نئی طبی تحقیق نے سیاستدانوں کی اوسط عمر عام آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہونے کا دعوی کر دیا

دنیا بھر میں سیاستدانوں کی اوسط عمر عام آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔یہ دعویٰ ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں 19 ویں صدی کے آغاز سے اب تک 11 ممالک سے تعلق رکھنے والے 57 ہزار سے زیادہ سیاستدانوں کے ہیلتھ ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سیاستدانوں کی اوسط عمر عام افراد کے مقابلے میں ساڑھے 4 سال زیادہ ہوتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر ان ممالک میں سیاستدانوں کی اوسط عمر 1945 سے 2014 کے دوران 69 سال رہی۔

سیاستدانوں کی اوسط عمر کا یہ فرق ہر ملک میں مختلف رہا، جیسے سوئٹزرلینڈ میں 3 سال جب کہ اٹلی میں سیاستدان عام افراد سے ساڑھے 7 سال زیادہ زندہ رہتے ہیں۔تحقیق کے مطابق سیاستدانوں اور عام افراد کی اوسط عمر میں یہ فرق ممکنہ طور پر تنخواہوں کی وجہ سے ہے۔

سیاستدانوں کی تنخواہیں دیگر کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوتی ہیں جس کے باعث انہیں زیادہ بہتر طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔مثال کے طور پر برطانیہ میں پارلیمان کے ایک رکن کی سالانہ تنخواہ یکم اپریل 2022 کو 84 ہزار 144 پاؤنڈز تھی جب کہ اس ملک میں ایک عام فرد کی اوسط تنخواہ 24 ہزار 600 پاؤنڈز ہے۔

محققین نے بتایا کہ سیاستدان اعلیٰ طبقے کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جن کی زندگی کی مدت دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ 20 ویں صدی کے ابتدائی 50 سال کے مقابلے میں آج کے دور میں سیاستدانوں کا مختلف امراض سے بچنے کا امکان عام افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں میں امراض قلب کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے مگر 20 ویں صدی کی چھٹی دہائی کے بعد سے دل کی بیماریوں کے لیے طریقہ علاج بہت بہتر ہوا ہے، جس سے بھی ان کی اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ اوسط عمر کا یہ فرق بڑھ رہا ہے۔اس تحقیق کے نتائج یورپین جرنل آف ایپیڈیمولوجی میں شائع ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں