جاپانی نوجوان کی شادی سےدور بھاگنے کی وجوہات سامنے آگئیں

جاپان جہاں حکومت کو پہلے ہی تیزی سے کم ہوتی آبادی کے باعث افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے وہاں نوجوان بھی اب شادی سے گریز کرتے نظر آتے ہیں۔شادی کرنا ہر نوجوان کی خواہش ہوتی ہے، کچھ نوجوان تو کم عمری سے ہی اپنے سر پر سہرے سجنے کے خواب دیکھنے لگتے ہیں لیکن ہر نوجوان ایسا نہیں کم از کم جاپان میں تو ایسے نوجوان بڑی تعداد میں ملیں گے جو شادی کے نام سے ہی دو بھاگتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جاپان میں 25 فیصد نوجوان شادی نہیں کرنا چاہتے اور 30 سے 40 برس کی عمر کا ہر چوتھا جاپانی شخص شادی کے نام سے دور بھاگتا ہے جس سے پہلے سے ہی آبادی کی کمی سے دوچار ملک کی حکومت کی پریشانی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔

اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد کا شادی سے انکار بڑھتا ہوا معاشی دباؤ کے ساتھ معاشرتی ذمے داریوں سے آزاد زندگی گزارنے کی خواہش کا عکاس ہے کیونکہ نوجوانوں کا ماننا ہے کہ وہ تنہا زیادہ پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں۔

جاپانی حکومت کی جانب سے رواں ماہ جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 30 سے 40 برس کی درمیانی عمر کے لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو شادی نہیں کرنا چاہتے جس کی وجہ سے حکومت کی تشویش میں بھی اضافہ ہورہا ہے کیونکہ ان کی آبادی پہلے ہی کم ہورہی ہے اور نوجوانوں کا یہ اقدام مستقبل قریب میں ملک میں افرادی قوت میں کمی کا مسئلہ مزید بڑھا سکتا ہے۔

ایسا ہی جاپانی شہری “شو” بھی ہے، 37 سالہ شو کے مطابق وہ شادی کے بغیر مطمئن زندگی گزار رہا ہے۔ اس کے پاس روزگار ہے، جس سے اس کی آرام دہ زندگی کے اخراجات پورے ہورہے ہیں وہ اپنے دوستوں سے باقاعدگی سے ملاقات کرتا رہتا ہے اس کے کئی دیگر اور بھی مشاغل ہے، شو کے مطابق اس کے پاس صرف ایک بیوی نہیں ہے لیکن وہ اس کے بغیر بھی بہت خوش ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں