اتالیق /باسط علی

”باغ ٹو فارورڈ کہوٹہ” وہ وہیں گاڑی رکوا کر اتر گیا۔ شاید بے بسی کے آنسو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ہائی ایس گاڑی مسافروں سے بھری تھی، جس میں خواتین بچے نوجوان اور عمر رسیدہ شہری سوار تھے۔ ڈرائیور جو گاڑی کا مالک بھی تھا، اس کا لڑکپن جوانی اور اڈھیر پن اسی روٹ پہ سواریاں ڈھوتے گذرا تھا۔ کسی زمانے میں یہ کسی بس کا کلینر ہوا کرتا تھا۔ قریبا تیس سال پہلے کسی بیڈ فورڈ بس پہ چند روپے دھیاڑی پہ کلینری کیاکرتا تھا۔ اس دور میں ان بسوں پہ ایک استاد جی ہوا کرتے تھے جو قدرے مہذب شخصیت کے حامل فرد تھے۔ ان کے علاوہ گاڑی کے سٹاف میں ایک یا دو کلینر ہوتے تھے جن کی جاب ڈیوٹی گاڑی دھونا،صفائی کرنا، گاڑی ہر لحاظ سے اپ ٹو ڈیٹ رکھنا، سواریوں کو مختلف اسٹاپس پہ اتارناچڑھانا، خواتین سواروں کو جگہ خالی کروا کے دینا اور سواریوں کا لگیج چڑھانا یااتارنا ہوا کرتا تھا۔ کلینر اس دور میں ایک عام ملازم کی حیثیت رکھتا تھا۔ جس طرح ایک دفتر میں ایک چپراسی اختیارات رکھتا ہے۔

کلینر کے علاوہ بس کے ایک نائیک جی بھی ہوا کرتے تھے جو اس پوری سلطنت کے بادشاہ گردانے جاتے تھے۔ یہ از خود کرایہ وصول کرتے تھے، جمع شدہ آمدن سے استاد جی اور کلینروں کو دھیاڑی دیا کرتے تھے۔ نائیک کے سر پہ شہنشاہیت کا غرور بانکپن ہمیشہ ٹپکتا رہتا تھا۔ ان کی شخصیت میں انا و غرور کے علاوہ جہالت اور بدزبانی کی بھی واضح اور باکثرت آمیزش ہوتی تھی۔ اپنے روٹ کےحریف بس مالکان سے لڑائی جھگڑا کرنا، غریب سواروں کی ڈانٹ ڈپٹ کرنا اور کلینروں کو الٹی سیدھی گالیاں دی کر سرداری کا رعب جمانا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا تھا۔
زمانہ بدلا بسوں کا دوراپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ غریب ڈرائیور بھی کلینر سے ترقیاب ہو کر استاد جی بعد ازاں نائیک جی کے عہدے پہ براجمان ہوۓ۔ اپنی پچاس سالہ حیاتی میں یہ عام معمولی سے ٹرانسپورٹ ورکر سے ایک چھوٹی سی ٹرانسپورٹنگ کمپنی کا ملک بن چکا تھا۔

اس کا یہ آمدورفت کا کاروبار تین ہائی ایس گاڑیوں پہ مشتمل تھا۔ ہر گاڑی روزانہ چار سے پانچ ہزار روپے کما کہ دیتی تھی۔ مگر روزانہ کی دس پندرہ ہزار کمائی یوں ہی نہیں آجاتی تھی اس کے پیچھے تیس سالہ محنت کارفرما تھا۔ استاد جی کے سفید بالوں میں تین ادوار کی تلخ یادوں پہ مبنی کئ داستانیں پنہاں تھیں۔ اس میں وہ تاریک دور بھی شامل تھا جب یہ نوجوان خوب صورت، زورآور، صحت مند اور ڈھیل ڈھول والا تھا. مگر اس بہار شباب میں یہ انتہائی بے بس اور بے کس تھا۔ جب چند روپوں کے عوض اسے قدم قدم پہ بے عزت ہونا پڑتا تھا۔ استاد جی نے وہ دور بھی دیکھا جب اس نےمسند ڈرائیوری سنبھالی۔ جہاں اسے عزت و اکرام سے تو نوازا گیا مگر پھر بھی تنخواہ اور ڈھیاڑی کے لئے مالک کی خوشنودی حاصل کرنا ملزوم تھی۔ اس نے وہ وقت بھی دیکھا جب اس کے پاس مالک کے اختیارات تھے۔ یہ دوسرے لوگوں کو کام دیتا تھا۔ جب لوگ اس کے لئے کام کرتے۔

گاڑی منزل کی طرف رواں دواں، موسیقی سے استاد جی اور سوار برابر لطف اندوز ہو رہے تھے۔ چلتے چلتے استاد کی نظر ایک نوجوان پہ پڑی جو حلیے سے کوئی مزدور معلوم ہوتا تھا۔ یہ جیرو تھا جو کرایہ نہ ہونے کے باعث پیدل چل رہا تھا۔ استاد نے گاڑی روک کر جیرو کو سوار ہونے کا اشارہ کیا۔جیرو ایک پینتیس سالہ نوجوان تھا۔ حلیے سے کم پڑھا لکھا مزدور ٹائپ معلوم ہوتا تھا۔ جیرو کا پورانام زبیر احمد تھا۔ دیسی زبان میں اسے ہانکڑی لگانے والا کہا جاتا تھا، یہ کسی سٹاپ پہ کھڑاہو کر آواز لگاتا، سواریاں اکٹھی کرتا۔ اکٹھی سواریاں کسی گاڑی کو دیتا اور اس سے فی سواری بیس تیس روپے کمیشن لیتا۔ اس کے علاوہ کسی برساتی نالے کے قریب کپڑا صابن اور سرف لے کر بیٹھ جاتا اور گاڑیاں دھو کر کچھ کما لیتا۔ جیرو اکثر پیدل سفر کرتا پیدل چلتے کوئی رحم دل ڈرائیور از راہ مروت اسے گاڑی پہ بیٹھا لیتا۔ استاد جی نے بھی ترس کھاتے ہوۓ اس غریب پہ کرم نوازی کی اور فرنٹ پہ چھوٹی سیٹ پہ جگہ دی۔

گاڑی منزل کی طرف رواں دواں تھی، مخالف سمت سے ایک دوسری ہائی ایس گاڑی آرہی تھی۔ یہ بِلَا ہے،استاد نے جیرو سے پوچھا؟ اور خود ہی بِلَا کو گندی سے گالی دی۔ سالا روز ہمارا ٹائم کھا جاتا ہے۔ استاد نے بِلے کو ہارن دے کر رکنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی ساتھ رکی تو استاد نے دو چار گالیوں سے بلے کو خوش آمدید کہا۔ تم ہماری دوسری گاڑی کا روز ٹائم کھا جاتے ہو۔ ساری سواریاں تم اٹھا لیتے ہو اور ہمارا پھیرہ کھوٹا کرتے ہو۔ استاد جی آپ کا اور ہمارا روٹ الگ ہے، آپ کہوٹہ جاتے ہیں۔ ہم بھیڈی کا ٹائم چلاتے ہیں، بلے نے جواب دیا۔ اسی تو تراں کے تکرار میں استاد آگ بگولا ہو گیا۔ اور گاڑی سے باہر آگیا، بلے کو گریبان سے نوچ لیا۔ منہ سے گالیوں کے خرافات بکنے لگا۔ دونوں گاڑیوں کے کلینر بھی اپنے اساتذہ کی اعانت کو آن پہنچے۔ آس پاس کے راہ گیر اور گاڑی کی سواریاں بھی باہر آگئ۔ جن کی مداخلت سے بلے کی تقسیر معاف ہوئی۔ استاد کو واپس گاڑی میں بٹھایاگیا۔

استاد کے چہرے پہ حسب معمول غیض و غضب کے تاثرات عیاں تھے۔ منہ سے بدستور گالیوں کے خرافات اور دھمکی آمیز کلمات جاری تھے۔ ہونٹوں کے کناروں سے لعاب کی رالیں ٹپک رہی تھی اور گنجے سر پہ پسینہ پھوٹ پڑا تھا۔ کچھ دیر بعد دونوں مخالف سمتوں میں روانہ ہو گے۔ جیرو سارہ جھگڑا غور سے دیکھ رہا تھا۔ استاد تھوڑا ٹھنڈا ہوا تو جیرو بولا۔
استاد جی پیڈرو استاد کو جانتے تھے۔ ہاں جیرو جانتا تھاجن کی دو بیڈفورڈ بسیں تھیں۔ ایک بس حادثے میں بری طرح زخمی ہوگۓ تھے۔ دوسری بس بھی ان کا علاج معالجے اور اولاد کی کفالت کی نذر ہو گئی تھی۔ جیرو نے سرد آہ بھری اور بولا پیڈرو استاد میرے والد تھے۔ کسی دور میں بلا ہماری بس کا کلینر ہوتا تھا، آج بلا کہاں ہے اور ہم سڑکو ں پہ ہانکڑی کرتے ہیں۔ جیرو کے آنسو نکل گۓ۔ استاد جی وقت بدلتے ٹائم نہیں لگتا، سب عارضی ہے۔ یہ غربت یہ امارت، مالک غلام کوئی ابدی عہدہ و مرتبہ نہیں۔ سب فانی ہے۔
صبح کے تخت نشیں شام کے مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
وہ وہیں گاڑی رکوا کر اتر گیا۔ شاید بے بسی کے آنسو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں