برج خلیفہ کے گرد پانچ عمارتوں کو چھوتا ہوا سرکل بنانے کی تجویز

دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کے گرد پانچ عمارتوں کو چھوتا ہوا سرکل بنانے کی تجویز سامنے آئی ہے۔دبئی کی آرکیٹیکچر فرم کے مجوزہ ڈیزائن کو ’ڈاؤن ٹاؤن سرکل‘ کا نام دیا گيا ہے۔ یہ 500 میٹر اونچا اور تین کلو میٹر طویل ہوگا۔

ڈیزائن کا تاثر برج خلیفہ کی لمبی عمارت کے گرد انگوٹھی کے جیسا ہے، اس سرکل میں وادیاں، ٹیلے، پودے، درخت، غار، پھول، گرین بیلٹ ،آبشاریں بنانے کا ڈیزائن تیار کیا گیا ہے۔تعمیراتی ماہرین کے تجویز کردہ منصوبے اور ڈیزائن کے تحت برج خلیفہ کے گرد گول دائرے کی شکل میں 3 کلومیٹر سرکم فرینس والا یہ اسٹرکچر پانچ بڑے کھمبوں کی مدد سے بنایا جائے گا جس سے شہر کی اسکائی لائن کا نقشہ ہی بدل جائے گا۔

ڈاؤن ٹاؤن سرکل نامی اس ڈیزائن کے ذریعے پانچ دیوقامت کھمبوں کی مدد سے 500 میٹر اونچی ایک ایسی گول رنگ تعمیر کرنے کا ڈیزائن بنایا گیا ہے جو دبئی شہر کے پورے ڈاؤن ٹاؤن کو اپنے حصار میں لے لے گی۔دبئی کی آرکیٹیکٹ فرم زنیرا اسپیس سے منسلک آرکیٹیکٹ نجمس چوہدری اور نیلس ریمیس کا تیار کردہ یہ ڈیزائن دبئی ڈاؤن ٹاؤن اور برج خلیفہ کو ایک نئی اور دلفریب کشش سے مزین کر دے گا۔

گول رِنگ کا ڈیزائن بنانے والے آرکیٹیکٹ نجمس چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ کتنا قابل عمل ہوگا؟ اس پر کتنی لاگت آ سکتی ہے؟ ان تمام تفصیلات میں جائے بغیر میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ بہت وقت طلب منصوبہ ہے، اس کیلئے بہت زیادہ افرادی قوت اور وسائل درکار ہو سکتے ہیں اور اس طرح کے منصوبوں کیلئے بہت ہی زیادہ کنسٹرکشن ٹائم اور انجنیئرنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ڈیزائن میں بڑی رنگ، پانچ دیو قامت کھمبوں کی مدد سے تعمیر کی جائے گی لیکن یہ کھمبے خود بھی دو گول رنگز کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہونگے جسے گرین بیلٹ بنایا جائے گا اور اسے اسکائی پارک کا نام دیا گیا ہے۔

بڑی رنگ پانچ دیو قامت کھمبوں کی مدد سے تعمیر کی جائے گی لیکن یہ کھمبے خود بھی دو گول رنگز کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہونگے جسے گرین بیلٹ بنایا جائے گا اور اسے اسکائی پارک کا نام دیا گیا ہے — فوٹو: زنیرا اسپیس
انہوں نے بتایا کہ اس اسکائی پارک میں مختلف فطری مناظر، موسم اور آبہوا بنائی جائیں گی تاکہ اس رنگ کے رہائشی اور سیاح ماحولیات کو محسوس کر تے ہوئے حقیقی تجربہ حاصل کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈیزائن کے مطابق گرین بیلٹ گھومنے والے لوگ پہاڑی وادیاں، ریتیلے صحرا، مختلف درخت، پھول اور پودے، دلدل، آبشار، ڈجیٹل غار، پھلوں اور پھولوں سے لدے درخت اور مختلف انواع و اقسام کے جانداروں کو دیکھ اور محسوس کر سکیں گے۔

انہوں نے بتایہ کہ مذکورہ ڈیزائن دراصل دو سال پہلے دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ ڈیزائن کے ایک مقابلے میں شرکت کیلئے بنایا گیا تھا اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہمارہ ڈیزائن شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں