اتالیق /باسط علی

خودکشی ہی کیوں؟ سانحہ فیصل آباد

حضرت طفیل بن امر الدوسی (رض) فرماتے ہیں کہ؛ ہمارے ساتھ ایک ساتھی تھے جنہوں نے نی پاک(ص) کے ساتھ مدینہ شریف کی طرف ہجرت کی۔ دوران ہجرت راستے میں بیمار پڑھ گۓ۔ بیماری کا غلبہ شدید تھا اوپر سے سفر کی تھکاوٹ بھی تھی۔ ان صاحب نے اپنے آپ کو تکلیف سے آزاد کرنے کے لئے خنجر سے اپنی نبض کاٹ دی۔ خون کے ضیاع اور نقاہت کے باعث ان کی وفات ہوگئ۔ حضرت طفیل بن امر(رض) فرماتے ہیں کہ بعد میں یہ ساتھی مجھے خواب میں آۓ تو میں نے دیکھا یہ وہی ہاتھ لٹکاۓ بیٹھے ہیں اور خوش ہیں۔ میں پوچھا اے دوست اللہ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے نبی پاک (ص) پہ ایمان لانے اور ہجرت کے توسل سے بخش دیااور عذاب دوزخ سے بچا کر جنت میں بھیج دیا۔ لیکن میرا یہ ہاتھ اسی طرح مفلوج ہے۔ اللہ نے مجھے اس تکلیف سے نجات نہیں دی کیونکہ یہ میں نے خود ہی کاٹا تھا۔ حضرت طفیل فرماتے ہیں بعد میں، میں نے یہ خواب آپ (ص) سے بیان کیا تو؛ آپ (ص) نے دعا فرمائی۔ یااللہ اسے اس تکلیف اور معذوری سے بھی نجات دے۔(صیح مسلم، میشقات جلد نمبر 3)

جو شخص اپنا قتل کرتا ہے، اس پہ عالم نزع کی وہ تکلیف تا قیامت مسلط کردی جاتی ہے۔ خود کو گولی مارنے والا شخص، خود کو تلوار سے زخم دینے والا، زہر پینے والا، گلے میں پھندہ ڈالنے والا، اپنے آپ کو سمندر اور دریا کی بے رحم موجوں کے سپرد کرنے والا، غرض کہ کسی بھی طرح خود کو قتل کرنے والا فرد تا قیامت وہ عمل دہراتا رہے گا اور تکلیف کا عذاب سہتا رہے گا۔ اسلام نے خودکشی کی موت کو حرام قرار دیا۔ بلا شبہ خود کشی کرنے والا اگر مسلمان مرا ہے تو وہ مسلمان ہی رہے گا اور مرنے کے بعد ایک عرصے تک شاید عذاب دوزخ بھی بھگتے مگر حدیث کی روشنی میں خود کا قاتل جنت میں بھی اس نزع کی تکلیف میں مبتلا رہے گا۔

اب آتے ہیں خود کشی کے دوسرے پہلو کی جانب لوگ اپنا قتل کرتے کیوں ہیں؟ وہ کیا محرکات ہیں جس کی وجہ سے زندگی ایک بوجھ لگتی ہے؟ زندگی نما پنجرے سے خود کو آزاد کروا کر موت کو گلے لگانا بہتر تصور کرتا ہے۔ بحثیت مسلمان ہر فرد کا یوم آخرت پہ ایمان ہے کوئی بھی مسلمان یوم آخرت اور مرنے کے بعد جی اٹھنے والی زندگی پہ ایمان رکھنے والا مومن، خود کشی کو کبھی بھی مسائل اور مشکلات سے آزادی کا ذریعہ نہیں سمجھتا۔ زندگی سے اکتاہٹ اور بیزارگی کا سبب غربت، محکومی، یا بیماری کی تکلیف یا مشکل و مسائل ہی نہیں۔ سوئیزرلینڈ بظاہر ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ملک ہے۔ جس میں غربت اور افلاس نامی کسی چیز کا وجود ہی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس ملک میں خودکشی قانونی طور پہ جائز ہے۔ کوئی بھی فرد اگر موت کو گلے لگانا چاہتا ہے، وہ عدالت میں درخواست اور ایفی ڈیوٹ دے گا۔ بعد ازاں اسے زہریلے انجکشن یا اوورل پوائزن سے اپنی منشاء سے ہلاک کردیا جائے گا۔ مطلب دنیا کی خوشحال اور امیر ریاستوں میں بھی خود کشی ایک مقبول اور قانونی فعل ہے۔ زندہ رہنے کی خواہش کا انسداد غربت، افلاس، معذوری، بیماری، زندگی کی مشکلات اور مصائب جیسے محرکات نہیں ہیں۔

دراصل زندگی احساس کے بل بوتے پہ رنگین اور خوب صورت ہوتی ہے۔ جب احساس کو ٹھیس پہنچے تو زندگی ویران ہو جاتی ہے۔ ایک ارب پتی، کوٹھی، بنگلے، گاڑی نوکر چاکر اور کاروبار کا مالک جسے ہر زندگی کی آسائش میسر ہو۔ لیکن اس کی اولاد نا فرمان ہو تو احساس کو چوٹ لگے گی۔ زندگی میں غم آئیں گے۔ میاں بیوی پڑھے لکھے، خوب صورت، نوجوان اور برسر روزگار ہیں لیکن ایک دوسرے کی عزت نہیں کرتے تو دونوں کے مابین لڑائی جھگڑے فتنے فساد ہوں گے۔ دونوں لوگوں کے سامنے تماشا بنیں گے۔ دونوں کے لئے زندگی کا ہر دن بسر کرنا مشکل ہو گا۔ سانس بہو کی کیمسٹری مس میچ کا شکار ہے تو خمیازہ دونوں خاندانوں کو بھرنا پڑتا ہے۔ تاہم افسردگی سب کا مقدر ٹھہرتی ہے۔

خواہشیں بڑی ہیں مگر انہیں شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے سرمایہ یا وسائل نہیں۔ تنگدستی اور غربت بھوک اور افلاس میں کٹنے والی زندگی، مایوسی کا غلبہ، جینے کی امنگ دم توڑ دیتی ہے۔ احساس کو گزند پہنچے تودنیا قید خانہ لگتی ہے۔ سانحہ فیصل آباد بھی ایک ایسے ہی خستہ حال اور زمانے کے ستاۓ ہوۓ خاندان کی کہانی ہے۔ جنہیں ایک مطمئن اور مکمل زندگی کی تلاش تھی۔ ایسی زندگی میسر نہ آنے کی صورت میں پورا خاندان فنا ہو گیا۔ اصل میں وہ باپ تین نفوس کا قاتل ہے۔ حالات جتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں، زندگی میں جتنی بھی مشقتیں تکالیف ہی کیوں نہ ہوں،حرام موت مرنے سے مشکلات بھری زندگی گزارنا بہتر ہے۔ اسلام بہترین، قناعت پسند اور مطمئن زندگی گزارنے کا مکمل ضابطہ حیات معیہ کرتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے۔تمھارے لئے نبی پاک (ص) کی سیرت ایک بہترین اسوہ حسنہ ہے۔ آپ (ص) کے فقر کا عالم یہ تھا کہ گھر میں کئی کئی روز فاقہ رہتا، چولہا نہ جلتا۔ اس کے باوجود خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوئے۔ اور ہمہ وقت خدا کے شکر گزار رہے، سادگی اور قناعت سے مزین زندگی گزاری۔ سخاوت کا عالم کوئی بھوکا اور سوالی گھر سے خالی نہیں جاتا۔ اگر گھر میں کچھ میسر نہ ہوتا تو سوالی کو کسی اور صحابی کے گھر میں بھیج دیتے۔ گھر میں مختصر سامان اور چند ضرورت کی چیزیں۔ نہ ہی ضرورت سے زیادہ کی خواہش کی اور نہ ہی مال و متاع جمع کیا۔ خاندان کےافرادکے ساتھ بچوں اور بڑوں رفقاء کار، عزیر واقارب و رشتہ داروں سے بہتر حسن سلوک سے پیش آتے۔ غلاموں سے یتیموں مسکینوں، بیواوں حتی کہ جانواروں سے کس طرح پیش آنا ہے؟ آپ (ص) نے نہ صرف ہدایات دیں بلکہ خود کر کے دکھایا۔

شعب ابی طالب سمیت کفار کے بےشمار مظالم کا دیدہ دلیری سے سامنا کیا اور بتایا کہ ایسے وقت میں کس طرح صبر کا دامن تھامے رکھنا ہے۔ آپ ص کی آل پہ مظالم ڈھاۓ گے۔ آل حسین پہ کس قدر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے تڑپتے بچے اور دشمنوں کے ظلم۔ خاک و خوں میں لت پت لاشے سامنے پڑے مگر خالق کائنات سے کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ قدرت کا امتحان سمجھ کر سب کچھ ثابت قدمی سے برداشت کیا۔ یہ وہ اسوہ حسنہ تھا جس میں آپ ص نے سب کچھ خود کر کے دکھایا۔ مسلمان اللہ پہ ایمان رکھتا ہے جو کبھی فکر معاش، روزی، رہائش یا کسی بھی مصیبت کے پیش نظر مایوس ہو کر زندگی کا خاتمہ نہیں کرتا۔ ہر مومن کا ایمان ہوتا ہے کہ اللہ بہترین مسبب الاسباب ہے۔ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے یقینا ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔(القرآن)

خود کشی کرنے یا بچوں کو رزق کی پریشانی کے پیش نظر کرنے والے افراد بلاشبہ کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔ جو توکل اور تیقن سے محروم ہوتے ہیں۔ ان اللہ کے غفور ورحیم ہونے رزاق و غفار ہونے غرض کے بے شمار صفات پہ یقین و ایمان نہیں ہوتا۔ حالات جتنے بھی ناسازگار کیوں نہ ہوں۔ زندگی کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو ایسی زندگی صبر واسقامت سے گزارنا حرام موت مرنے سے بہتر ہے۔ بے شک آخرت میں اس صبر کا بہتر اجر ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں