس گزاروں کے روپے پر اپنی سیاسی سرگرمیوں کو جاری و ساری رکھنے کا بخوبی انتظام کر رکھا ہے، ماضی میں ریاست کے وزرائے اعظم اور صدور کے عہدوں پر فائز رہ کر اقتدار، اختیار، بھرپور پروٹوکول اور بھاری مشاہرے لینے والی یہ شخصیات اب بھی سیاست میں فعال ہیں اور اپنے روز مرہ کے معمولات اور سیاسی سرگرمیوں کے انعقاد کیلئے کلیتا سرکاری وسائل استعمال کرتی ہیں ۔

اس وقت آزادجموں کشمیر میں سردار عتیق احمد خان، سردار یعقوب خان، چوہدری عبدالمجید، راجہ فاروق حیدر خان اور سردار عبدالقیوم نیازی پر بطور سابق وزرائے اعظم ریاستی خزانے سے سالانہ کروڑوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ سابق صدور میں سردار انور خان ، راجہ ذوالقرنین خان، سردار یعقوب خان اور سردار مسعود خان کو بھی تاحیات مراعات دی جا رہی ہیں۔ سابق وزرائے اعظم کو اضافی مراعات دینے کی منظوری سب سے پہلے (مرحوم)سردار سکندر حیات کے دوسرے دور کے آخری سال میں دی گئی تھیں۔

سردار سکندر حیات خان جو پہلے ہی سابق صدر کی پنشن و دیگر مراعات کے حقدار تھے نے سابق وزرائے اعظم کیلئے کچھ مراعات مختص کرکے ایک ایسے سلسلے کا آغاز کیا جس کی شاید ہی کسی غریب خطے میں کوئی نظیر ملتی ہو۔سردار سکندر حیات کے زمانے کی منظور کردہ مراعات میں ایک 1600cc سرکاری کار بشمول 400 لیٹر پیٹرول، سرکاری مکان یا 25 ہزار روپے کرایہ، ڈرائیور یا گن مین میں سے ایک اپنے ساتھ تاحیات رکھنا شامل تھا تاہم ان مراعات میں اضافہ مسلم لیگ ن کے حالیہ دور حکومت میں راجہ فاروق حیدر خان کے ہاتھوں ہوا جو بطور اپوزیشن رہنما اپنی پیشرو حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔

راجہ فاروق حیدر نے پہلے مرحلے میں وزیراعظم وقت کی تنخواہ و مراعات میں 200 سے 300 فیصد تک اضافہ کیا باوجود اس کے کہ وزیراعظم اور انکے اہل خانہ کو ڈسپرین کی گولی اور پانی کی بوتل بھی اپنے خرچ سے خریدنی نہیں پڑتی۔

اپنے اقتدار کے آخری سال میں راجہ فاروق حیدر نے سابق وزرائے ا عظم کی مراعات کے بل میں ترمیم کرتے ہوئے اس میں اچھا خاصا اضافہ کیا۔ راجہ فاروق حیدر بطور وزیر اعظم صرف سیاسی اشرافیہ پر ہی مہربان نہیں رہے بلکہ بیوروکریسی کو بھی نوازنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، اس کی ایک مثال آزادکشمیر میں بطور چیف سیکرٹری نوکری کرنے والے لینٹ افسر کوبعد از ریٹائرمنٹ آزادکشمیر کےوسائل سے تاحیات مراعات دینے کے سردار عتیق احمد خان کے متنازعہ فیصلے کی نہ صرف توثیق تھی بلکہ انہوں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اس میں کئی گنا اضافہ بھی کیا اور اس کا اطلاق سابق آئی جیز پر بھی کردیا۔

یہ الگ بات کہ اس وقت کے آزادکشمیر پولیس کے دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والے سربراہ بشیر میمن نے ان مراعات قبول کرنے سے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی تھی کہ وہ اسے معاشی طور پر کمزور اس خطے میں بسنے والے لوگوں ساتھ زیادتی سمجھتے ہیں۔ بعد ازاں، ان مراعات کی عدالت العالیہ نے ایک مقامی وکیل کی پٹیشن پر فیصلہ دیتے ہوئے ختم کردیا تھا

لیکن وزیر اعظم وقت راجہ فاروق حیدر خان نے لینٹ آفیسران کی “اشک شوئی” کیلیے ایک نیا راستہ ڈھونڈا اور اس غریب ریاست کی کسمپرسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی کا “سپیریئرایگزیکٹو الاونس” کے نام پر بلترتیب پانچ لاکھ اور ساڑھے چار لاکھ روپے ماہانہ وظیفہ لگا دیا۔

انکے وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی نے جواز یہ دیا کہ پنجاب میں بھی ہر دو کو یہ الاونس ملتا ہے لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ پنجاب میں طلبا کو لیپ ٹاپ بھی ملتے ہیں وہ آپ کیوں نہیں دیتے تو ان کا جواب تھا کہ ہمارے پاس اس کیلئے وسائل نہیں۔ خیر بات ہورہی تھی سابق وزرائے اعظم کی مراعات کی۔

محکمہ سروسز سے حاصل دستاویزات کے مطابق جولائی 2021ئ میں وزرائے حکومت کی تنخواہوں، الاونسز اور دیگر مراعات بارے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر حکومت نے تمام سابق وزرائے ا عظم کو حکومت آزادکشمیر کی طرف سے تاحیات ایک سرکاری کار معہ ڈرائیور، گریڈ 11 کا ایک کلرک، ایک گن مین اور ایک سرکاری مکان یا اس کے بدلے میں 50 سے 60 ہزار ماہانہ کرایہ وصول کرنے کا حقدار قرار دیا۔

اسی پر بس نہیں، انہیں ہر ماہ ٹرانسپورٹ پول کے بجٹ سے 400 لٹر پٹرول کی قیمت وصول کرنے کی سہولت بھی دی گئی۔ ان مراعات میں سابق وزرائے اعظم کے کسی دیگر منصب پر فائز ہونے سے کوئی کمی نہیں آتی۔

واضح رہے کہ آ زادکشمیر میں سابق اراکین اسمبلی پنشن بھی وصول کرتے ہیں اسلئے قانون میں یہ اہتمام بھی کیا گیا کہ اگر سابق وزیراعظم دوبارہ منتخب نہیں ہو پاتے تو وہ مذکورہ بالا مراعات کے ساتھ ساتھ پنشن بھی وصول کرتے رہیں۔

محکمہ سروسز کے مطابق سابق صدر آزادجموں کشمیر کو حکومت آزادکشمیر کی طرف تاحیات ایک سرکاری کار معہ 400 لیٹر پٹرول کی قیمت کی فراہمی کا آغاز بھی راجہ فاروق حیدر کی حکومت میں ہوا۔ یاد رہے کہ سابق صدور پہلے ہی پنشن و بعض دیگر مراعات از قسم ایک ڈرائیور، ایک سٹینوگرافر ، ٹیلیفون بل کی ادائیگی کے حقدار ہیں۔

آزادکشمیر کے نامور صحافی طارق نقاش جو سابق وزرائے ا عظم و سابق صدور کو سرکاری گاڑی معہ 400 لیٹر پٹرول دینے کے فیصلے کے شدید ناقد رہے ہیں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سابق وزیراعظم عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو تعلیم، تدریس اور تحریک کیلئے وقف کرے تو ان کے اکرام کے لیے انہیں سرکاری گاڑی اور محدود پٹرول کی سہولت دینے کو تو سند جواز دی جا سکتی ہے کہ اس معاشرے میں سرکاری وسائل سے استفادہ ایک روایت بن گئی ہے لیکن یہاں جو لوگ سالوں قبل عہدے چھوڑ چکے اور عملی سیاست میں بھی فعال ہیں انہیں ٹیکس گزاروں کے پیسے سے اس طرح کی سہولیات دینے کا کوئی جواز نہیں۔

طارق نقاش اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ سیاستدانوں میں سوال سننے اور سہنے کا حوصلہ مفقود ہوتا جارہا ہے اور وہ ان مراعات جس کی کسی ایسے معاشرے میں مثال نہیں جہاں سکولوں پر چھت اور ہسپتالوں میں دوائیں نہ ہوں پر سوال اٹھانے والوں کو اپنا ذاتی دشمن یا احساس کمتری کا شکار قرار دے کر جواب سے پہلوتہی کر جاتے ہیں۔

کشمیری نژاد محمد فیض جو ایک معروف جامعہ میں ریسرچ سکالر ہیں کا کہنا ہے کہ یہ بات حیرت انگیز ہے کہ سابق وزرائے ا عظم ایسے مراعات لیتے ہیں جیسے وہ اپنے دور میں اس ریاست کو چار چاند لگا کر گئے ہوں جبکہ انہوں نے اگر کوئی خدمت کی بھی ہے تو ہر ماہ اس کے عوض بھاری مشاہرہ و مراعات حاصل کیے ہیں۔ فیض کہتے ہیں کہ اپنے دور میں اہم عہدوں پر رہ کر سرکاری وسائل کا بھرپور استعمال کرنے والوں کو چاہیے کہ عہدے چھوڑنے کے بعد ذاتی خرچ پر زندگی گزاریں اور عوامی وسائل کو عوام پر خرچ ہونے دیں ۔

طارق نقاش نے موجودہ وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کے بطور چیف ایگزیکٹیو تنخواہ و دیگر مراعات نہ لینے کے فیصلے کی تحسین کی لیکن کہا کہ زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ وہ نہ صرف ماضی میں وزیراعظم وقت کی تنخواہ میں کیے گئے غیرمعمولی اضافے کو سرنڈر کریں بلکہ سابق وزرائے اعظم کو دی جانے والی غیرضروری مراعات کو بھی ختم کریں کہ قیادت قربانی کا دوسرا کا نام ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں