باپ نے تیسری بیٹی پیدا ہونے پر ایک سالہ بچی کو زمین پر پٹخ کر مار ڈالا

بیٹیاں پیدا کرنا جرم بن گیا گوجرانوالہ میں سفاک باپ نے تیسری بیٹی پیدا ہونے پر ایک سالہ بچی کو زمین پر پٹخ کر مار ڈالا۔قبل از اسلام دور جہالت میں بیٹیوں کو زندہ دفنا دیا جاتا تھا لیکن آج بھی ہمارے معاشرے میں جہالت کے پروردہ ایسے لوگ موجود ہیں جو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہوئے انہیں درندگی سے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں کچھ ماہ قبل ایک شخص نے اپنی چند ماہ دن کی بچی کو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا اب گوجرانوالہ میں ایسا ہی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پنجاب کے شہر پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں تیسری بیٹی کی پیدائش پر شوہر نے پہلے بیوی سے جھگڑا کیا اور پھر اپنی ایک سالہ بیٹی نور فاطمہ کو زمین پر پٹخ کر مار ڈالا۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے۔معاشرے میں بچیوں اور خواتین کیخلاف بڑھتے تشدد کے محرکات پر اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’باخبر سویرا‘ میں معروف سماجی کارکن فرزانہ باری نے گفتگو کرتے ہوئے ایسے واقعات میں اضافے کو معاشرے میں خواتین سے متعلق دہرے معیار کی سوچ اور جزا وسزا پر عملدرآمد نہ ہونے کو قرار دیا۔

فرزانہ باری نے کہا کہ ریاست اور سماج ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں جو پدر شاہی سوچ ہمارے سماج میں ہے وہی ریاستی ادارورں میں ہے ہمارے قوانین دیکھیں تو وہ بھی خواتین کو دوسرے درجے کا شہری بناتے ہیں، ہر شعبے میں اس صنف کے ساتھ دوسرے درجے کا رویہ رکھا جاتا ہے، سماج کو پہلے ہی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، مرد کیلیے یہ تصور کرلیا گیا ہے کہ وہ باہر جائے گا اور کمائے گا جب کہ خواتین کو صرف گھر میں رہنے اور بچے پالنے کی ذمے داری دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کی یہی دہری سوچ خواتین کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ ہے، اسی سوچ کی وجہ سے جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو خوشیاں منائی جاتی ہیں کہ بڑا ہوکر سہارا بنے گا اور کمائے گا جب کہ بچی پیدا ہوتی ہے تو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔فرزانہ باری نے مزید کہا کہ ہمارا سماج خواتین کو مساوی مقام نہیں دیتا لیکن جہاں اور جب موقع ملا تو انہوں نے اپنا نام بنایا، ماحول میں کچھ بہتری آرہی ہے ہر شعبے میں خواتین نظر آنے لگی ہیں، لیکن پدر شاہی سوچ ہر جگہ موجود ہے اسی لیے خواتین جس میدان میں قدم رکھتی ہیں ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بالخصوص خواتین، بچوں اور پسے ہوئے طبقے کے خلاف جو جرائم ہوتے ہیں ان میں نہ سزائیں ہوتی ہیں اور نہ ہی انہیں نشان عبرت بنایا جاتا ہے کہ مثال بنے اور یہی کوتاہی تشدد میں اضافے کا سبب ہے اس کی سیاسی اور سماجی محرکات بھی ہیں۔ ہمیں نظام انصاف اور جزا اور سزا کے ناپید ہوئے نظام کو موثر طور پر قابل عمل بنانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں