آگہی/عمرفاروق

یک زمانہ صحبت با اولیاء

مادی ترقی کودیکھتے ہوئے بعض لوگوں نے روحانی دنیاکوبالکل ہی نظرانداز کردیاہے یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہوئے نظرآتے ہیں کہ اب ویسے بزرگ کہاں جو پہلے تھے، چاہنے کے باوجود بھی اولیا اللہ کی صحبت آج میسر نہیں، یہ سوچ سراسر شیطانی دھوکہ ہے، یاد رکھنا چاہیے کہ اولیا اللہ اور صلحا ہر زمانے میں ہوتے رہے ہیں اور قیامت تک ہوتے رہیں گے، قرآن مجیدکی ایک آیت کامفہوم ہے کہ ، اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور صادقین کی صحبت اختیار کریں،اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ صادقین، صلحا، اولیاء اللہ کا وجود ہر زمانے میں رہے گا، ان کو ڈھونڈنا اور سچی تڑپ کے ذریعہ ان تک پہنچنا ہماری ذمہ داری ہے۔

اولیا اللہ اور بزرگانِ دین کی مجالس اور صحبت میں وہ تاثیر پائی جاتی ہے جس سے سخت سے سخت انسان کا دل بھی موم بن جاتا ہے، اللہ کا خوف اور آخرت کی تڑپ پیدا ہوتی ہے، انسانوں کے اندر تکبر ، حسد ، بغض ، حب دنیا ، آخرت سے بے فکری ، گناہوں سے دلچسپی اور اس طرح کے تمام اوصاف رزیلہ شیطانوں کے مکروفریب اور ان کے بہکاوے سے پیدا ہوتے ہیں وہ بزرگوں کی ایک نظراورمحفل سے ختم ہوجاتے ہیں ۔

صلحا اور بزرگان دین مدتوں ریاضت سے جن کے نفوس منجھے ہوئے ہوتے ہیں، وہ شیطان کے مکروفریب کو اچھی طرح جانتے ہیں، ان بزرگوں کی صحبت جو اختیار کرتا ہے اور ان کے توسط سے جو ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے یہ نفوسِ قدسیہ ان کو شیطان اور نفس سے بچنے کی تدبیریں بتاتے ہیں، اگر ان کی ہدایات پر عمل کیا جائے تو بہت جلد نفس کے عیوب اور رزائل کا ازالہ ہوجاتا ہے اور ان کی فیض صحبت سے انسان اخلاقِ فاضلہ، معرفت الہی، خوفِ خدا، آخرت کی طرف رغبت کی صفات سے متصف ہوتا ہے۔ پھر وہ کہیں بھی رہے اللہ کی قوتِ گرفت کا احساس ہمیشہ ساتھ رہتا ہے اس کو صوفیا کی اصطلاح میں تصوف وسلوک کہا جاتا ہے۔اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا روم فرماتے ہیں،
ہر کہ خواہی ہمنشینی با خدا
او نشیند صحبتے با اولیا
ترجمہ : جو کوئی اللہ تعالی کی قربت چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اللہ والوں کی صحبت اختیار کرے۔

میں ایک مرتبہ پھراپنے شیخ ومرشدولی کامل خادم الامت علامہ پیرسیدنورزمان نقشبندی شاذلی کے آستانے پرحاضرتھا جہاں ان کی نگاہِ کرم کی بدولت شریک محفل جامِ معرفت سے یکساں فیضیاب ہوتے ہیں۔ آپ کی اِک نگاہِ التفات زنگ آلود قلوب کے لیے صیقل کاکام کرتی ہے اور دلوں سے حب ِ دنیا و ظلمت دور کر کے اِس میں معرفت ِالہی کا نور بھر دیتی ہے۔آپ اپنی نگاہِ کامل سے زنگ آلود قلوب کو منور فرماتے ہیں اور تزکیہ نفس کی دولت سے سرفراز فرماتے ہیں۔ آپ تصوف کی دنیاکے وہ شہ سہوارہیں کہ جن کی شخصیت و عظمت کے سامنے بڑوں بڑوں نے سر خم کر دیئے اور جامِ معرفت کا لطف اٹھایا اور اٹھا رہے ہیں۔
آپ اپنی زبانِ درِ فشاں سے مریدین کو امربالمعروف ونہی عن المنکر کی تعلیم دیتے اور اصلاحِ نفس کی تلقین کرتے ہیں۔ آپ کی تلقین کی بدولت ہزاروں طالبان راہ حق معرفت ِ الہی حاصل کر کے احکامِ الہی اور سنت ِ نبو ی کی اتباع میں زندگی گزار رہے ہیں۔آپ کے درپرجوبھی آتاہے جامِ معرفت ِ حق سے سیراب فرماتے ہیںاور معرفت ِ حق کی دعوت دیتے ہیں ۔محفل میں حاجی سرفرازنقشبندی شاذلی کی سرپرستی میں باغ آزادکشمیرسے بھی ایک درجن سے زائدحضرات بھی تشریف لائے ہوئے تھے اورجام معرفت لٹارہے تھے ۔

مغرب کی نمازکے بعد شیخ نورزمان نے ذکرکی محفل سجائی توسب کے چہروں پرخوشی کی لہردوڑگئی تھوڑی ہی دیرمیں حضرت کاآستانہ اللہ ہوکی صدائوں سے گونج رہاتھا حضرت شیخ فرمارہے تھے کہ اس وقت جب کہ پورا ملک افراتفری کا منظر پیش کررہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ انفرادی و اجتماعی توبہ کی جائے، ذکر الہی کو اپنا شیوہ بنایا جائے،احادیث مبارکہ میں جوجو موقع محل کی دعائیں امت کو بتلائی گئی ہیں، ان کے سیکھنے سکھانے کا بھر پور اہتمام کیا جائے، بزرگوں سے تعلق استوار کیا جائے، ان کی مجالس کو غنیمت سمجھا جائے، ان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا جائے، دل کی دنیا آباد کی جائے، روحانیت و ایمانیت کی شمع فروزاں کی جائے۔ جو اس حقیقت کو پالے گا ، اسے ایمان کی حلاوت و مٹھاس نصیب ہوگی اور نا امیدی و مایوسی کا طوفان خس و خاشاک دکھائی دے گا۔
یک زمانہ صحبت با اولیا
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
اللہ کے ولی کی صحبت کے چند لمحے
سو سال کی بے ریا عبادت سے بھی بہتر ہے

اگلے دن حضرت کی معیت میں پشاورکی طرف روانہ ہوئے تو پشاورسے ذراپہلے دریائے کابل کے قریب سستانے کے لیے رکے توکابل سے آنے والی ٹھنڈی ہوائوں نے ماحول کومسحورکردیایہ قدرت کی شان تھی کہ جون کامہینہ بھی نومبرجیساتھا ایسے میں حضرت کی طرف سے مچھلی کی پرتکلف دعوت نے لطف ہی دوبالاکردیا۔یوں توہم بھی دنیاداری میں مصروف ہیں آئے روزلغزشوں کے مرتکب ہوتے ہیں لیکن کسی کی دعاکاکوئی اثرہے کہ روزکے ان گناہوں اوراللہ کی نافرمانیوں کے باوجودبھی ہم گناہ گاروں کو اللہ کے دوستوں کی قربت اورصحبت نصیب ہوجاتی ہے۔

شیخ ابو الفضل جوہری فرماتے تھے کہ جو شخص نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے ان کی نیکی کا حصہ اس کو بھی ملتا ہے، دیکھو اصحاب کہف کے کتے نے ان سے محبت کی اور ساتھ لگ گیا تو اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس کا ذکر فرمادیا۔( قرطبی)
مرشد کامل کی نورانی صحبت سے وجود کو پاک کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیو نکہ مرشد کی نگاہِ کامل اور پاکیزہ صحبت نفس اور وجود کو ویسے ہی معطر کرتی ہے جیسے موسم ِ بہار میں درختوں اور پودوں پر ہریالی آ جاتی ہے۔ یعنی نگاہِ مرشد اپنے مریدین پرکیمیا اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں:
اولیا کا ملین کی نظر پانی کی نسبت زیادہ گندگی اور پلیدی دور کرسکتی ہے کیونکہ پانی ظاہری پلیدی دور کرتاہے جبکہ مرشد کی نظر گناہوں کی سیاہی دور کر دیتی ہے۔

میرے شیخ نورزمان نے فرمایا کہ گناہ کی وجہ سے گنہگار کی ذات کو حقیر ومعمولی نہ سمجھیں، ممکن ہے کہ وہ گناہ سے تائب ہوکر اللہ کا نیک ومقرب بندہ ہوجائے۔اس لیے اس کی ہدایت کے لیے کوششیں کرنایہی اسوہ حسنہ ہے ہم گناہ گارکی اتنی تحقیرکرتے ہیں کہ وہ مزیدپستیوں میں گرتاچلاجاتاہے حالانکہ ہماری محنت کامیدان ہی یہ گناہ گارہیں ۔عرب قوم جس کے درمیان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تھی، پلے، بڑھے اور جوان ہوئے یقینا وہ ایک خونخوار اور جنگ جو قوم تھی، تہذیب وتمدن سے نابلد، برائیوں کے خوگر، معرفت الہی سے کوسوں دور اور طبیعت کے اعتبار سے انتہائی سخت اجڈ اور گنوار تھی، نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی نظر کرم نے ان کو ایسا بدلا کہ ساری دنیا کے لیے وہ ہدایت کے چراغ بن گئے، جو پہلے گنوار تھے مہذب بن گئے، مشرک تھے موحد ہوگئے، سخت تھے نرم ہوگئے، جو پہلے بے حیثیت تھے وہ دنیا کے امام بن گئے، جوپہلے غلام تھے لیکن اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وصحبت نے انہیں وہ مقام عطا کیا کہ تمام مسلمانوں کے وہ چہیتے اور سردار بن گئے۔
خود نہ تھے جو راہ پہ اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا
آپ جہاں بھی جاتے ہیں یہ دعوت دیتے نظرآتے ہیں کہ آئیں سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ کے ساتھ جڑکر تزکیہ نفس کی نعمت حاصل کریں۔ اور ان خوش نصیبو ں میں شامل ہوں جن سے زمانہ روشنی حاصل کر تا ہے۔کیوں کہ علما ء و صلحا کی ہم نشینی اختیار کرنے والے کبھی بھی ناکام نہیں ہوتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں