نقطہ نظر/عزرہ یوسف

آزاد کشمیر کے حالات اورسیاستدانوں کی بے حسی

آزاد کشمیر کے سیاسی و معاشی حالات اس وقت ہر محب وطن کشمیری کے لئے انتہائی پریشان کن اور افسردہ کرنے والے ہیں۔ ملکی اور قومی سطح پر جن لوگوں نے فیصلے کرنے ہیں وہ اپنی موج مستی میں مصروف عمل ہیں اورعوام اپنے مسائل اور پریشانیوں سے تنگ آ کرسڑکوں پر نکل آئے ہیں۔گذشتہ پچھتربرسوں سے جو عوام کبھی دھرنوں، بھوک ہڑتال اور حکومت کے خلاف اتنے شدید ردعمل سے کھڑی ہونے کے لئے تیار نہ ہوسکی اسے اس حکومت کی نا اہلی اور ظلم نے ایک سال میں اس نہج پر لا کھڑا کر دیا کے یہی عوام اپنے ہی اداروں کے خلاف نعرے بازی، جلاؤ گھیراؤ پر اُتر آئی۔

کچھ لوگ سوچتے ہوں گے کہ ہماری عوام باشعورہو گئی ہے۔ہو سکتا ہے کسی حد تک درست ہو کے یہ شعور ہی تو ہے کہ عوام اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف کھڑے ہوگئی ہے لیکن میں حیران ہوں کے یہ عوام اس وقت کہاں ستو پی کر سو جاتی ہے جب انہی لیڈروں کو منتخب کرنے کا وقت آتا ہے۔اس عوام کو اُس وقت یہ سوچ کیوں نہیں ہوتی کے یہ ایک مخصوص طبقہ صرف اپنے اقتدار اومفادات کا پجاری ہے انھیں ہردورمیں اسی عوام کی حمایت درکار ہوتی ہے جو جذباتی اور نعرے باز ہوں۔شخصیت پرستی پر فخر کرتے اور جمہوریت کے نام پر فریب کھانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں۔

حالات کاتقاضہ ہے کہ یہ عوام اب مزید ان سیاسی بھیڑیوں سے دھوکہ نا کھائے بلکہ خود کو تبدیل کریں کیونکہ جس دن سے ہمارے ملک کے عوام ٹھیک ہونے کا تہیہ کریں گے اُ سی دن سے کشمیر کے حالات بدلنا شروع ہوجائیں گے۔چند خاندانوں کی اجارہ داری نے اس ملک کے لاکھوں لوگوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ملک کی عوام کو بے چینی اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے۔ ملک کی بدصورت سیاست نے قومیت کو تارتار کر دیاہے۔اندرونی و بیرونی سازشوں سے ملک دشمن عناصر کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ہمارے پاس پورے کشمیر میں اس وقت ایک رہنما بھی ایسا نہیں ہے جو سیاسی بصیرت رکھتا ہو جوکشمیری عوام کواوراس ملک کو صحیح سمت عطا کرے۔

بد قسمتی سے جتنی سیاہ اس ملک کی سیاست ہے اس سے بھی سیاہ ترین ہمارے اداروں کی تال میل ہے جو ملکی مفادات کو پس پشت ڈال کرذاتی پسند و نا پسند کا خیال رکھتی ہے۔تقسیم شدہ اور بکھری ہوئی قوم ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف ہوا دینے میں مصروف رہتی ہے اور اب سوشل میڈیا اس آگ کو بھڑکانے میں پٹرول کا کام دیتی ہے۔ نفرت سے لبریز قومیں ایک دوسرے کی گردنیں اُتارنے کے درپے رہتی ہیں۔ ان کے لئے ملک و قوم کی اقتصادی ترقی اور سماجی حالات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب وقت آن پہنچا ہے کے عوام خواب غفلت سے جاگ اُٹھیں اور آپسی معاملات و ذاتی رنجشوں کو بھول کر ایک قوم بن کر نکلیں۔حکمرانوں سے کسی قسم کی توقع رکھنے کی بجائے اپنی تقدیر خود بدلنے کے لئے خوش کے ناخن لیں۔غافل نہ بنیں وگرنہ غافل کی آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب بند ہونے کے قریب ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں