پکار/ شیراز خان ( لندن ) sherazkhan7@hotmail.com

” بلوچستان سے ملنے والا مراسلہ اور شہادتیں”

ہیلی کاپٹر حادثے میں ملک کے محافظوں اور پاسبانِ وطن کی شہادتیں ہوئی ہیں ملک کے طول و عرض اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی غم سے نڈھال ہیں
سانحہ لسبیلہ ہیلی کاپٹر میں شہداء میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل
سرفراز علی
ڈی جی کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف،
بریگیڈیئر محمد خالد
میجر پائلٹ سعید احمد
میجر معاون پائلٹ طلحہ منان، اور
نائیک مدثر فیاض ہمارے وہ ہیروز ہیں جو اپنی قومی و ملی ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں شہید مرتے نہیں زندہ ہوتے ہیں اور ایک فوجی جب وردی پہنتا ہے تو کفن پہن لیتا ہے اور شہادت کی دعا کرتا ہے انسانی جزبات و احساسات اپنی جگہہ لیکن پاک فوج کے گوشت پوست کے ان سجیلے بہادر جوانوں کو اللہ تعالیٰ نے خاص شجاعت و بہادری سے نواز ہوا ہے اسی لئے یہ ملک کا دفاع محفوظ ہاتھوں میں ہے قدرتی آفات ہوں یا دشمن حملہ آور ہو قربانیوں کی داستانیں رقم ہورہی ہے ہماری تاریخ اس سے بھری پڑی ہے ہیلی کاپٹر حادثے میں کور کمانڈر سمیت چھ افراد کا بہت بڑا نقصان ہوا الله تعالیٰ سے دعا ہے اللہ تعالیٰ اپنی ربوبیت کے صدقے شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا فرمائے اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز پاکستان کی مائیں بہنیں بیٹیاں جنم جنم تک ایسے ہی بہادر بیٹے جنم دیتی رہیں جو وطن کی حفاظت کے لئے کوئی اپنی جان و مال کی پرواہ نہ کریں مجھے اس کالم میں لسبیلہ سے استحکام پاکستان اتحاد بلوچستان کے صدر محمد بخش رنجھو کا ایک مراسلے شامل کرنا ہے لیکن اختصار سے یہ لکھنا ضروری ہے کہ مجھے اور میری طرح کے پاکستانیوں کو ملک سے باہر بیٹھے ہوئے چند باتوں پر شدید دکھ پہنچا ہے کہ 2 اگست کو یہ خبر عام ہوچکی تھی کہ ہیلی کاپٹر حادثے میں پاک فوج کے دو جنرل ایک برگیڈئیر دو میجر ایک نائیک شہید ہوچکے ہیں لیکن قومی میڈیا پر اس سانحہ کو قومی سانحہ قرار نہیں دیا گیا حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے سربراہوں نے چار درجن پریس کانفرنسیں منعقد کی ہیں سارا فوکس پی ٹی آئی فارن فنڈنگ فیصلے پر فوکس کیا گیا جو انتہائی ملک کے محافظوں کی شہادتوں سے صرف نظر کرنے کے مترادف ہے سوال یہ بھی ہے کہ دو جنرلز ایک بریگیڈیئر ایک ہیلی کاپٹر میں کیوں سوار ہوئے اس طرح کی جب ہائی پروفائل موومنٹ یا سفر جب ہوتا ہے تو پہلے ایک ہیلی کاپٹر اسی راستے پر خالی بیجھا جاتا ہے جو اوکے کی رپورٹ دیتا ہے موسم کی خرابی کی پیشن گوئی ہو تو عام حالات میں ہیلی کاپٹر پرواز نہیں کرتا معاملہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو امید ہے اس پر تحقیقات ہورہی ہونگیں
اب لسبیلہ سے ملنے والے محمد خان رنجھو صاحب کا مراسلہ ملاحظہ فرمائیں

یکم اگست بروز پیر شام پانچ بجے میڈیا پر یہ خبر گردش کرنے لگی کہ سیلاب متاثرین کے ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والا ایک ہیلی کاپٹر جو لسبیلہ سے کراچی جاتے ہوئے راستے میں لاپتہ ہوگیا ہے ہیلی کاپٹر میں پاکستان آرمی کے اعلی افسران سوار تھے رات کو تقریبا 9 سے 11 بجے رات کو سوشل میڈیا پر خبر چلی کے لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد ایک بریگیڈیئر دو میجر پائلٹ ایک جوان سوار تھا یہ خبر بلوچستان کے عوام خاص طور پر لسبیلہ کے عوام پر بجلی بن گری ضلع لسبیلہ کے عوام اپنی جانثار فوج سے اپنی جان سے زیادہ پیار کرتے ہیں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی جیسا پروفیشنل آفیسر جنہوں نے اپنی پوری زندگی پاک وطن کی حفاظت کے لیئے وقف کر رکھی تھی لاپتہ ہیلی کاپٹر میں ان کی موجودگی سب کے لئے باعث تشویش تھی اس کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد دیگر آفیسرز کی موجودگی نے لسبیلہ کے عوام کو زیادہ تشویش میں مبتلا کردیا جو اطلاعات پہنچ رہی تھیں وہ ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے کی خبر تھی رات گئے تک ہیلی کاپٹر کی وندر کے علاقے سسی پنوں کے مزار کے پاس کرش ہونے کی خبریں آنے لگیں لیکن یہ خبر بغیر تصدیق شدہ تھی لسبیلہ کے عوام کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی خبر کا انتظار تھا ہیلی کاپٹر میں سوار کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد دیگر آفیسرز کی حفاظت کے لیے لوگ دعاگو تھے

اللہ پاک سے یہ دعا کہ کوئی خیر کی خبر پہنچے رات بھر یہی خبر گردش میں تھی کہ ہیلی کاپٹر کی تلاش جاری ہے لیکن ابھی تک آرمی کی ریکسیو ٹیمیں ہیلی کاپٹر کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی تھیں دوپہر کو یہ افسوسناک خبر ملی کہ ہیلی کاپٹر سسی پنوں کے مزار کے پاس ایک گوٹھ میں موسم کی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوگیا ہے ہمارے قیمتی اثاثے پاکستان آرمی کے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف اور کے باقی ساتھی اس ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت کا رتبہ حاصل کرکے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں یہ خبر کسی بڑے سانحے سے کم نہیں تھی یہ خبر پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی لیکن ہمارے نیشنل میڈیا نے اس سانحہ لسبیلہ کو کوریج دینے کے بجائے الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کے فیصلے پر توجہ مرکوز رکھی یہ ہمارے لئے تشویش ناک تھا ہمارے محافظ ہماری مدد کرنے کے لیئے لسبیلہ آنے والے ہمارے بھائیوں کو ریکسیو کرتے ہوئے ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہوگئے لیکن ہمارا میڈیا بےحس ہوچکا ہے میں سوچنے لگا کہ کہ یہ خاموش مجاہد کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں ہمارے اپنے لوگ ان پر ناجائز تنقید کرتے ہیں انہیں برا بھلا کہتے ہیں لیکن ہم جب مصیبت مشکلات کا شکار ہوتے ہیں تو یہی پاکستان کے اصل انمول ہیرو اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ہماری مدد کو پہنچ جاتے ہیں

ان کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے لیکن یہ اپنی قوم کو مشکلات میں نہیں دیکھ سکتے ہیں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی صاحب ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے وہ کوئٹہ میں بیٹھ کر ریکسیو ٹیموں سے بریفنگ لے سکتے تھے انہیں موسم کی خرابی کی بھی معلومات ہونگیں لیکن انہوں نے سیلاب زدہ علاقوں کا خود جائزہ لینے کا فیصلہ کیا سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیئے عملی اقدامات اٹھائے بلوچستان میں سیلاب متاثرین کی سویلین ادارے بھی مدد کرسکتے تھے ضلع لسبیلہ بلوچستان میں سب زیادہ سیلاب سے متاثر ہونے والا ضلع ہے جگہہ جگہہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں

زرعی زمینیں تباہ ہوچکی ہیں سیلاب نے کئی گوٹھوں کو تباہ کردیا ہے عوام کی مدد کے لیئے صرف بری فوج بحریہ فرنٹیئر کور ایف سی بلوچستان پہنچی ہوئی ہیں سول ادارے صرف فوٹو سیشن کے لیے موجود ہیں لیکن عملی طور پر سول اداروں سے کچھ کام نہیں ہورہا ہے لسبیلہ یا بلوچستان کے عوام اپنے محسنوں کی قربانیوں اور وطن کے لیئے لہو دے کر وفا کے پیکروں کی خدمات کو فراموش کبھی نہیں کرسکتے ہیں پاکستان مسلح افواج نے بلوچستان میں قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے

کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی بڑے ملنسار ہنس مکھ شخصیت کے مالک تھے وہ عوام میں جلدی گل ملنے والی شخصیت تھی ہماری سول اشرفیہ جن سے ہاتھ ملانا گوارہ نہیں کرتے ہیں جنرل سرفراز علی ان ہی لوگوں کو گلے سے لگاتے تھے کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں وہ تھوڑے عرصے میں ہی عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے اپنے نقشے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں بلوچستان کے عوام اپنے شہید فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں الله درجات بلند فرمائے آمین
دعا گو محمد بخش رنجھو لسبیلہ

اپنا تبصرہ بھیجیں