چٹان/ عائشہ نور

غلط بیانیاں

چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے فرمایاہے کہ ” ہم ‏کسی ملک کےخلاف نہیں ہیں ،امریکہ سےکوئی مخالفت نہیں ہے،امریکہ سےدوستی چاہتےہیں مگرغلامی کسی کی نہیں کریں گے”۔ یقیناً عمران خان کے جذباتی مداح ان کے اس بیان پر داد دیں گے کیونکہ پرانی باتیں جلدی بھول جانا ہمارا قومی المیہ ہے۔ ابھی چند ماہ قبل ہی عمران خان نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران ایک کاغذ کا ٹکڑا لہراتے ہوئے ارشاد فرمایا تھاکہ”ان کے خلاف سازش کی گئی ہے اور یہ دعویٰ کیا تھاکہ” یہ ایک دھمکی آمیز امریکی خط ہے”۔ عمران خان نے مکمل طورپر غلط بیانی سے کام لیااور اسی خط کی بنیاد پر عمران خان نے “امریکی رجیم چینج آپریشن” کا فرضی بیانیہ بنایا اور اسی بیانیے پر اپنی ” حقیقی آزادی تحریک ” کی بنیاد رکھی ،اور PDM جماعتوں پر غدار ہونے کا الزام بھی عائد کیا، قوم نے عمران خان کی باتوں میں آکر ڈی جی آئی ایس پی آر بابر افتخار کی تمام تر وضاحتیں بھی نظرانداز کردیں ، میرے کپتان آپ کی سوشل میڈیا ٹیم نے ہمیں سازش اور مداخلت میں فرق کی لاحاصل بحث میں الجھائے رکھا، لیکن جب PDM وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری نے جب امریکہ میں بیٹھ کر آپ کےدورہ روس کا دفاع کیا تو میرے خیالات یک دم پلٹا کھانے لگےکہ کہیں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان کے بیانات محض جلتی پر تیل ڈالنے کےلیے تو نہیں تھے؟؟؟

برسبیل تذکرہ بتاتی چلوں کہ عمران خان نے متعدد مرتبہ روس کے ساتھ سستے تیل کا معاہدہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا ، جبکہ روسی قونصل جنرل نےاس کی تردید کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ” انہیں ایسے کسی معاہدے کا علم نہیں ہے”۔بہرحال قصہ مختصر یہ کہ عمران خان نے اپنی حقیقی آزادی تحریک کی بنیاد ہی امریکہ پر سازشی خط اور رجیم چینج آپریشن جیسے من گھڑت اور بےبنیاد الزامات​ پررکھی تھی ، پھر لوگوں کو “ڈونلڈ لو “کے پیچھے لگادیاگیا اور یہ بات نظر انداز ہوتی چلی گئ کہ دراصل کسی امریکی عہدیدارنے کوئی خط لکھا ہی نہیں تھا بلکہ وہ خط امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر “اسد مجید “نے لکھاتھا۔ اور یہ خط محض ایک طرح کی ” تجزیاتی رپورٹ”تھی جو امریکی حکام سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد اسد مجید نے لکھاتھا۔ شاید یہ ہی وجہ تھی کہ اسٹیبلشمنٹ نے امریکہ کےلئے نرم رویہ برقرار رکھا اور عمران خان کے امریکہ مخالف بیانیے کی حمایت سے گریز کیا۔ مگر ضد میں آکر عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بری طرح بگاڑ لیے۔ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہوا میں لہرا کر جس طرح عوام کے جذبہ حب الوطنی کا فائدہ اٹھایا گیا

اور انہیں بیوقوف بنایا گیا،اس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا بیانیہ افواج پاکستان اور عوام میں دوریاں پیدا کرنے کا سبب بھی بنا ، فوجی قیادت کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ بھی کیاگیا ۔ محض کاغذ کے ایک ٹکڑے نے جو خطرناک وار کیا ، وہ آج تک ہمارا ازلی دشمن بھارت بھی نہ کرسکا۔ مجھے PDM جماعتوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ، ان کی سیاسی قیادت نے کرپشن کی جو داستانیں رقم کی ہیں ، ان کے سبب ہر محب وطن پاکستانی میں شدید بیزاری پائی جاتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ صورتحال ایسی ہوچکی ہے کہ جب PDM کی درست بات بھی غلط اور عمران خان کی غلطی بھی درست سمجھی جارہی ہے ۔ عوامی مقبولیت کی لہر پر سوار عمران خان سیاہ کریں یا سفید ، عوام کو ان پر اندھا اعتماد ہے۔ حتیٰ کہ شہباز گل نے جو ہرزہ سرائی کی ، اس کی سنگینی کو بھی عمران خان کے عقیدت مندوں نے نظرانداز کردیا۔ عمران خان نے ایک بےبنیاد بیانیہ اپنایا ہوا ہے،جس نے کرپٹ سسٹم کے خلاف جدوجہد سے قوم کی توجہ مکمل طورپر ہٹادی ہے۔

عمران خان نے کم وبیش وہی غلطیاں دہرائیں ، جو محترمہ بینظیر بھٹو کیلئے باعثِ​ زحمت تھیں اور نوازشریف کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی رہیں ۔ محترمہ بینظیر بھٹو بھی اپنے وقت میں عمران خان کی طرح مقبول سیاسی راہنما تھیں ۔ مگر مقبولیت کے زعم میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے لڑائیاں مول لے کر ہمیشہ سیاسی نقصان اٹھایا اور ان کے مدمقابل نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ سے خوشگوار روابط استوار کرکے ہر موقع پر سیاسی ثمرات پائے۔ عمران خان کا بیانیہ شیخ مجیب الرحمٰن کے متعلق نوجوان نسل کی سوچ بدل رہا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ شیخ مجیب الرحمٰن کا اقتدار نہ ملنے کوجواز بناکر ملک توڑ دینا بھی یقیناً غداری تھی ۔ خبریں ہیں کہ پی ٹی آئی نے چھ ماہ کیلئے امریکی فرم / کمپنی ” Fenton Arlook LLC “کی خدمات 25ہزار ڈالر ماہانہ کے عوض حاصل کرلیں جوکہ مختلف امریکی میڈیا فورمز کےذریعے پی ٹی آئی کا تشخص امریکہ میں بہتر بنانے کیلئے کام کرےگی تاکہ عمران خان کے ” Anti America “ہونے کے تاثر کی نفی کی جاسکے۔ مذکورہ امریکی فرم کے مالک ” David Fenton” پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے شدید مخالف سمجھےجاتے ہیں۔ سوال یہ ہےکہ جو لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ برطانیہ کے خلاف گمراہ کن افواہ سازی کرتے رہے

انہوں نے عمران خان کے امریکی فرم سے معاہدےکا تذکرہ کیوں نہیں کیا؟ اب تو عمران خان کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوچکا ہے اور وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کےلیے آمادہ نظر آتے ہیں ، ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہ اپنے کارکنان کے سامنے برملا اعتراف کرکے انہیں ” حقیقی آزادی ” جیسی نرگسیت سے باہر لانا اپنے سیاسی مفاد میں نہیں سمجھتے۔ ‏امریکی سفیر”ڈونلڈ بلوم”کادورہ خیبرپختونخواہ اور وزیراعلیٰ محمود خان سےملاقات اور وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی امریکی قونصل جنرل “ولیم میکانیول”سےملاقات اس وقت موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔

یہ چہ میگوئیاں بھی ہورہی ہیں کہ کیا عمران خان اپنی دونوں صوبائی حکومتوں کےذریعے امریکہ کے ساتھ بہتر روابط استوار کرنے پر کام کررہے ہیں؟ ساتھ ہی یہ بھی پوچھنا تھا کہ کیاایسی ملاقاتوں کے نتیجے میں پی ٹی آئی وزرائے اعلیٰ کو انصافینز کی طرف سےغلام ہونے کی سند مل چکی ہے یامطلوبہ اعزاز فی الحال صرف سیاسی مخالفین کےلیے ہی دستیاب ہے ۔ کیا پی ٹی آئی بھول گئ ہے کہ ایسی ہی ملاقاتوں پر وہ ماضی میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف امریکی غلامی اور غداری کے فتوے بانٹ چکے ہیں۔ جب اپنی باری آئی تو پرو پی ٹی آئی میڈیا اور صحافیوں نے اس معاملےپر کوئی سوال ہی نہیں اٹھایا۔کیا چئیرمین تحریک انصاف عمران کے اپنے اور دوسروں کےلیے​معیارات الگ الگ ہیں؟ عمران خان کے کارکنان بھی یاد رکھیں حقائق سے چشم پوشی کرکے کرپٹ سسٹم کے خلاف جنگ کبھی نہیں جیتی جاسکتی ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں