پونچھ ڈویژن میں احتجاج اور اصل حقائق

تحریر۔ سردار مشعل یونس، باغ آزاد کشمیر

دھرتی پونچھ کو اللہ نے اپنے ان گنت احسانات کے ساتھ بنایا، خوبصورت پہاڑ ، تاحد نگاہ وسیع وعریض میدان، دریا ندی نالے پھل فروٹ سبزہ و جنگلات، خوبصورت پالتو و جنگلی جانور، آبشاریں اور جھرنے دل لبھانے والے موسم الغرض کائنات کی دسترس میں خوبصورتی کے لیے جو کچھ تھا اس خطے کو عطا کیا گیا۔

لوگ بھی باکمال ملے، محنت کش ، خوددار دلیر اور جرات مند خوبصورت اور خوب سیرت سیاستدان آرمی جرنیل، وزرا اعظم، صدور، بیوروکریٹس، جید علما کرام، بین الاقوامی کاروباری شخصیات_ دنیاے طب کے نامور شخصیات الغرض ہر مکتب فکر کا بہترین اور پروفیشنل پونچھ کی دھرتی سے ہے

اگرکبھی کبھار زہن پر زور دے کر مولاے کائنات کی ان نعمتوں کا سوچوں تو لرز جاتا ہوں کہ اس ذات کی ہم۔گنہگاروں پر کتنی عنایات ہیں کہ۔مجھ جیسا کم عقل تو گنتے گنتے تھک ہار جاتا ہے لیکن ان نعمتوں کو اپنے تصور میں بھی سمونے سے قاصر ہے

بے شمار قبائل یہاں پہ آباد ایک دوسرے کے دکھ درد غمی خوشی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے فراخ دل لوگ تو خطے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے

چونکہ سدھن قبیلہ پونچھ کا بڑا قبیلہ ہء اس لیے جتنے لوگ میں نے گنواے ہیں اور جو لوگوں کے خصائل میں نے بیان کیے اس میں سب سے زیادہ کردارسدھن قبیلے کا ہے اور اس کا زیادہ کریڈٹ بھی سدھن قبیلے کو جاتا ہے

پورے آزادکشمیر میں باقی شعبوں کی طرح کارزار سیاست میں اور بالخصوص بائیں بازو کی سیاست یا  نیشنلسٹ تنظیموں میں بھی سب سے زیادہ حصہ پونچھ کے جوانوں کا رہا،

جو ہمیشہ ریاستی وحدت اس کی آزادی اور خودمختاری کے لیے آواز بلند کرتے رہے، ان کے افکار و نظریات کی تائید یا نفی اپنی جگہ پہ بہر طور کشمیری آزادی کے لیے ان کی جدو جہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا

حالیہ دنوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف  احتجاج شروع ہوا اور پھر وہ احتجاج مارا ماری، آنسو گیس راستوں کی بندش گولی گالی اور ڈنڈوں مکوں میں بدل گیا

احتجاج تو پہلے بھی ہوتے رہے ، اب بھی ہو رہے ہیں اور آنے والے وقت میں بھی ہوں گے، ان کا ہونا بھی ضروری ہے کیوں کے جمہوری معاشروں میں ان کی اجازت بھی اور یہ جمہوریت کا حسن بھی ہیں بس شرط یہ ہے کے مقاصد نیک اور عزائم مثبت ہوں لیکن اس دفعہ کا احتجاج اپنی نوعیت کا انوکھا احتجاج تھا

ایک مخصوص مائنڈ سیٹ نے پورے پونچھ ڈویژن میں جگہ جگہ روڈز بند کر کے عوام کا جینا حرام کر دیا

ہزاروں طلبا و طالبات، اندروں و بیرون ملک سفر کرے والےمسافر اور بوڑھے بزرگ جوان الغرض ہر وہ شخص جو اس تپتی گرمی میں روڈ پہ آیا اسے جی بھر کے ذلیل و رسوا کیا گیا او پبلک ٹرانسپرٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کا جان بوجھ کر  کروڑوں اربوں روپے کا نقصان کیا گیا

احتجاج تو ماضی میں بھی بہت دیکھے لیکن یہ اپنی نوعیت کا عجیب ہی اجتجاج تھا جو صرف اور صرف راولاکوٹ ٹائیں اور آزاد پتن پہ زیادہ ہو رہا تھا

جس کا بنیادی طریقہ واردات پتھروں اور درختوں کو کاٹ کر جگہ جگہ سے روڈ کو بند کرنا تھا
ہماری طرح کے بیوقوف تو پہلے اسےواقعی اپنے حقوق کی حصول کی جنگ سمجھتے رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ احساس ہوا کہ معاملہ اصل میں کوئی اور ہے۔ میں نے جیسا کے پہلے گزارش کی پونچھ نیشنلسٹ تنظیموں کا محور مرکز رہا،

لہذا صاحبان بصیرت نے اپنی ذاتی چبھن، رنجش قبیلوں اور ٹبروں کی لڑائی کو 15 ویں آئینی ترمیم، لوڈشیڈنگ اور ٹیکسز کے غلاف میں اتنی خوبصورتی سے لپیٹا، کہ پراڈکٹ کی تیاری کے بعد ماہرین خود حیرت زدہ رہ گئے کہ قوم کو چونا لگاتے ہوے اور آزادی کا چورن بیچتے ہوے دھائیاں گزر گئیں لیکن اتنے قلیل عرصے میں اس سے بہترین چورن ہم شاید کبھی نا بنا سکے

لیکن جھوٹ کے چونکہ پاوں نہیں ہوتے اور بہت زیادہ دیر بہت زیادہ لوگوں کو بیوقوف بھی نہیں بنا سکتے سچ بلاآخر سامنے آ کہ ہی رہتا ہے

یہاں میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ حالیہ احتجاج اس لیے بھی منفرد تھا کے آپ پورے میرپور اور مظفرآباد ڈویژن میں کسی ایک مقام پر بھی اس طرح کا کوئی احتجاج نہیں دیکھ سکتے
کیا ان لوگوں کے مسائل نہیں ہیں وہ لوڈشیڈنگ اور ٹیکسسز سے تنگ نہیں ہیں کیا وہ پندرہویں آئینی ترمیم پر بے غیرتی کے ستو پی کے سوے رہیں گے، نہیں جناب والا نہیں

درحقیقت اس احتجاج کا ان سارے مسائل سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا

یہ بات میں آپ سے اس لیے کہہ رہا ہوں کے جو ذمہ داران اس احتجاج کو لیڈ کر رہے تھے ان کے بیانات اور تقاریر اس چیز کا بین ثبوت ہیں کہ لڑائی نا کشمیر کی ہے نا ہی مسلہ لوڈ شیڈنگ اور نہ ہی ٹیکسز کا پھڈا۔

سردار لیاقت حیات ہوں یا توقیر گیلانی ہوں یا ڈاکٹر خالد محمود ہوں بظاہر تو وہ کشمیر کا چورن بیچ رہیے ہہں درپردہ انہیں اپنے ہی گھر سے اپنے ہی پڑوس سے ریاست کے منصب اعلی یعنی وزاعت عظمی کی کرسی پہ بیٹھا تنویر الیاس قابل قبول نہیں، یہ ان کہ “اندرونی قومی غیرت “کے بھی خلاف ہے اور قطعا ان کے شایان شان نہیں ہے محض اس وجہ سے کہ تنویر الیاس کا تعلق سدھن قبیلے سے نہیں ہے ۔

بس اگر میری بات غلط ہے تو میں یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں کے جب یہ لوگ واقعی اپنے بیان کردہ مسائل کے حل کے لیے احتجاج کر رہے تھے تو گوئی نالہ، آزاد پتن، ڈار، تھوراڑ ، راولاکوٹ، ٹائیں، پانیولہ اور پاک گلی ہی ان کا ٹارگٹ کیوں تھے۔

باغ جزوی طور پر ایک آدھ دن کے لیے شامل ہوا لیکن اہلیان کہوٹہ نے ان احتجاجی کالز کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، پوچھنا یہ مقصود ہے کہ جہلم نیلم مظفرآباد چکار، ہٹیاں، بھمبھر، سماہنی، میرپور چکسواری، ڈدیال، کٹلی چڑہوئی میں ان قومی ایشوز پر کتنے راستے بند ہوے کتنے بندے گرفتار ہوے اور کتنے شٹرڈاون ہوے، جواب ہے صفر

حضوروالا کیا ان علاقوں کا تعلق سندھ یا پنجاب سے ہے

اگر نہیں تو یہاں کیا انسان نہیں بستے انہیں اپنی قومی ذمہ داریوں کا کوئی ادراک نہیں
یا پھر مظفر آباد اور میر پور ڈویژن والے کوئی ان پڑھ لو گ ہیں اور صرف پونچھ میں احتجاج میں سارے الفارابی بو علی سینا ایڈیسن اور نیل آرم سٹرانگ شامل ہیں۔

مت کریں حضور یہ ڈرامہ بازی۔ میں ڈاکٹر خالد صاحب سے پوچھتا ہوں آپ کس کا راستہ پتن اور ڈھلکوٹ سے بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ کہ وضع قطع کے شخص بے شک اس کا تعلق جماعت اسلامی سے نہ ہو اس کو یہ الفاظ زیب دیتے ہیں

آپ اپنے اصلیت کو کروڑ ہا مرتبہ “اللہ کی دھرتی پہ اللہ کا نظام “والے نعرے  میں ڈھانپیں لیکن اصل چہرہ بہرحال جلد یا بدیر سامنے آ جاتا ہے شاید یہی وجہ ہے کے قیام پاکستان کے وقت آپ کی جماعت میں جتنے لوگ تھے آج بھی اتنے ہی ہیں اور قیامت کی صبح تک بھی اتنے ہی ہوں گے

آج میں لیاقت حیات سے بھی پوچھتا ہوں کے آپ کی جدو جہد کا میں ذاتی طور پہ پچھلے تیس سال سے معترف رہا میں آپ کو رائج الوقت بہت ساری آلائشوں سے پاک تصور کرتا تھا ،

میری کم علمی زرا ملاحظہ فرمائیں کے میں آپ کو ایک درویش منش ،آزادی پسند اور آزادی کے لیے ہمیشہ بے قرار اور مضطرب آواز تصور کرتا رہا میں آپ کو مقبول بٹ اور یسن ملک سے لے کر میرے گاوں کے فہیم اکرم شہید کے وارث کے طور پہ دیکھتا رہا

وزیر اعظم کی کوئی ایسی بات جو حقائق سے منافی ہو یا آپ کہ شان کے خلاف درحقیقت وہ فل ٹاس تھی کے جس پہ آپ قانونی راستہ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست بھر میں اپنا مقدمہ لے کے جا سکتے تھے جہاں سارے مکاتب فکر کے لوگ بلاتفریق اپنی سیاسی وابستگی آپ کو سنتے، 

آپ کے نظریات کی ترویج بھی ہو سکتی تھی اور آپ کے دل کو ٹھنڈ بھی پڑ سکتی تھی لیکن نہیں
آپ نے راولاکوٹ کی سڑ کوں پہ کھڑے ہو کے جو زبان استعمال کی آپ کی جماعت اور آپ کے ماننے والے ہمیشہ اس پہ شرمندہ رہیں گے

لیکن تنویر الیاس اور الیاس خان کو گالی دیتے ہوے اور ان کا ماضی یاد کرواتے ہوے بھی آپ عدل سے کام نہیں لے سکے

جس نسل کو آپ نے ماں فروش  جیسی گالی سے نوازا اور اپنے آپ کو ماں کا محافظ قرار دیا ان کا تاریخی پس منظر جاننے یا پڑھنے کا تو شاید آپ کے پاس وقت نہ ہو، لیکن اب میری گزارش ہے کے کسی اپنے صاحب علم سے ایک دفعہ رہنمائی ضرور لیجیے گا

سردار الیاس خان کے ماضی سے لوگوں کو روشناس کرواتے ہوے آپ یہ بتانا بھول گئے کہ جب الیاس خان اپنی محنت سے کامیابی کے زینے چڑھ رہا تھا تو اسی دوران اس نے آپ کے گرد و نواح میں آپ کے عزیز و اقارب کم وپیش جن کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ ہے کیسے ان کو غربت و افلاس کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکالنے میں مدد فرمائی جہاں آج ہر سو زندگی ہے،

خوشیاں ہیں، امیدیں ہیں ،محلات ہیں، گاڑیاں ہیں،  ان سب کے پیچھے بھی وہی سردار الیاس خان تھا جس کو آپ منہ بھر کے گالیاں دے رہے تھے۔

اور ویسے بھی جس قوم پرست کو وزارت عظمی یا صدارتی دوڑ میں شامل حاجی یعقوب کے پیسے مقدس تعویذ لگیں اور چوہدری مجید کا سادہ پانی بھی  زم زم لگے، اور جو آزادی پسند مسعود خان یا جنرل انور کے دس سالوں کو” اللہ کی عطا اور ریاست کی بقا” سمجھے اس کا تنویر الیاس سے یوں خفا ہونا بنتا ہے کہ جب وہ بولے تو اس کا تیس سالہ بھرم اور اخلاقیات کا دامن کھل کر لوگوں کے سامنے آے۔

یہاں نیشنلنزم کی دکان میں بالکل ایسے ہی بے گناہ انسانی جذبات و احساسات، بو ڑھے والدین کی خواہشات، گھر بیٹھی بہنوں کی آرزووں ، اور بوقت ضرورت انسانی کھال اور سروں کی تجارت اسی شدو مد سے جاری ہے، 

جس جذبہ شہادت کے تحت ڈاکٹر خالد صاحب کے سیاسی پیشرو اور اسی  پیکنگ میں دیگر معززین دو دہائیاں پہلے دکان کے باہر “لا الہ الا اللہ” لکھ کر کرتے تھے

اجڑتے اور مرتے تب بھی غریب اور نا سمجھ تھے، تب بھی گھروں میں ہماری بے بس مائیں بہنیں اپنے پیاروں کی راہ تکتی تھیں، اور آج بھی بلکل اسی طرح مظلوم انسانیت آپ کی دکان سے لٹ رہی ہے

ایسے معصوموں کی لاشوں کی بدولت اس وقت کے اسلام پسند سعودیہ، ترکی اور ملائشیا میں اپنے کاروبار سجاے بیٹھے ہیں

آپ اور آپ کے اکابرین نوجوان نسل کا فکری و شعوری قتل کر کے، منشیات کی خوفناک وادی میں نجانے کتنی ماوں کے لاڈلوں کو دھکیل کے یورپ اور امریکہ کی گلیوں میں رنگ رلیاں منا رہے ہیں

آپ کی شدت پسندی اور زور بازو پہ ناز ، مجھے بے ساختہ داعش کی یاد دلاتی ہے

میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کہ آپ کو آزاد کشمیر کے نیشنلسٹوں کا  “کامریڈ ابوبکر البغدادی “قرار دیتا ہوں۔

اور اس پار کے کشمیریوں کو بھی یہ بتانا چاہتا ہوں کے لیاقت حیات کی کسی بات کا یقین نہیں کرنا، اس لیے کے اسے آج تک شاید آپ لوگوں کی قبیلوں کا پورا تعارف نہیں،

جو آدمی اپنے پڑوس سے بلکہ اپنے ہی گھر سے وزارت عظمی کے منصب پہ بیٹھے شخص کو صرف اس لیے قبول کرنے کو تیار نہیں کہ اس کا تعلق لیاقت حیات کے قبیلے سے نہیں ہے کل کشمیر آزاد کروا کے وہ جموں سری نگر یا پلوامہ کے کسی بٹ ، میر ، چوہدری، کشمیری پنڈت، سید، ڈار ، خواجہ یا بانڈے کو پوری ریاست کا کوئی کلیدی عہدہ دینے یا ماننے کو تیار ہو گا، تو جواب ہے قطعا نہیں

اور میں پار کے کشمیریوں کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہوں کے وہ اپنی یہ غلط فہمی دور کر لیں کے لیاقت حیات نامی شخص کشمیر جنت نظیر کی آزادی کے لیے کوئی انقلابی یا سر پھرا مجاہد ہے

میرے پیارے کشمیریو
مجھ سے قسم لے لو

لیاقت حیات ہماری طرح ایک متعصب اور متشدد راجہ ہے، سدھن ہے ،ملدیال ہے، کیانی ہے ،اعوان ہے،

برادری کے علاوہ اس کے سب دعوے جھوٹ اس کے وعدے فراڈ، اس کے عہد وپیماں دھوکہ، ہیں
عوام الناس سے میری گزارش ہے حالات کو پر امن رکھیں، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں، اس وطن سے پیار کریں اور کسی بھی قسم کے گروہی یا فروہی اختلافات سے خود بھی اور اپنے بچوں کو دور رکھیں۔

اور ویسے بھی وطن پرستی یا دفاع وطن کے لیے ہمیں کسی سے رہنمائی کی قطعا ضرورت نہیں جس تھوراڑ کو لیاقت حیات اور ہمنواوں  نےتختہ مشق بنایا ہوا تھا ابھی تین دن پہلے ہمارے شیر کی طرح بہادر بیٹے جرنیل امجد نے اپنی جوانی قربان کر کے پیغام دیا ہے کے  سچ وہ جو ہم جان وطن عزیز پر نچھاور کر کے اپنے خون کی سیاہی سے لکھتے ہیں ، باقی سب انقلاب جھوٹے، نعرے جھوٹے اور نظریات اور افکار جھوٹے ہیں۔

پوری کشمیری قوم کی طرف سے  اس عظیم شہید جرنیل کے والدین کو  ہم سلام پیش کرتے ہیں،  اور جنرل امجد شہید کے راستے کو حق اور سچ جانتے ہوے ایسے ہزاروں بیٹے مائیں تیار کر کے سرحدوں پر بھیج چکی ہیں، ان کے وطن کے بارے میں جذبات اور احساسات آپ شاید کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے اور نا ہی یہ آپ لوگوں کے بس کی بات ہے،

غریب ماوں کے بیٹوں کو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے مت استعمال کریں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کی گالیوں سے بے نیاز آپ کے ستاے ہوے لوگوں کو سردار تنویر الیاس اور  سردار الیاس خان ایسے ہی زندگی کی امید دلاتےرہیں گے اور ریاست بھر میں اپنے حصے کا دیا جلاتے رہیں گے۔

اللہ کی ذات ہمارے اس عظیم خطہ ہونچھ ہر قسم کی آفات اور بری نگاہوں سے محفظ رکھے اور اس کے مکینوں اور مکانوں  کو ہمیشہ اپنی امن میں رکھے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں